گیس کی نعمت۔۔۔۔۔۔ سیاست کے آئینے میں

‏گیس کی نعمت سیاست کے آئینے میں۔۔۔!!!
حالیہ گیس بحران نے مجبور کیا ہے کہ قدرت کی اس لازوال نعمت کے بارئے میں کچھ مفیدمعلومات فراہم کی جائیں۔بلاشبہ گیس گھریلو خواتین کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس علاقے میں سپلائی ہووہاں رئیل اسٹیٹ کا بزنس خوب پھلتا پھولتا ہے۔ ساڑھے 4 ارب سال کی عمر اور 510 ملین مربع کلومیٹر رقبے کی حامل زمین میں اب تک 4000 سے زائد معدنیات دریافت ہوچکی ہیں جن میں گیس بھی شامل ہے۔اسے 1626میں فرانسیسی ماہرین نے امریکہ میں دریافت کیا۔

جبکہ 1785میں برطانیہ پہلا ملک بنا جس نے اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنا شروع کیا۔ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق اس وقت دنیا میں دریافت شدہ قدرتی گیس کے ذخائر کا حجم 7257ٹریلین کیوبک فٹ ہے۔

جبکہ جیوجیکل سروئے آف امریکہ کے مطابق دریافت نہ ہونیوالے ذخائرکا حجم 117 بلین کیوبک فٹ ہے۔ دریافت شدہ ذخائر میں روس 24 فیصد کے ساتھ پہلے ایران 18 فیصد کے ساتھ دوسرئے جبکہ قطر13 فیصد کے ساتھ تیسرئے نمبر پرہے۔ پاکستان 19ٹریلین کیوبک فٹ کے ساتھ 29ویں نمبر پر ہے۔دنیا کی 23 فیصد آبادی کو گیس کی سہولت میسر ہے جبکہ دنیا میں بنائی جانیوالی کل بجلی کا چوتھا حصہ گیس کی مرہون منت ہے۔یومیہ کھپت ساڑھے 3 ہزار بیرل ہے۔

اگر کھپت کی یہی مقدار برقرار رہے تو دریافت شدہ ذخائر 52 سال ہے لئے کافی ہیں۔22 فیصد پاکستانیوں کو قدرتی گیس کی سہولت میسر ہے۔جس میں 80 فیصد مقامی جبکہ20 فیصد درآمد کی جارہی ہے۔اگر موجودہ کھپت برقرار رہی تو ذخائر 12 سال کے لئے کافی ہونگے۔تاہم نئی دریافتیں نہ ہونیکی وجہ سے پاکستان کے ذخائر9 فیصد سالانہ کے حساب سے کم ہورہے ہیں۔ موجودہ حکومت 2018سے لیکر اب تک 23 نئے بلاکس کی نیلامی کرچکی ہے اور 14کی مزید کرنے جارہی ہے۔

تاکہ سالانہ1000 ارب کے امپورٹ بل میں کمی واقع ہوسکے۔گیس کی پیمائش کے مختلف طریقے ہیں۔15ڈگری پر 1 کیوبک فٹ گیس 28لیٹر فیول کے برابر ہے۔ جبکہ1000 کیوبک فٹ ایک میٹریک ملین برٹش تھرمل یونٹ(MMBTU) سے تھوڑا سا زیادہ ہوتا ہے۔ 3450(MMBTU (سے ایک کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ 1 گرام پانی کو 1 سینٹی گریڈ تک گرم کرنے کے لئے 4 جول تک توانائی درکار ہوتی ہے۔1055 جول ایک MMBTU جبکہ1 کیوبک فٹ گیس)1000 BTU (کے برابر ہوتی ہے۔7000 BTU) (والا چولہا کھانا پکانے کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔گیس میٹر استعمال شدہ مقدار کو کیوبک فٹ میں دکھاتا ہے۔جسےMMBTU میں بدل کر مقررکردہ سلیب ریٹ کے مطابق بل تشکیل دئے جاتے ہیں۔
وقت کے ساتھ گیس کے استعمال نے اسے مختلف اقسام میں تقسیم کردیا ہے۔ اسکی بنیادی طورپر2اقسام ہیں۔

جس میں قدرتی اور پٹرولیم گیس شامل ہیں۔قدرتی گیس جسکا 90 فیصد حصہ میتھین پر مشتمل ہوتا ہے۔ گھروں اور مختلف صنعتوں میں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے۔سالانہ193 بلین کیوبک میٹرز برآمدی حجم کے ساتھ روس پہلے اور75 بلین کے ساتھ امریکہ دوسرئے نمبر پر ہے۔
کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کو 200 سے 250بار تک کمپریس کرکے گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران پہلی مرتبہ استعمال شروع ہوا۔ اس وقت دنیا بھر میں 30 ملین گاڑیاں سی این جی پر ہیں۔ایران برازیل اور پاکستان ٹاپ پر ہیں۔
قدرتی گیس کو منفی 160 ڈگری پر ٹھنڈا کریں تو لیکوفائیڈ نیچرل گیس(LNG) وجود میں آتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی گیس کی نسبت والیم میں 600 گنا سکٹر کر مائع میں بدل جاتی ہے۔ اس لئے اسے پائپ لائن کی بجائے دور دراز علاقوں میں بذریعہ ٹرانسپورٹ لے جانا آسان ہوجاتا ہے۔ LNG ٹرمینلز لگا کر مائع کو

اشتہارات


Qries

دوبارہ گرم کرکے پائپ لائن کے ذریعے صارفین تک پہنچایا جاتا ہے۔برآمدی لحاظ سے آسڑیلیا 83 ملین کیوبک فٹ کے ساتھ پہلے جبکہ81 ملین کے ساتھ قطر دوسرئے نمبر پر ہے۔پاکستان نے بھی قطر سے اسی گیس کی درآمد کا15 سالہ معاہد ہ کررکھا ہے۔ جو اکثر خبروں میں رہتا ہے۔
لیکوڈ پٹرولیم گیس (LPG) خام تیل اور قدرتی گیس کو کشید کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔گھریلو سلنڈز میں یہی گیس استعمال ہوتی ہے۔1912 میں اسے ایک امریکی سائنسدان نے دریافت کیا۔ 1928 میں پہلی مرتبہ موٹر کار میں بطور فیول استعمال کیا گیا جبکہ1932 میں اسے کھانا پکانے کے لئے بطور توانائی استعمال کیا گیا۔1 بیرل خام تیل میں پٹرولیم گیس کی مقدار3 فیصد تک ہوتی ہے۔

امریکہ دنیا کی 20 فیصد LPG پیداوار کے ساتھ پہلے 10 فیصد کے ساتھ سعودیہ دوسرئے جبکہ7 فیصد کے ساتھ چین تیسرئے نمبر پر ہے۔پاکستان کی سالانہ کھپت ڈیڑھ ملین ٹن ہے جس میں 90 ہزار ٹن لوکل جبکہ باقی ایران سے درآمد کیجاتی ہے۔
دنیا نے بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے مختلف طریقے اپنا لئے ہیں۔ جن میں بائیو گیس نمایا ں ہے۔ یہ جانوروں کے فضلے کو بائیو پلانٹ میں ری سائیکل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

کسی گھر میں 3 مویشی ہوں تو اس گھر کو گیس کنکشن کی ضرورت نہیں جبکہ اگر یہی تعداد 60 تک ہو تو ایک بڑا پلانٹ لگا کر مقامی سطح پر سپلائی کرکے خاطر خواہ زرمبادلہ بھی حاصل کیاجاسکتا ہے۔ اس وقت چین 5 کروڑ بائیو گیس پلانٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ جبکہ روائتی حریف بھارت بھی اس تعداد کو 50 لاکھ تک لے جاچکا ہے۔

ویسے تو گیس بنانے کا یہ طریقہ3 ہزار قبل مسیح میں بھی ملتا ہے لیکن گوگل چاچو فرماتے ہیں کہ بائیو گیس پہلا کا پلانٹ 1938 میں الجیریا میں لگایا گیا۔پاکستان میں فی الوقت ان پلانٹس کی تعداد صرف 10 ہزار ہے۔ حالانکہ ملک میں بڑئے جانوروں کی تعداد 5 کروڑ سے زائد ہے۔20 لاکھ گھروں میں جانوروں کی تعداد3 سے 4 تک جبکہ20 ہزار افراد کے پاس یہ تعداد 60 سے بھی زائد ہے۔

اگر پلانٹس کی تعداد 50 لاکھ تک کرلی جائے تو 3 کروڑ سے زائد گھرانوں کو یہ گیس فراہم کی جاسکتی ہے۔ جبکہ باقی بچ جانیوالا فضلہ ایک بہترین کھاد کی شکل میں باقی رہ جائے گا۔ اب جا کر سوئی سددرن گیس کمپنی کو خیال آیا ہے جو کراچی میں ایک بڑا پلانٹ لگانے جارہی ہے۔

جس کے لئے بھینس کالونی کی انتظامیہ سے بات چیت حتمی مراحل میں ہے جہاں 4 لاکھ سے زائد جانور موجود ہیں۔
موسم سرما میں کھپت 25 سے30 فیصد بڑھ جاتی ہے۔جسکی وجہ سے قیمتوں میں بھی کافی فرق آجاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک نے اسے اسٹور کرنے کے خاطر خواہ انتظامات کرلئے ہیں۔ وہ گرمیوں میں زیادہ مقدار میں گیس درآمد کرلیتے ہیں اور سردیوں میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔

یورپی ممالک اس میں پیش پیش ہیں۔ نمک کی خالی کانیں اور گیس فیلڈز اس مقصد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔پاکستان میں بھی 2016 میں اس طریقہ پر کام شروع ہوا جودوسرئے سینکڑوں ادھورئے منصوبوں کی طرح نااہل حکمرانوں کا منہ چڑا رہا ہے۔ بچاری عوام کو روز اک نئی رام لیلا سنا دی جاتی ہے۔


اوپیک تیل کی طرح گیس کی قیمتوں کا بھی تعین کرتا ہے۔ برآمدکنندگان کے لئے گیس نہ صرف ایک منافع بخش قدرتی وسیلہ بلکہ عالمی سیاست میں مضبوط بھی بناتا ہے۔ روس اپنے بجٹ کا 40 فیصد تیل وگیس کی آمدنی سے پورا کرتا ہے۔گزشتہ سال صرف گیس کی برآمد سے25 بلین امریکی ڈالرز حاصل ہوئے۔چونکہ روس پورئے یورپ کو گیس کی سپلائی کرتا ہے اسی لئے یورپی ممالک امریکہ کے بھرپور دباو کے باوجود روس کے خلاف بولنے سے قاصرہیں۔ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے گزشتہ برس20 ارب ڈالرز توانائی سے کمائے ہیں۔

جو پابندیوں سے پہلے 60 ارب ڈالرز کے لگ بھگ تھے۔ قدرتی وسائل ہی ہیں جوFATF کی بلیک لسٹ میں ہونیکے باوجود ایران کو دنیا کی20 طاقتور معیشتوں میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔بھارت جیسا ملک جو امریکہ کی آشیر باد کے لئے سب کچھ کرتا ہے لیکن قدرئے سستے ریٹس کیوجہ سے ایران سے چوری چھپے توانائی درآمد کرتا ہے۔

پاکستان نے بھی امریکہ کے ڈر سے ایران تک گیس پائپ لائن تو نہیں بچھائی لیکن بلوچستان کے راستے تیل کی اسمگلنگ کو نہیں روک پار ہا۔ جو کل ضرورت کا 20 فیصد بنتا ہے۔سعودی عرب تو قدرتی وسائل پر اتنا اتراتا ہے کہ مسلم امہ کا خودساختہ مالک بنا بیٹھا ہے۔پاکستان جیسا ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک بھی سعودیہ کی مرضی سے کسی اجلاس میں شرکت تک نہیں کرسکتا۔ حتی کہ امریکہ بھی 1955سے باقاعدہ معاہدئے کے تحت سعودی عرب کا دفاع کرنے پر مجبور ہے۔

امریکہ روس سعودیہ عرب امارات اور ایران نے مفادات کے حصول کی خاطر قدرقی وسائل سے مالا مال ملک یمن کو کھنڈرات کا ڈھیر بنادیا ہے۔ 1 لاکھ افراد مارئے جاچکے ہیں جس میں 85 ہزار بچے شامل ہیں جبکہ3 کروڑ کی آبادی میں 80 فیصد غذائی قلت کا شکا رہے۔

دنیا کے تیسرئے بڑئے گیس کے ذخائر رکھنے والا ملک قطر اسی لئے دنیا کے10امیر ترین ملکوں میں شمار ہوتاہے۔ملکی آمدنی کا70 فیصد توانائی برآمد کرنے سے حاصل ہوتاہے۔ ایران سے قربت کے جرم میں سعودی عرب نے 2017 میں واحد زمینی راستہ بند کیا تو اس نے ذرا پرواہ نہیں کی اور تمام ضروریات فضا کے ذریعے پوری کرنا شروع کردیں۔پاکستان بھی 3 سے 4 ارب ڈالرز کی گیس قطر سے ہی درآمد کرتا ہے۔

اور قطر کا پاکستانی معاملات میں اس قدر دخل ہے کہ وزیراعظم عمران خان بھرپور کوشش کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف کو لندن جانے سے نہ روک سکے۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر مضمون کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اختتام ہی بہتر آپشن ہے۔۔!

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: