کوہستان تاریخ، ثقافت، وسائل اور مسائل قسط نمبر 2

کوہستان کی تاریخ ،ثقافت،مساٸل اور وساٸل : قسط (2)……..اس خطے میں مختلف مذاھب کے عروج وزوال کی داستانیں رقم ہیں چنانچہ چینی سیاح ہیون سانگ نےسوات میں بدھ مت کے عروج کےدور میں اس علاقہ کا رقبہ پانچ ہزار لی ظاہر کیا ہے جو اندازاً 833 میل کے برابر بنتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت موجودہ سوات کے علاوہ دریائے سندھ کے مغرب کی طرف کی پہاڑیوں اور انڈس کوہستان کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔اسکے علاوہ قدیم قوم آریا،سیتھین،کشان،گبری وغیرہ مذاھب کے آثار قدیمہ بھی یہاں مختلف مذاھب کے نشیب وفراز کے شاہد ہیں۔

جیسا کہ گذشتہ قسط سے واضح ہوگیا ہے کہ قدیم تاریخ کوہستان کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے یا محض روایات پر مبنی ہے۔ مگرریاست سوات کے قیام کے بعد تاریخ کوہستان کے بارے میں غیر معمولی ذرائع معلومات موجود۔جب دیر کوہستان سوات کوہستان اور اباسین کوہستان ایک ہی علاقہ تصور کیا جاتا تھا اور یہاں کے لوگ اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے اس علاقے میں کسی قسم کا قانون نہیں چلتا تھا لوگ صرف اپنی روایات اور رسم و رواج کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے۔

پھر1938 میں جب والی سوات کی فوج نے شانگلہ اور دیگر پختون قبائل کو جو کہ ریاست سوات کے باغی تھےبآسانی شکست دے کر ریاست سوات کا حصہ بنالیا،اسکےبعد اس خونخوار فوج نے کوہستان کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔کوہستانی قوم کو اس بات کا علم ہوچکا تھا۔

چناچہ انہوں بذریعہ جرگہ اس بات پر اتفاق کرلیاکہ وہ بجائے ہتھیار ڈالنے کے اپنی مٹی کی خاطر آخری دم تک دفاعی جنگ جاری رکھیں گیں ۔بنکھڈ رانولیاء جیجال دوبیر اور پٹن وغیرہ کے قبائل اس جنگ کے مرکزی سپاہی تھے۔انہوں نے بشام کا رخ کیا جس راستے سے افواج سوات آرہی تھی۔

بشام لہر کے مقام پر پہنچے تو والی سوات کی فوج بھی پہنچ چکی تھی۔جنگ شروع ہوئی اور یہ جنگ 2 دن تک جاری رہی یہاں تک کہ فوج کا آدھا حصہ یعنی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور اب وہ مزید اس غیور قوم کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتی تھیں بالآخر جنگ کا میدان چھوڑ کر بھاگ گئی اور یوں ان بہادر کوہستانیوں نے اپنے دفاع میں لڑی گئی پہلی عظیم جنگ اپنے نام کی۔

اس کارروائی کے دوران افواج ریاست سوات کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔معتبر ذرائع کے مطابق سواتیوں کا جانی نقصان تقریباً 500 ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اس جنگ پر 20,000 روپے سے زیادہ خرچ آیا اور تقریباً ایک لاکھ کارتوس بھی استعمال ہوئے۔اس نقصان کو دیکھتے ہوۓمزید توسیع بہت احتیاط اور سفارتی ذرائع سے کی گئی۔

والی سوات عبدالودود نےکوہستان کے معزز ترین افراد کو مہمانوں کی حیثیت سے اپنے ہاں بلانا شروع کیا اور ان سے تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہوا۔بالآخر دوبیر ،رانولیا ٕ،بنکھڈکے معززین نے اپنے مفادات کے تحفظ کی ضمانت کی شرط پر الحاق کو قبول کیا اور یوں دوبیر، رانولیا اور بنکھڈریاست سوات کے زیر قبضہ آگۓ۔لیکن کوہستانیوں کا اصل مرکز، دارالحکومت اور سب سے مضبوط قصبہ پٹن ابھی تک فتح نہیں کیا جاسکا تھا اور جب تک یہ نہ ہوجاتا، تو کوہستان پر قبضہ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی تھی۔

یہ ایک مشکل کام تھا لیکن عبدالودود نے عزم کرلیا تھا کہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ اُس نے پٹن کے معدودے چند دوستوں کے ہم راہ ایک زبردست فوج روانہ کی۔ یہ فوج اتنی تیزی سے منزل کی طرف بڑھی کہ اُس نے ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں سے چلتے ہوئے صرف تین دنوں میں پیدل طے کیا۔ ایک بھرپور حملہ کرکے پٹن کو فتح کر لیا گیا۔

پٹن کی فتح کوہستانیوں کی طاقت کا اختتام ثابت ہوئی اور اس کے زیر نگیں آتے ہی دیگر علاقے رضاکارانہ طور پر مدغم ہونے لگے۔ پہلے سیو شامل ہوا، پھر کندیا اس طرح اباسین کے دائیں کنارے والا کوہستان ریاستِ سوات کا حصہ بن گیا۔البتہ کوہستان کا مشرقی حصہ اس دوران بھی حسب سابق آزاد تھا ۔1947 کو اباسین کوہستان آزاد ہوگیااور 1969بحیثیت قباٸلی علاقہ تصور کیا گیا اسکے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے سمیع کوھستانی

اگلی قسط کیلئے یہاں کلک کریں

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

5 1 ووٹ
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: