سینڈک کے ذخائر اور ہماری نالائقی

‏‎#ٹروبلاگ

سینڈک کے ذخائر اور ہماری نالائقی

1970 میں ضلع چاغی کے علاقے سینڈک میں تانبے سونے اور چاندی کے ذخائر دریافت ہوئے. 1995 میں وفاقی حکومت نے 13 ارب روپے کی لاگت سے سینڈک میٹلز لمیٹڈ قائم کی تاکہ مائننگ کا کام شروع کیاجاے. کمپنی نے 4 ماہ تک ٹرائلز پرکام کیا. ماہانہ ‏1700 ٹن تانبا 6000 اونس سونا جبکہ 12000 اونس چاندی نکالی گئی. جرمنی اور فرانس نے 50 میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگانے کیلئے گرانٹ مہیا کی.

بلوچستان حکومت نے 32 ہزار ٹن یومیہ پیداوار دینے والے واٹر پلانٹ سمیت روڈ اور ائیر پورٹ آپریشنز کے لئے فنڈز مہیا کئے. 2000 افراد کے لیے ‏رہائش گاہ تعمیر کی گئی. بازار اسکولز شاپنگ پلازے اور ہسپتال بھی بناے گئے. ٹرائل رن کے بعد منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے مزید 17 ارب روپے کی ضرورت تھی.

لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں میں اختلافات اور بیوروکریسی کی نالائقی کیوجہ سے فنڈز کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی. نتیجتاً پراجیکٹ ‏تعطل کا شکار ہوگیا. 7 سال بعد جنرل مشرف کی حکومت نے2002میں چین کے ساتھ 350 ملین ڈالرز کا معاہدہ کیا جسکے تحت کان 10 سال کے لئے چینی کمپنی میٹا لوجیکل گروپ کو لیز پر دیدی گئی. جسے 2012 اور 2017 میں 5 پانچ سال کیلئے توسیع دی گئی.

جسے موجودہ حکومت نے مزید 15 سال کیلئے بڑھادیا ہے. ‏چینی کمپنی 20 سال کے دوران 1 ارب 10 کروڑ ڈالرز کا تانبا سونا اور چاندی نکال چکی ہے. جس میں 42 فیصد پاکستان کے حصے میں آیا ہے. وفاقی اور صوبائی حکومت کی شرح بالترتیب 70 اور 30 فیصد رہی. چونکہ وفاق نے زیادہ اخراجات کئے اس لئے حصہ بھی زیادہ بنا. بنیادی طور کان کے 3 زون جبکہ لائف ‏40 سال ہے. چینی کمپنی شمالی اور جنوبی زونز سے ذخیرہ نکال چکی ہے. اب اگلے 15 سال کے دوران مشرقی زون میں مائیننگ کی جاےگی. قوی امکان ہے کہ کان کی لائف کے بقیہ 5 سال بھی چینی کمپنی کو ہی دئیے جائینگے.

گوکہ 1900 پاکستانی کان سے وابستہ ہیں لیکن اگرحکومتوں نے مائننگ کے شعبے میں مہارت ‏حاصل کرنے کیلے اقدامات اٹھائے ہوتے تو نہ صرف سینڈک کے ذخائر سے مکمل آمدن قومی خزانے میں جمع ہوتی بلکہ ریکوڈک کے وسیع تر ذخائر بھی اب تک نکل چکے ہوتے. لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم آج بھی اپنے ماضی سے سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: