غزہ میں اسرائیلی بے رحم حملوں کی ہولناکیوں کا تذکرہ کرتے مظلوم فلسطینی

حسن العطار خاموشی سے اس سرد خانے میں کھڑا تھا، وہ اپنی بیٹی لامیا اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین دیگر بچوں کی لاشوں کو گھور رہا تھا۔ ریفریجریشن یونٹ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے ، اپنے فائر مین والی جیکٹ پہنے ، اس نے اپنی بیٹی کو چومنے کے لئے سر جھکایا ۔

ایک ساتھی نے حسن کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“اس کے لئے دعا کرو۔”.

لامیا اور بچوں – (بھائی امیر اور اسلام العطار) اور محمد

العطار کو جمعہ کے روز بیت لاہیا میں راتوں رات شہید کردیا گیا ، جب اسرائیلی ہوائی جہاز نے اس مکان پر بمباری کی جس میں وہ رہ رہے تھے۔

یہ علاقہ غزہ کی پٹی میں شمالی قصبہ ، بیت ہانون اور جبالیہ کے ساتھ ، ان علاقوں میں سے ایک تھا جس کو بھاری فضائی بمباری سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ کو بھی بری طرح متاثر کیا گیا۔

صہیونی فوج کے ترجمان نے جمعہ کے روز بتایا کہ صبح سویرے کی اس کارروائی میں 160 جنگی طیارے شامل تھے جنہوں نے چھ ائیر بیس سے پرواز کی اور 40 منٹ میں ہی 150 اہداف پر مارنے کے لئے تقریبا 450 میزائل اور گولے استعمال کیے گئے۔

جوناتھن کونکریس نے کہا کہ اس حملے کا مقصد غزہ میں “زیر زمین سرنگ کے نظام” کو تباہ کرنا تھا۔

لیکن بیت لاہیا کے رہائشیوں نے الجزیرہ کے نیوز کو بتاتے ہوئے اس جھوٹ کو فاش کرتے ہوئے اور اسرائیلی بربریت کو ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ حملوں میں صرف اور صرف عام شہریوں اور عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک 40 سالہ شہری نے بتایا کہ، “ہم اس گھر کے سامنے چیخ رہے تھے جس میں لامیا اور باقی بچے موجود تھے،اور وہ ہمارے سامنے تباہ ہوگیا اور ہم کچھ نہ کرسکے۔”

“ہمارا خیال تھا کہ ہم سب مرنے والے ہیں۔ اس علاقے میں کوئی مزاحمتی جنگجو نہیں تھا اور اسرائیل نے ہر چیز پر بمباری کی ہے جہاں معصوم شہری موجود تھے۔

العطار نے بتایا کہ اس کے اہل خانہ اور اس کے بھائی کے اہل خانہ کو غزہ شہر کے شفاء اسپتال کے سامنے واقع یو این آر ڈبلیو اے اسکول پہنچنے کے لیے 8 کلومیٹر (4 میل) دور پیدل چلنا پڑا۔ انہوں نے کہا ، “ہمارے بچے ننگے فرش پر سوتے رہے۔” “ہم اپنے ساتھ کچھ نہیں لائے ، اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا مکان ابھی بھی کھڑا ہے کہ نہیں۔”

غزہ کے شمالی شہروں سے درجنوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کسی غیرت مند مسلمان ملک کی امداد کے منتظر ہیں تاکہ وہ آئیں اور آکر انہیں اسرائیلی مظالم سے بچائیں۔

العطار نے کہا ، “یہ میری زندگی میں اب تک کی بدترین جنگ ہے ، اور میں نے ایسی جنگ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔” “یہ بالکل بے رحم ہے۔”

جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں، اب تک 140 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ، جن میں 39 بچے شامل ہیں، کم از کم 830 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

صہیونی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے مجاہدین کی جوابی کارروائی سے اب تک 1،050 راکٹ فائر کیے جاچکے ہیں۔ جن میں آٹھ اسرائیلی اور ایک ہندوستانی شہری ہلاک اور 130 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔صہیونی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے غزہ پر ” اسرائیل کی ریاست میں امن کو بحال کرنے کے لئے ضرورت کے مطابق” جاری رہے گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ نیوز کے مطابق بہت سے اسرائیلی ٹینک جمعرات کے روز غزہ کی پٹی کی طرف بڑھے تھے اور اب وہ اسرائیلی باڑ سے ایک کلومیٹر دور کھڑے ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی فوج نے 16،000 کے لگ بھگ ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر بلا لیا ہے اور فوجی چھٹی پر پابندی عائد کردی۔

غزہ کی پٹی پر طلوع فجر کے دوران حملوں کے نتیجے میں متعدد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کی الوداعی پوسٹیں کردیں۔ اس دوران اسرائیلی حملوں کے دوران غزہ کے شہری بجلی کے بڑے پیمانے پر بحران کا بھی سامنا کررہے ہیں ۔

شجاعیہ کی رہائشی ضیاءوادی نے اپنے دکھ کو براہ راست ٹویٹ پر ظاہر کیا۔

“ہیلو ورلڈ ،” انہوں نے ایک موقع پر لکھا۔ “میں اور میرا کنبہ اسرائیلی توپ خانے اور جنگی طیاروں کی بمباری کا نشانہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ، “ہم نے اپنے آپ کو ایک ہی کمرے کے مختلف کونے میں تقسیم کیا ہے۔ “ہم اپنے کاغذات اور کچھ سامان رکھنے والے بیگ تھامے ہوئے ایک دوسرے کو گھور رہے ہیں۔ اب خوف ہمارے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ یہ میری پوری زندگی کا مشکل ترین اور بھاری لمحہ ہے!.

حملوں کے خاتمے کے دو گھنٹے بعد ، وادی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ صبح دیکھ سکیں۔

انہوں نے کہا ، یہاں تک کہ اگر ہم پھر کبھی سورج نہیں دیکھتے ہیں ، تو ہم سب کی شہادت یروشلم کے لئے ہے۔

بیت ہانون میں ، ایک مکمل رہائشی علاقہ فضائی بمباری سے تباہ ہوا۔ اس علاقے میں مقیم فلسطینیوں میں سے ایک ، محمد الزونی نے ، خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس علاقے میں 30 سے زائد مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا ، “زندگی کے ساتھ جس چیز کا بھی تعلق ہے اسے تباہ کردیا گیا ہے۔” “کاریں ، گاڑیاں ، کھیت… سب کچھ”۔

ترجمہ: شمالی غزہ کی پٹی کے شہر بیت ہانون میں گذشتہ رات پُر تشدد صیہونی بمباری کی وجہ سے زبردست تباہی۔

الزونی نے کہا کہ یہ صرف اللہ کے فضل و کرم سے ہوا تھاکہ انکے علاقے مین کوئی جانی نہیں ہوا ، کیونکہ حملے شروع ہونے کے بعد فورا بعد ہی تمام خاندان وہاں سے روپوش ہونا شروع ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا ، “ہم گھر پر بیٹھے تھے جب اچانک بمباری شروع ہوگئی۔” “کھڑکیوں کا شیشہ ہم پر برسنے لگ گیا۔ میرا خاندان ابھی کے لئے ایک مختلف علاقے میں رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہا ہے ، لیکن اسرائیل کو ایک چیز جاننے کی ضرورت ہے ، اور وہ یہ ہے کہ “ہم یہاں رہیں گے”۔

بدھ کی رات شمالی غزہ کے شیخ زید علاقے میں اسرائیلی حملے میں رفعت تنانی اور ان کا پورا کنبہ شہید ہوگیا۔ وہ اور ان کی اہلیہ 36 سالہ راویة جو حاملہ تھیں ، اور ان کے بچوں اسماعیل ، ادھم ، عامر ، اور محمد – جن کی عمر 8 سال سے کم ہے ، کو ملبے تلے زندہ دفن کردیا گیا۔


ترجمہ:میری بھانجی زینت (ایک سال کی عمر) اور بھتیجا محمد (3ت سالہ) اس وقت جب [اسرائیلی] طیاروں نے ہمارے گھر پر اچانک بمباری کی تھی تبھی انہیں ملبے تلے سے کھینچ کر نکلا تھا۔ اس وقت تک ، اوپر والی منزل پر میرے پڑوسی لاپتہ ہیں ، ایک شخص اور اس کی بیوی اور اس کے چار بچے ۔جن میں سب سے بڑا 7 سال کا ہے۔

اہل خانہ کی لاشوں تک پہنچنے میں امدادی ٹیموں کو ایک دن لگا۔ رفعت کے کزن جمیل نے الجزیرہ کو بتایا ، “اسرائیل کا سویلین گھروں کو نشانہ بنانے اور بچوں کو مارنے اور لوگوں کو بے گھر کرنے کا طریقہ بالکل ظالمانہ ہے۔” “ جو ہم اب تجربہ کر رہے ہیں وہ 2014 کے جارحیت سے کہیں زیادہ بدترین ہے۔

سید محمد علی شیرازی

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: