پیپلزپارٹی دور حکومت میں کی گئی سیاسی بھرتیوں کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ

‏سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

پیپلز پارٹی نے اپنے دوسرئے دورحکومت میں 1993 سے 1996 تک ملک کے 72 محکموں میں 16 ہزار افراد کو بغیر میرٹ کے بھرتی کیا گیا۔ اور یقین دلایا گیا کہ مرحلہ وار ترقی بھی دی جائے گی۔ اسے سیاسی بھرتی بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم بی بی کی حکومت قبل از وقت ختم ہوگئی۔ ‏

اشتہارات


Qries

چناچہ ملک معراج خالد کی عبوری حکومت نے ان ملازمین کو فارغ کردیا۔ اپیلیں دائر ہوئیں فریادیں بلند ہوئیں لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ 10 سال گزر گئے۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایکٹ منظور کرکےدوبارہ ان ملازمین کو نہ صرف بحال کردیا بلکہ مراعات دیکر ترقیاں بھی دے دیں۔

‏اس صورتحال سے محکموں میں میرٹ پر بھرتی ہونیوالے ملازمین نے مرحلہ وار سپریم کورٹ کا دروازہ کٹھکھٹایا۔ جسٹس مشیر عالم نے ایکٹ 2010 کو غیرقانونی قراد دیتےہوئے اگست 2021 میں ان ملازمین کو دوبارہ برطرف کردیا۔ جوابابرطرف ہونیوالے ملازمین نےنظرثانی کی درخواستیں دائر کردیں۔

3

رکنی بینچ ‏جسکی صدارت عمرعطا بندیال کررہے تھے 17 دسمبر کو فیصلہ سنا دیا ہے جس میں ان ملازمین کو ایک مرتبہ پھر بحال کرنیکا حکم دیا ہے۔

تاہم ایسے ملازمین جن پر کرپشن کے چارجز ہیں یا مس کنڈکٹ کے مرتکب ہیں وہ اس فیصلے کا سہارا نہیں لے سکتے جبکہ جو ملازمتیں ٹیسٹ انٹرویوز کے بعد ملتی ہیں انکے ‏قوائد و ضوابط بھی پورئے کئے جائیں تاکہ یہ معاملہ اب ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔

یہ یقیننا ایک اچھا فیصلہ ہے اور عمر عطا بندیال صاحب نے بڑئے متوازن اصول وٖضع کردیے ہیں۔

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: