گیس کی شدید قلت

‏گیس کی شدت
ملک میں گیس کی قلت پہلے ہی شدید بحران کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

اب سنگاپور کی کمپنی گنور بھی اچانک ایل این جی گارگو کی ڈلیوری سے پیچھے ہٹ گئی ہے جس سے یہ بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ کمپنی نے ناگزیر صورتحال کابہانہ بناتے ہوئے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ جنوری سے گیس گارگو مہیا نہیں کرسکے گی۔

گیس کی کمی کے باعث حکومت 15دسمبر سے نان ایکسپورٹ انڈسٹری اور سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی بند جبکہ ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے کم کرچکی ہے۔

اس کے نتیجے میں برآمدات میں کمی آجائے گی جس سے ملک کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔ اس صورتحال میں گھریلو صارفین کی پریشانی ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئی ہے۔

شدید سردی میں گھروں کو گرم رکھنا تو کجا لوگوں کو ناشتہ اور دو وقت کھانا تیار کرنے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ جہاں گیس دستیاب ہے وہاں بھی پریشر نہ ہونے کے برابر ہے اور لوگ مہنگے گیس سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں یا ہوٹلوں اور تنوروں کا رخ کررہے ہیں۔

سسٹم میں اتنی گیس نہیں ہے کہ گھریلو صارفین اور صنعتوں کی ضرورت پوری ہوسکے۔ اس کی بڑی وجہ ماہرین یہ بتا رہے ہیں کہ حکومت نے گیس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کئے۔ اب ملک میں گیس کی پیداوار اور ذخائر کم ہونے کا رونا بھی رویا جارہا ہے۔

گیس کے بحران پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی بحث کی گئی ہے اور وزیراعظم نے صنعتوں کو گیس کی سپلائی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے وزرا پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن گھریلو صارفین کی مشکلات دور کرنے کے لیے کسی اقدام کی کوئی اطلاع منظر عام پر نہیں آئی

کالم غلام رسول

‎@pak4army

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: