کراچی کے کنگز سیزن کی پہلی فتح کو ترس گئے

تو نے کہا تھا نا کہ میں کشتی پے بوجھ ہوں
اب آنکھوں کو نہ ڈھانپ، مجھے ڈوبتا ہوا بھی دیکھ

بس ان کے نام یہ شعر جو ہمیشہ یہ کہتے آئے کہ بابر جلدی آؤٹ ہو تو کراچی جیت جائے گا، آج کیا ہوا یہ پڑھیے

قلندرز کی دھمال کا شکار کنگز و یونائیٹڈ آج میدان میں اترے تو ٹاس جیتا شاداب نے اور غیر متوقع طور پر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کر لیا، یقیناً یہ وہی کر سکتے ہیں جو پر اعتماد ہوں، جنہیں اپنے قوتِ بازو پر بھروسہ ہو۔

الیکس ہیلز اور اس سیزن میں اپنا آخری میچ کھیلنے والے آئرش انکل سٹرلنگ نے کہانی کا آغاز کیا اور وہی روایتی مار دھاڑ سے کراچی کو پریشر میں ڈال لیا، آج سٹرلنگ کچھ کچھ ڈھیلے تھے تو ہیلز نے کسر نکال دی، پاور پلے کے اختتام پر 52 رنز کچھ کم سکور نہ تھا کہ عماد نے دوبارہ انٹری ماری اور ہیلز کو گریگوری کے ذریعے پکڑ لیا تو سٹرلنگ بولڈ ہو گئے نبی کے ہاتھوں ۔ منرو صاحب تو اپنی سابقہ ٹیم کراچی کی طرف سے کھیلتے نظر آئے 33 گیندوں پر 33 ہی رنز بنائے لیکن کپتان شاداب نے ایک بار پھر شاندار بلے بازی کی ١٩ گیندوں پر 34 رنز بنا کر رخصت ہوئے تو فہیم اور اعظم خان کی مختصر باری نے سکور کو 177 تک پہنچا دیا۔

کراچی کی جانب سے لارڈ عثمان شنواری اور عمید آصف نے کفایتی گیند بازی کی، خاص کر عمید نے تو دل جیت لیا، آخری اوور میں اعظم کے ہتھے چڑھ گئے وگرنہ بہترین جا رہے تھے۔

کراچی نے شرجیل اور بابر کے ذریعے ٹارگٹ کا پیچھا شروع کیا تو شرجیل نے ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑا اور رن آؤٹ ہو کر چلتے بنے، اس بحث میں مت پڑیں کہ غلطی کس کی تھی، یہ دیکھیے کہ شرجیل نے ڈائیو لگا کر خود کو کریز تک کیوں نہ پہنچایا؟ ہمت ہار جانے اور فٹنس کا خیال نہ رکھنے والے بندے کا مستقبل قومی ٹیم کے ساتھ وابستہ ہو گا یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا مگر شرجیل کیلیے بظاہر اندھیرا نظر آ رہا ہے، میاں شرجیل۔۔۔۔! اپنے پیشوا عامر کی طرح بس لیگز کھیلو اور پیسہ 💵 کماؤ، انٹرنیشنل کرکٹ میں تم سے نہ ہو پائے گا 😉

وزیرستانی راکٹ وسیم جونئیر نے شاندار گیند پر جب کپتان جانی کی بیلز روشن ہوئیں اور کراچی کی امیدیں بجھ گئیں، کوبین آئے تو گیند تھامی حسن علی نے اور پہلی ہی گیند پر مڈل سٹمپ اکھاڑ کر نہ صرف جنریٹر آن بلکہ فارم میں واپسی کا اعلان بھی کر دیا ۔

عماد وسیم نمبر پانچ پر آئے تو میرا ہاسا ہی نہیں رک رہا تھا، صاحبزادہ صاحب نے کچھ “پُٹھی سِدھی” شاٹس مار کر 25 رنز بنائے اور پھر رن آؤٹ کیسے ہوئے یہ مت پوچھیے 😂😂😁😁😂😂😁

عماد وسیم نے بھاگنے کی کال ہی نہ دی اور صاحبزادہ فرحان دیکھے سنے بغیر اتنی تیزی سے عماد کی کریز میں پہنچ گئے جیسے شاداب کی بجائے دوسرے اینڈ پر ملک الموت کھڑے ہیں، اففففففف

کراچی کی امیدیں سمندر میں ڈوبتی جا رہیں تھیں، گریگوری نے بھی نوشتہ ء دیوار پڑھا اور پرفیکٹ لیگ بریک گیند کو کریز سے باہر نکلنے کی سعی ء ناکام کی اور باقی کا کام اعظم نے کر دیا، عماد وسیم صاحب جو نجانے کس بنیاد پر کپتان رہ چکے تھے وہ بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور شاداب ہی کو چھکا مارنے کی کوشش میں منرو کے آہنی ہاتھوں میں کیچ دیا اور کراچی کیلیے کہانی ختم بلکہ شاید اس ٹورنامنٹ میں آل موسٹ دلچسپی بھی ختم۔

شاداب اپنے کوٹے کے آخری اوور میں قہر بن کر برسا اور اولاً جورڈن کی کِلیاں روشن کر کے کراچی فینز کے چہرے بجھائے تو ثانیاً طحہ کو وکٹوں کے سامنے ٹانگ رکھنے کی پاداش میں واپس بھیج دیا، یہ اگرچہ آؤٹ نہیں تھا مگر اپیل اتنی شاندار اور اعظم کی بدولت جاندار تھی کہ ایمپائر نے بھی انگلی کھڑی کر دی، (ثابت ہو گیا کہ “کپتان خان” دوسروں کو میدان سے باہر کرنے کیلیے ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا منتظر رہتا ہے 😂😁) چار اوورز میں محض پندرہ رنز دے کر چار وکٹیں لی 😘 شاباش 🐆 چیتے ۔۔۔۔۔۔! یہی فارم کینگروز کے خلاف بھی برقرار رکھنی ہے اور دل کھول کر اسی طرح ان کا شکار کرنا ہے ❣️

محمد نبی نے آخر میں اچھی شارٹس کھیلیں 28 گیندوں پر 47 رنز کیے مگر یہ دم توڑتے ہوئے گھوڑے کی آخری کوشش تھی۔ اسلام آباد نے 42 رنز سے میچ جیت لیا ۔

کراچی کا اب بس یہی کام رہ گیا کہ

ہم تو ڈوبے صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے

کے مصداق اب کس ٹیم کو پلے آف میں بھجوانا ہے اور کسے اپنے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر کروانا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: