پاکستان میں تیل اور گیس ڈھونڈنے کا مشن

‏600 ارب ڈالر کے تیل و گیس کی تلاش کا منصوبہ

عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 9 ارب بیرل تیل جبکہ 19 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر ہیں. جو دنیا کے 29 ویں بڑے ذخائر ہیں. لیکن انکو بڑے پیمانے پر نکالنے کی بجاے سالانہ 14 ارب ڈالر کی توانائی درآمد کیجاتی ہے.

جو یقیننا حیران کن ہے ‏اسوقت ملکی ضرورت کا صرف 20 فیصد ہی مقامی سطح سے حاصل ہورہا ہے. 2013 سے لیکر 2018 تک پاکستان کی سب سے قابل حکومت نے نئے ذخائر کی تلاش کا ایک بھی بلاک نیلام نہیں کیا.

موجودہ حکومت نے نومبر 2018 میں 10 بلاکس کی نیلامی کی جن میں سے 8 کمپنیوں کو دئے گئے. 2020 میں 20 بلاکس کی نیلامی ‏ہوئی جن میں 15 پر کمپنیوں نے تلاش کا کام شروع کیا. چونکہ تلاش پر 2 سے 5 سال تک لگتے ہیں اس لئے نیلام کردہ بلاکس کی ڈسکوری بارے امید ہے اسی سال مثبت نتائج کا سلسلہ شروع ہوگا.

حالیہ تیل و گیس کے بحران کو دیکھتے ہوئے حکومت نے مزید 14 بلاکس کی نیلامی کا فیصلہ کیاہےجواگلے 2 ماہ میں ‏مکمل کرکے کمپنیوں کو تلاش شروع کرنیکا کہاجاےگا. ان 14 بلاکس کا کل رقبہ 24 ہزار مربع کلومیٹر ہے.

جدید شعاعوں سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق ان میں 15 ٹریلین کیوبک فٹ گیس موجود ہونیکی تصدیق ہوئی ہے جسکی عالمی مارکیٹ میں اس وقت قیمت 450 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے جبکہ 180 ملین ‏بیرل خام تیل کی نشاندہی کی گئی ہے جسکی موجودہ قیمت 145 ارب ڈالر سے زائد ہے.

نیلامی کے بعد کمپنی کو مختلف اداروں سے اجازت لینے میں 5 سال لگ جاتے تھے موجودہ حکومت نے ان اداروں کی تعداد نہ صرف 35 سے 24 کی ہے بلکہ تمام اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ تمام دستاویزات 2 سال میں مکمل کریں ‏چونکہ اب سیکورٹی صورتحال نارمل ہے اس لئے بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی نیلامی کا حصہ بنایا جائے گا.

تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل یہ کمپنیاں بہتر نتائج دیں. کیونکہ جن بھی گیس فیلڈز کو خالی قرار دیکر مزید گیس نہیں نکالی جارہی ان میں اب بھی 40 فیصد ذخیرہ موجود ہے.حکومت اس ضمن میں بھی ‏پالیسی لیکر آرہی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گیس فیلڈز سے 100 فیصد گیس نکالی جاسکے۔

انگلش روزناموں دی نیوز اور پاکستان ٹائمز سمیت متعدد میڈیا گروپس نے اس خبر کو مختلف تفصیلات کے ساتھ 31 دسمبر 2021 کو شائع کیا ہے.

دعا ہے ان بلاکس سے حسب توقع نتائج برآمد ہوں.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: