پاکستان کے حسین ترین 19 مقامات

قدرتی حسن سے مالامال پاکستان سیاحوں کی جنت کہلاتا ہے دنیا کے بیس بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے آٹھ پاکستان میں موجود ہیں اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے شمالی علاقے اور گلگت بلتستان کی خوبصورتی پوری دنیا میں مشہور ہے، دنیا کی سب سے بڑی گلئشیر پاکستان میں ہے یہاں آپ کو نایاب جنگلی جانوروں کے علاوہ جھلیں، برفیلے پہاڑ، آبشار، دریاء، چشمے ، اور طرح طرح کے قدرتی نظارے دیکھنے کو ملیں گے

جبلی ویوز ڈاٹ کام نے تازہ سروے رپورٹ میں پاکستان کے 19 خوبصورت ترین مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں.

19)

ایبٹ آباد


ایبٹ آباد صوبہ خیبرپختون خواہ کا پرفضاء سیاحتی مقام ہے سطح سمندر سے بلندی چار ہزار ایک سو بیس فٹ بلند یہ علاقہ ناران کاغان گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کیلئے جنکشن کی حیثیت رکھتا ہے یہاں بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں جن میں مری کا کچھ حصہ، نتھیاگلی، ایوبیہ، گلیات نملی میرا، حویلیاں آبشار، شملہ پہاڑی مشہور مقامات میں سے ہیں ایبٹ آباد کا موسم دوسرے شہروں کے بنسبت ٹھنڈا رہتا ہے جو گرمیوں میں سیاحوں کو متوجہ کرتا ہے


18 )

مری


صوبہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں منقسم یہ علاقہ سیاحوں کی ابتدائی ترجیح ہے سطح سمندر سے 7500 فٹ کی بلندی اسے مزید خاص بنادیتی ہے مری کو ملکہ کوہسار بھی کہا جاتا ہے صوبہ پنجاب کی واحد جگہہ ہے جہاں برفباری ہوتی ہے مری سے راولپنڈی کا فاصلہ لگ بھگ 35 کلومیٹر ہے جبکہ مری اور ایبٹ آباد کے درمیان تقریبا 65 کلومیٹر فاصلہ ہے


17

چترال


چترال صوبہ خیبر پختون خواہ کے شمال مغرب میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے منفرد محل وقوع اور ثقافت اسے سیاحت کے حوالے سے بھی منفرد بناتی ہے چترال چاروں اطراف سے بلند وبالا پہاڑوں میں گھرا ہو ہے کچھ سال پہلے تک چترال پانچ مہینوں تک ملک کے دیگر حصوں سے برف کی وجہ سے منقطع رہتا تھا تاہم لواری ٹنل کے وجہ سے ضلع چترال کے مکینوں کی بڑی پریشانی دور ہوئی ہے
چترال میں وادی کیلاش (کافرستان) کے لوگ منفرد مذھب اور ثقافت کے وجہ سے دنیا کے توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں چترال میں کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ترچ میر بھی واقع ہے


16)
بالاکوٹ


خیبر پختون خواہ کا یہ قصبہ نما شہر اپنے اندر تاریخ سموئے ہوئے ہے پرفضا مقام ناران کاغان کا گیٹ وے بھی مانا جاتا ہے آزادی کے دیوانوں کے اپنے سینے میں جگہہ دینے والے اس شہر کو ایک بڑا سانحہ اس وقت دیکھنا پڑا جب 7.5 شدت کے زلزلے نے 8 اکتوبر کو شہر کو اجاڑ کہ رکھ دیا ہزاروں اموات ہوئیں ہزاروں لوگ زخمی بھی ہوئے


15)

ضلع غذر


ضلع غذر گلگت بلتستان میں واقع ایک خوبصورت علاقہ ہے جو اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور ہے بلند وبالا پہاڑوں کے دامن میں موجود ضلع غذر کا صدر مقام گاہگوچ ہے دیگر سیاحتی مقامات میں پھنڈر سرفہرست ہے


14)
شندور


شندور ضلع چترال کے شمال مشرق میں واقع ہے شندور جھیل کے قریب دنیا کا سب سے بلند ترین پولو گراؤنڈ اسی جگہہ واقع ہے جہاں ہر سال جولائی میں شندور فیسٹیول کا انعقاد ہوتا ہے جو تین دن تک جاری رہتا ہے فیسٹیول میں پولو کے علاوہ مختلف ثقافتی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں جس میں گلگت اور چترال کی ثقافت کو پروموٹ کیا جاتا ہے گلگت اور چترال کے بارڈر پر موجود شندور میں دنیا کا بلند ترین اے ٹی ایم مشین بھی نصب ہے


13)

استور


ضلع استور کا شمار گلگت کے حسین ترین مقامات میں ہوتا ہے یہ وادی بلند وبالا پہاڑوں اور برف کی وجہ سے مشہور ہے یہاں کے لوگ پولو کے شوقین ہیں
سطح سمندر سے استور 2600 میٹر بلند ہے


12)

مالم جبہ


مالم جبہ ضلع سوات کا ایک پرفضا اور خوبصورت مقام ہے یہ علاقہ اپنی خوبصورتی کے وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے یہاں اگر آپ برفباری کے موسم میں برف میں کھیلنے کے شوقین ہیں تو آپ کو مالم جبہ سے بہترین جگہہ نہیں مل سکتی سیدو شریف سے 51 کلو میٹر دور یہ علاقہ تقریبا 2000 سالوں سے آباد ہے

11)

نانگا پربت

جسے مقامی طور پر دیامر کے نام سے جانا جاتا ہے، زمین کا نواں سب
اونچا پہاڑ ہے، اس کی چوٹی سطح سمندر سے 8,126 میٹر (26,660 فٹ) بلندی پر ہے۔ پاکستان کے گلگت بلتستان کے علاقے میں دریائے سندھ کے شمالی ترین موڑ کے بالکل جنوب مشرق میں واقع ہے، اور کوہ پیماؤں کی زیادہ اموات کی وجہ سے اس کو قاتل پہاڑ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

10)ُ

سپٹ ویلی

صوبہ خیبر پختون خواہ ضلع اپر کوہستان کا جنت نظیر علاقہ ہے یہاں کی خوبصورتی کو دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اس علاقے میں شدید برفباری ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اکثر یہاں لوگ پھنس جاتے ہیں اب حکمرانوں کی نااہلی کہیں یا کوئی اور وجہ اس جگہہ کو تاحال سیاحت میں پزیرائی نہیں ملی


9)

کے ٹو

، سطح سمندر سے 8,611 میٹر بلندی پر، ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد، زمین کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ یہ قراقرم رینج میں واقع ہے، جزوی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے گلگت بلتستان کے علاقے میں اور جزوی طور پر چین کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں ہے جو سنکیانگ کی تاشقۇرغان تاجک خود مختار کاؤنٹی میں شامل ہے۔
کے ٹو کو وحشی پہاڑ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک امریکی کوہ پیما جارج بیل نے نامہ نگاروں کو بتایا، “یہ ایک وحشی پہاڑ ہے جو آپ کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔” دنیا کے پانچ بلند ترین پہاڑوں میں کے ٹو سب سے مہلک ہے۔ چوٹی پر پہنچنے والے ہر چار کے مقابلے میں تقریباً ایک کوہ پیما کو یہ پہاڑ بطور قربانی حاصل کرلیتا ہے۔

8)

راکاپوشی

پاکستان کے گلگت بلتستان کے علاقے میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے۔ اس کا اگلا حصہ وادی بگروٹ، وادی نگر اور دنیور میں واقع ہے، جو گلگت شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ راکاپوشی کو ڈومانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ دنیا میں 27 ویں نمبر پر ہے۔

7)

نتھیاگلی


مری سے ملحق
صوبہ خیبر پختون خواہ کا پرفضاء پہاڑی قصبہ ہے سطح سمندر سے بلندی 8100 فٹ ہونے کی وجہ سے یہاں کا موسم انتہائی سرد ہوتا ہے سردیوں میں یہاں سخت برفباری ہوتی ہے نتھیاگلی میں گورنر ہاؤس اور وزیراعظم عمران خان کا ذاتی مکان بھی موجود ہے ایبٹ آباد سے فاصلہ تقریبا 38 کلومیٹر ہے.


6)

کالام


کالام جسے ملکہ برطانیہ نے پاکستان کا سویٹزرلینڈ قرار دیا تھا ضلع سوات کے شمالی حصے میں واقع ہے وادی کالام سطح سمندر سے 6400 فٹ بلند ہے دریاء سوات وادی کا حسن دوبالا کرنے کا فریضہ سراانجام بخوبی نبھارہا وادی کالام کے سیاحتی مقامات میں وادی اتروڑ، گبھرال ،مٹلتان ،وادی اشو ، کنڈل جھیل، اور مہوڈنڈ (مچھلیوں کا تالاب) مشہور ہیں

5)

آزاد کشمیر


آزاد کشمیر جموں وکشمیر کا حصہ ہے جو بھارتی تسلط سے آزاد اور خودمختار ہے انتظامی طور پر یہ علاقہ پاکستان سے ملتا ہے آزاد کشمیر قدرتی حسن سے مالامال ہے یہاں کے حسن کی مثالیں پوری دنیا میں دی جاتیں ہیں
آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات میں وادی نیلم، لیپا، کوٹلی، مظفرآباد اور آٹھ مقام شامل ہیں

4

ناران


ضلع مانسہرہ کے مشرق دریاء کنہار کے سنگم پر واقع ناران سطح سمندر سے 7904 فٹ کے بلندی پر واقع ہے
ناران قدرت کا پاکستان کیلئے بے مثال تحفہ ہے بلند وبالا پہاڑ، آبشار، جھیلیں ناران کو مختلف بناتی ہیں ناران کا درجہ حرارت صوبہ خیبر پختون خواہ میں سب سے کم ہوتا ہے ناران کے مشہور سیاحتی جگہوں میں شوگراں، بٹہ کنڈی، آنسو جھیل، جھیل سیف الملوک، اور بابو سر ٹاپ شامل ہیں


3)

ہنزہ


گلگت سے 100 کلومیٹر دور ہنزہ خوبصورتی میں اپنی مثال ْآپ ہے نگر سے ملحقہ یہ علاقہ راکاپوشی کے دامن میں ہے یہاں ہرقسم کے پھل فروٹ آپ کو با آسانی ملیں گے ہنزہ کا مشہور ترین مقامات میں سے عطاء آباد جھیل سرفہرست ہے وادی ہنزہ سطح سمندر سے 2500 میٹر بلند ہے

اشتہارات


Qries

2

وادی کمراٹ


کمراٹ ضلع اپر دیر کے شمال مشرق میں سطح سمندر سے 7000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے
جبلی ویوز ڈاٹ کام کی حالیہ تحقیق کے مطابق وادی کمراٹ خیبر پختون خواہ کا سب سے حسین جبکہ پاکستان کا دوسرا خوبصورت ترین علاقہ ہے ہندو کش کے دامن میں واقع کمراٹ کالام سے 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ دیر شہر سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے
گھنے جنگلات، بلند وبالا پہاڑ، آبشاریں جھیلیں، کمراٹ کو منفرد بناتی ہیں کٹورہ جھیل جہاز بانڈہ شاہ زور جھیل کالا چشمہ کمراٹ کے مشہور مقامات میں سے ہیں ، کالام، ناران کاغان کے علاوہ یہاں آپ کو ٹراؤٹ مچھلیوں کا ذائقہ چکھنے کو ملے گا

1)

دیوسائی

جی ہاں ہمارے سروے کے مطابق پاکستان کا خوبصورت ترین مقام دیوسائی
سطح سمندر سے 13500 فٹ بلند یہ میدان پاکستان کا خوبصورت ترین علاقہ ہے ضلع سکردو میں واقع دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع کی حامل دیوسائی میں مختلف اقسام کے نایاب جانور موجود ہیں بھورے ریچھوں کے اس واحد مسکن میں موسم سرما میں 30 فٹ تک برفباری ہوتی ہے دیوسائی پہنچنھ کیلئے آپ کو سکردو سے تقریبا 35 کلومیٹر کا راستہ طئے کرنا پڑے گا

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

One thought on “پاکستان کے حسین ترین 19 مقامات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: