کوہستان کی تاریخ، ثقافت، وسائل، اورمسائل قسط نمبر چار

کوہستان کی تاریخ ،ثقافت،مسائل اور وسائل

اشتہارات


Qries


قسط (4)آخری قسط
۔۔۔۔۔۔ذات پات کو نمایا مقام حاصل ہےلوگ قبائل میں تقسیم ہے اور قبائل خیلوں میں، خیلوں کی پھر ذیلی شاخیں ہیں مگر بنیادی طور پر تین گروہ ہیں اولسہ ۔کمسل اور استانہ۔
جہاں قبائل آباد ہووہاں قبائل معاملات تنازعات نہ ہو ایسا کیسے ممکن اس لیے یہاں بھی کبھی کبھار قبائلی تنازعات بھڑک اٹھتے ہیں مگر مضبوط جرگہ سسٹم کی وجہ سے اکثر وبیشتر تنازعات طول نہیں پکڑتے نیز یہاں اکثر وبیشتر تنازعات ومعاملات عدالتوں کے بجاۓ جرگہ سسٹم کے تحت نمٹادیے جاتے ہیں۔
ذریعہ معاش:
ابتدًازریعہ معاش شکار تھا جو بعد میں مال مویشی پالنا کھیتی باڑی ، قدرتی جڑی بوٹیوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ ہوگیا۔کھیتوں میں مکئ، گندم لوبیہ کھیرے ٹماٹر آلو بیاز مولی سمیت مختلف قسم کی سبزیاں اگائی جاتی ہیں مگر سب سے زیادہ پیدوار مکئ کی ہے۔یہاں سے اخروٹ،کالے امولک بھی بڑی مقدار میں ملک کے بڑی بڑی منڈیوں میں پہنچتاہےنیز شہد اوردیسی گھی کی بھی ایک بڑی مقدار مارکیٹ کی زینت بن رہی ہے۔
مسائل:
جغرافیاٸ دوری معاشی اور معاشرتی کمزوریاں یہاں کے اہم مسائل ہیں
غربت عروج پر ہےسڑکیں،ہسپتال بجلی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
یہاں آج بھی اشیاضروریہ کےحصول کےواسطے لوگ میلوں پیدل سفرطےکرپہنچتے ہیں مریض راہ میں سسکتے دم توڑ لیتےہیں تو خواتین سرراہ کراہتے بچوں کو جنم دیتی ہیں یہاں کےمسائل،مشکلات اور مصائب کومحسوس تو کیا جاسکتا ہےمگر لفظوں کی لڑی میں پروکرقرطاس پرنقش کرنا اتنا آسان نہیں۔
وسائل:
ایسا نہیں کہ یہاں وساٸل کی قلت ہے چار دانگ وساٸل ہی وساٸل ہیں۔
سیاحت اور پانی کے بڑے بڑے زخاٸر یہاں کے اہم وساٸل ہے ،ارباب اختیار کی طرف سے یقین دہانیوں اور بڑے بڑے دعووں کے باوجود سیاحت پر تاحال کوٸ پیش رفت نہیں ہوسکی۔البتہ محکمہ واپڈا داسو ڈیم کے نام سے ایک ڈیم تعمیر کررہا ہے جو یہاں کے لوگوں کےواسطے روزگار کا باعث بن رہاہے۔
اسکے علاوہ بعض علاقوں میں قیمتی پتھروں کی کانیں بھی موجود ہیں لیکن اسباب کی کمی کے باعث ابتک کوٸ خاطر خواہ فاٸدہ حاصل نہیں کیا جاسکا۔
یوں تو کوہستان کی ہر وادی کا حسن مسحورکن اور اپنی شدت جمال کے باعث انسانی حواس کے لئے با عث امتحان ہے۔ تاہم قابل ذکر مقامات درج ذیل ہیں:
چنسر جھیل دوبیر،نڑی ویلی رانولیا ٕ،وادی کنڈو چھوادرہ پٹن،منڈروہ درہ پٹن، تریس ویلی پٹن، ، سارسٹیل کیال،رازکہ ویلی سیو ۔جھائل ویلی سیو،میدان گبریال کندیا ،سحرگاہ جھیل سیری درہ کندیا،
بلیجہ میدان کولئ ۔موڑو میدان پالس ۔لیدی پالس، جوڑ ویلی پالس،سوپٹ ویلی جلکوٹ۔

سمیع کوھستانی

مضمون کی پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: