کوہستان تاریخ، ثقافت ، وسائل اور مسائل قسط 3

کوہستان کی تاریخ،ثقافت ،مساٸل اور وساٸل :
قسط(3)


1976 تک مغربی ومشرقی کوہستان ضلع بٹگرام کا حصہ رہے۔ 1976 میں کوہستان کو مستقل ضلع کا درجہ دیا گیا پھر 2014میں کوہستان کوانتظامی طور پر تین ضلعوں میں تقسیم کردیاگیاضلع اپر کوہستان، ضلع لوٸر کوہستان اور ضلع کولٸ پالس کوہستان۔
ثقافت:
یہاں کےلوگ سادہ مزاج محنت کش اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں لباس میں قمیض شلوار اور ایک خاص قسم کی ٹوپی جو اون کی بنی ہوتی ہے جسےکوہستانی زبان میں پمٸں کھوٸ کہتےہیں کوزیب تن کیاجاتاہے۔
موجودہ زمانے میں خواتین کا کوٸ مخصوص لباس نہیں البتہ پٹن کیال اور کچھ دیگر علاقوں میں ایک مخصوص چادر اوڑھی جاتی ہے جسے کوہستانی زبان میں اگرٹوکا نام دیاجاتاہے ۔
یہ کالا کپڑا ہوتا ہے جسے یہاں کی خواتین سلاٸ مشین کے ذریعے مخصوص کڑاٸ بنا کر تیار کرتی ہے بسااوقات ہاتھ سے کڑاٸ کر کے اس پر پھول بھی بناۓ جاتے۔لیکن وساٸل کی کمی کی وجہ سے تاحال اس لباس کو مارکیٹ میں متعارف نہ کرایاجاسکا اگر اس خاص صنعت کو مارکیٹ کی زینت بنادی جاۓ تو جہاں معاشی صورت حال سے دوچارکوہستانی خواتین کی حرف زوال میں واقع معشیت مضبوط ہوگی وہی دنیا میں ایک خوبصورت لباس کا بھی اضافہ ہوگا۔
مذہبی اعتبار سے صحیح العقیدہ سنی دیوبندی مسلمان ہیں اکثروبیشتر مرد وزن پابند صوم وصلوة ہیں
مردوں میں داڑھی رکھنے کا رجحان زیادہ ہے جبکہ خواتین مکمل پاپردہ ہیں ۔
مذھبی پیشواٶں یعنی علما ٕ کرام کو ایک خاص مقام ومرتبہ حاصل ہے اس لیے ممبرومحراب سے لیکرعلاقاٸ قومی سیاسی اورمذھبی معاملات میں ان کااہم کردارہوتا ہے۔
لسانی اعتبار سے پردریاۓ سندھ کوہستان کودو حصوں میں تقسیم کرتاہے۔
مغربی جانب بنکھڈ،دوبیر،رانولیا،جیجال،پٹن،کیال،سیو،اور کندیا میں کوہستانی زبان قدرے لہجوں کے اختلاف کیساتھ بولی جاتی ہےمقامی طور پر اسے کوستَیں ژیب/اباسیْن کوستَیں ژیب کہا جاتا ہے۔
اباسندھ کوہستانی زبان میں غیر مطبوعہ ابتدائی کام قاعدے کی شکل میں مولاناسید عبدالحق شاہ مرحوم نے 1930 کی دہائی کے اخیر میں کیا۔مطبوعہ کام میں قرآن مجید کی تفسیر مولانا غلام عیسی مرحوم کئی سال پہلے لکھ چکے ہیں۔ایک ابتدائی قاعدہ جناب م ش راشد ، چہل احادیث کاترجمہ اورایک کہاؤتوں کی کتاب جناب طالب جان آباسندھی نے مرتب اور شائع کی ہے۔
مشرقی جانب بٹیڑہ،کولٸ،پالس جلکوٹ،ہربن سازین،میں شیناکٸ زبان قدرےلہجوں کے فرق کے ساتھ مستعمل ہے شیناکٸ زبان پررضول کوہستانی صاحب کی بیس سے زیادہ مطبوعہ مقالات وکتب موجود ہیں۔
نیز پشتو اور گجری زبان بھی یہاں بھی یہاں بولی جاتی ہے ۔
مذھب کی طرف رجحان کے باوجود بھی رسم ورواج کی قید سےآزاد نہیں۔


بعض ریت ورواج باقی دنیا سے کافی مختلف ہیں مثلاً ”رسم اُزر“
جب کسی عزیز یا یار دوست کی شادی ہو تو بکرا اور بسا اوقات بکرا کے بجاۓ بیل یا بھینس دینے کا رواج صدیوں سے چلا آرہا ہے اس رسم ورواج کو “اُزر”کانام دیاجاتا ہے


اس رسم کو اداکرنے والا اپنے بعض عزیز اقارب اور یاردوستوں کو بھی ساتھ لیکر جاتا ہے جنہیں “اُزری”کہا جاتا ہے۔شادیوں میں اُزریوں کی خدمت کا خاص خیا رکھا جاتا ہے۔ماضی قریب میں اُزری حضرات تین چار دن تک شادی والے گھر میں ٹھہرے رہتے تھے اورمحفل موسیقی سمیت دیگر مشغولیات میں مصروف رہتے۔
محفل موسیقی کویہاں کی مقامی زبان میں مجلوس کہاجاتا ہے
مجلوس (محفل موسیقی)میں ایک یا چند شعرا اور ان کے الاج گر (شعرا ٕ کی آواز میں آواز ملانے والے جو مخصوص افراد ہوتے ہیں)ڈھول (جو عموما لوہے کا مضبوط ڈبہ نماہوتا)کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں شاعر پہلے ایک شعر تنہا پڑھتا ہے پھردوبارہ شاعر اور الاج مل کر پڑھتے ہیں اور یوں یہ محفل منعقد کیجاتی ہے۔
کوہستانی زبان میں روایتی لوک ادب اور لوک شاعری کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔
نمبر ١سرنامہ :
اس میں کسی قسم کی تالی بجانا یا ڈھول اور شور شرابہ نہیں ہوتا بلکہ شاعر یا گلو کار گاتا ہے اور الاج گر شاعر کی آواز میں آواز ملاکر ساتھ دیتے ہیں۔
یہ قسم کسی غیر اہل زبان کے سماعتوں سےٹکراجاۓ تو اسے یوں لگے گا کہ یہ محفل موسیقی نہیں بلکہ محل ماتم ہے حالانکہ اس قسم میں شاعر حقیقت حال بیان کرتا ہے اور سمجھنےوالا اسی سے محظوظ ہوتا ہے
نمبر ٢ سوت رنگ:
اس قسم اور قسم اوّل میں زیادہ فرق نہیں ہوتا صرف شاعری کی آواز میں تھوڑی سی تیزی اور ڈھول کی ہلکی ہلکی ٹِنگ ٹَنگ کی آواز ہوتی ہے
نمبر ٣ سوت ۔
یہ قسم فل مستی والا ہےشاعر کی آواز میں تیزی سمیت مخصوص طریقے پر تالیاں بجانا اورڈھول کی تھاپ رقص اور خوب ہلہ گلہ ہوتاہے۔
لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ مردوخواتین کی شاعری میں نمایا فرق ہے۔خواتین کی شاعری مختصر اور ایک ہی قسم کی ہوتی جس میں فقط ڈھول کی تھاپ پر رقص تالیاں اور ہلہ گلہ ہی ہوتاہے ۔
اسکے علاوہ بغماٸ بھی لوگ ادب اور شاعری کی ایک قسم ہے اگرچہ یہ قسم مردوں اور خواتین کے درمیان مشترک ہے تاھم خواتین میں بغماٸ کا رجحان زیادہ ہے
اسی طرح باراتیوں پر پانی چھڑکنا اور تھالی میں اخروٹ پیسہ اور کچھ دیکر چیزیں رکھ کر دلھن اور باراتیوں کے سروں کے اوپر سے پھینکنا، شادی کے دنوں میں نشانہ بازی کرناشاید یہاں کی منفرد ثقافت ہے۔
جس طرح شادی بیاہ میں بکرا یابیل ،بھینس دینے کی رسم ہےاسی طرح عزیز یایار دوست کی فوتگی پر بھی بکرا یابیل، بھینس دینے کی رسم پاٸ جاتی ہےمگر اسے ازر کانام نہیں دیا جاتا۔
زت پات کو نمایا مقام حاصل ہےلوگ قباٸل میں تقسیم ہے اور قباٸل خیلوں میں، خیلوں کی پھر ذیلی شاخیں ہیں مگر۔۔۔۔۔۔جاری ہے
سمیع کوھستانی

اگلی قسط کیلئے یہاں کلک کریں

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: