دیوار چین جیسی پاکستان میں دیوار کہاں واقع ہے؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں |جبلی ویوز

دیوار پاکستان ۔

ستم تو یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت اس بات سے بھی بے خبر ہے کہ سندھ میں دیوارِ چین کی طرح ہی ایک دیوار بھی موجود ہے جو رنی کوٹ کو اپنے تحفظ میں لیے ہوئے ہے۔

یوں تو سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے جس کا اقرار دنیا کے نامور مؤرخ اور محقق بھی کرچکے ہیں۔ سندھ میں موجود موہن جو دڑو، کوٹ ڈیجی کا قلعہ، رنی کوٹ اور مکلی کا قبرستان اس بات کے گواہ ہیں کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے لیکن اپنے قیمتی ورثے کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے سندھ اس وقت تاریخی مقامات کی تباہی کے دہانے پر ہے۔

سندھ کو تاریخی اعتبار سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے جسے ’انڈس سولائیزیشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اور گزشتہ کئی سال سے دنیا کی اس قدیم ترین تاریخ کے آثار تیزی سے خستہ حالت میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

موہن جو دڑو سے لے کر کوٹ ڈیجی اور عمر کوٹ کے قلعوں تک، حیدرآباد کے لعل قلعے سے لے کر کراچی کے چوکنڈی کے قبرستان تک جہاں جہاں نظر دوڑائی جائے گی، وہاں قدیم آثاروں کی حالت خستہ ہی نظر آئے گی۔

اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ کے محکمہءِ نوادرات اور ثقافت نے غیر ملکی تعاون سے کچھ تاریخی مقامات اور آثاروں کی بحالی پر کام شروع کیا ہے تاہم اب بھی بہت سارے مقامات بحالی کے منتظر ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے جن مقامات کی بحالی یا ان پر توجہ دی جا رہی ہے ان میں تاریخی ’رنی کوٹ‘ بھی شامل ہے، جسے کچھ مؤرخین دنیا کا سب سے بڑا قلعہ بھی قرار دیتے ہیں۔

اگرچہ عالمی و ملکی ماہرین نے مجموعی طور پر باہمی اتفاق سے ’رنی کوٹ‘ کو دنیا کا سب سے بڑا قلعہ قرار نہیں دیا تاہم زیادہ تر ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ کوٹ دنیا کا سب سے بڑا کوٹ ہے

قلعے کے مرکزی گیٹ پر پہنچتے ہی سیاح سحر میں کھو جاتے ہیں

رنی کوٹ 32 کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے—

ماہرین کے اختلافات اور اتفاق اپنی جگہ لیکن ستم تو یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت اس بات سے بھی بے خبر ہے کہ سندھ میں دیوارِ چین کی طرح ہی ایک دیوار بھی موجود ہے جو رنی کوٹ کو اپنے تحفظ میں لیے ہوئے ہے۔

کراچی سے تقریباً 300 کلومیٹر کی دوری پر ضلع جامشورو کے پہاڑی صحرا میں موجود رنی کوٹ جسے ’عظیم دیوارِ سندھ ‘ بھی کہا جاتا ہے جامشورو شہر سے لگ بھگ 120 کلومیٹر نیچے چھوٹے سے شہر سن کے قریب واقع ہے ۔

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: