پاکستان پوسٹ خسارے سے منافع تک کا سفر

‏پاکستان پوسٹ خسارے سے منافع کا سفر

وزیر مواصلات نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں بتایا کہ جب وزیر بنا تو پاکستان پوسٹ کی آمدنی 10 ارب جبکہ اخراجات 26 ارب سالانہ تھے.

فیٹف کے 40 میں سے 13 اعتراض بھی اسی ادارے پر تھے. خط و کتابت کا سلسلہ بند جبکہ کارگو کے لئے عوام پرائیویٹ ‏سروسز سے استفادہ حاصل کررہے تھے. ایسے میں پاکستان پوسٹ کا مستقبل تاریک تھا.

کوشش شروع کی کہ اسکا خسارہ کم کیا جائے. جسکے لئے UMS متعارف کرایا. پارسل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کیا. الیکٹرانک میل اور ترسیلات زر کی سہولت فراہم کی. جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں 72 گھنٹے سے7 دن ‏میں سامان کی فراہمی کی سروس شروع کی.

عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جس سے آج 3 سال بعد فیٹف کے اعتراضات ختم ہوچکے. 16 ارب کا خسارہ نہ صرف صفر ہوگیا ہے بلکہ رواں مالی سال کی آمدنی کا تخمینہ 885 ملین روپے لگایا گیا ہے. چاہتے تھے کہ ملک کے تمام 10 ہزار سے زائد ڈاکخانے بینک ‏برانچز میں بدل دیتے لیکن فیٹف نے اجازت نہ دی. ہر عوامی شکایت کو خود دیکھتا ہوں.

اب کوشش ہوگی کہ ڈاکخانوں کو اپ گریڈ کیا جائے. جبکہ تمام عملے کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ وابستگی یقینی بنائی جاے. آخر میں عوام کے بھرپور اعتماد کا پھر شکریہ ادا کیا.

کیا آپ پاکستان پوسٹ سے مطمئن ہیں؟

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: