نکاح کیوں ضروری ہے؟؟؟

نکاح کیوں ضروری ہے؟؟ 

جنسی خواہش اللہ تعالی نے ہر جاندار میں رکھی ہے تاکہ وہ اپنی نسل آگے بڑھا سکے  اللہ تعالی نے تمام جاندار چیزوں کو دو دو جنس یعنی جوڑوں کی شکل میں بنایا ہے۔

 رب ذوالجلال نے یہ خواہش انسان میں بھی رکھی ہے انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اللہ تعالی نے انسانوں کی راہنمائی کیلئے انبیاء علیہم السلام بھیجے جو وقتا فوقتا انسانوں کی راہ نمائی کرتے رہے 

 تو لازمی امر ہے کہ انسانوں کے لئے جنسی تسکین کے قوانین بھی خدا تعالی کے طرف سے عطاکردہ ہوں ۔

 جنسی تسکین  فحاشی کے ذریعے  بھی ممکن تھی لیکن اللہ تعالی کو فحاشی سے نفرت ہے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر فحاشی سے روکا ہے اور اسباب فحاشی سے بھی روکا ہے قرآن کریم میں تقریبا 24 مقامات ایسے ہیں جہاں پہ فحاشی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

  👈 نکاح کی تاریخ 

 کچھ اہل علم کا ماننا ہے کہ انسان پہلے جنگلوں میں رہا کرتے تھے جڑی بوٹیاں ان کا کھانا تھا اور جنسی بے راہ وروی تھی جس کے نتیجے میں اگر کسی ایک بندے میں کوئی بیماری ہوتی تو وہ فورا پھیل جاتی اور دوسرے لوگوں کو بھی لگ جاتی جس کا حل شادی کی صورت میں نکالا گیا کہ ہر انسان کو جوڑے تک محدود کیا گیا جوڑا آپس میں تعلقات بنائے تو کوئی بیماری اگر ہو بھی تو ان دونوں تک محدود رہے یہ بات معقول ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے یہ بات غلط معلوم ہوتی ہے کیونکہ سب سے پہلے  انسان ہی نبی تھے اور اللہ پاک قدم قدم پہ ان کی راہنمائی کرتے تھے اللہ تعالی نے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام سے ہی نکاح کا سلسلہ شروع فرمایا ہابیل اور قابیل کا واقعہ بھی اس موقف کی تائید کرتا ہے۔

👈 نکاح کیوں ضروری ہے 

جنسی تسکین اور نسل کا آگے بڑھانا جب فحاشی کے ذریعے منع کیا گیا تو اس کا متبادل بھی فراہم کیا گیا کیونکہ جنسی تسکین کھانے پینے کے بعد انسان کی تیسری ضرورت ہے اگر نکاح نہ کیا جائے تو انسان لازماً فحاشی کی جانب راغب ہوگا۔

 اس سے بچنے کیلئے نکاح لازمی قرار دیا گیا۔

👈 نکاح اسلام میں 

اسلام میں نکاح کی بہت اہمیت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ»

ترجمہ: 

حضرت عبداللہ بن مسعود   ؓ  بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’آئے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص جماع اور نکاح کے اخراجات کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ شادی کرے ، کیونکہ وہ نگاہوں کو نیچا رکھنے اور عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے زیادہ مؤثر ہے ، اور جو شخص (عقدِ نکاح کی) استطاعت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے ، کیونکہ یہ اس کی شہوت کم کرنے کا باعث ہے ۔‘ مشکواۃ شریف حدیث نمبر 3080 

ایک اور حدیث میں آیا ہے 

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَم» . رَوَاہ ابوداوُد وَالنَّسَائِيّ

ترجمہ:

حضرت معقل بن یسار   ؓ  بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی عورتوں سے شادی کرو ، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا ۔‘‘ ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔ 

ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق نکاح سے بندے کا آدھا ایمان مکمل ہوتا ہے باقی آدھے ایمان کیلئے وہ تقوی اختیار کرے 

اسلام آنے سے پہلے عربوں میں چار طرح کے نکاح ہوا کرتے تھے۔

1)نکاح الخدن 

یعنی جسے عام الفاظ میں یاری کہا جاتا ہے مرد اور عورت کے باہمی رضا مندی سے بغیر نکاح کے ازدواجی تعلقات قائم کرلیتے تھے اور جب چاہتے تو بغیر طلاق کے ان تعلقات کو ختم کرتے تھے ان کی جو اولاد ہوتی وہ ماں کی طرف منسوب ہوتی تھی۔

2)نکاح البغایا 

یہ بہت ہی گھٹیا قسم تھی نکاح کی اس میں دس بارہ مرد کسی کسبی عورت سے ملاپ کرتے اور اولاد جس کی مشابہہ ہوتی اسی کو دی جاتی۔

تیسری قسم میں بیوی شوہر کے رضامندی سے کسی بہادر شخص سے تعلقات بناتی تاکہ ان کی اولاد بھی بہادر بنے۔

4) مروجہ نکاح ایجاب قبول مہر گواہ وغیر تمام لوازمات کے ساتھ

5) نبی کریم ﷺ نے مروجہ نکاح کو برقرار رکھا دیگر تین کو ختم کروادیا۔

شریعت میں اگر کوئی آدمی جنسی ضرورت شدت سے محسوس کرر ہا ہوں اور اس کے پاس نکاح کے وسائل بھی موجود ہوں تو نکاح فرض ہوجاتا ہے۔

اور اگر وسائل کی کمی ہو اور جنسی ضرورت کی شدت محسوس کررہا ہو اور گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو نکاح واجب ہے۔

اور اگر نکاح کے لئے مناسب وسائل ہوں لیکن جنسی ضرورت اتنی زیادہ نہ ہو کہ گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تب نکاح سنت ہے۔

اور اگر کوئی آدمی جنسی طور پہ ناکارہ ہو اور مال اسکے پاس کافی ہو جو نکاح کے علاوہ خرچہ میں بھی مددگار ہو تو اس صورت میں نکاح مکروہ ہے۔ 

اور اگر اس کے پاس مال (وسائل)  کم ہوں یا نہ ہوں اور جنسی ضرورت بھی محسوس نہ کرتا ہو (نامرد ہو)  تو اس صورت میں نکاح حرام ہے۔ 

نکاح نہ کرنے والے کا حکم 

جو آدمی استطاعت کے باوجود نکاح نہیں کرتا وہ گنہگار ہے۔  نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے جو نکاح سے منہ موڑتے وہ ہم میں سے نہیں ہے  

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: رَدَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَان ابْن مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا

حضرت سعد بن ابی وقاص   ؓ  بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عثمان بن مظعون ؓ  کی ترکِ نکاح کی سوچ کو رد فرمایا ، اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۔ متفق علیہ ۔

ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے کہ سنت کے مطابق نکاح کو عام کریں زنا اور فحاشی کی حوصلہ شکنی کریں۔

رضوان احمد حقانی

follow on twitter

@real_kumrati

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: