سلطانز کو ہرانا ناممکن……..؟

ملتان کے سلطانز کا ٹرافی کی جانب مارچ کامیابی سے جاری ہے، پہرہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے، ٹورنامنٹ میں بریک آیا، کراچی سے لاہور پہنچے، دوسری ٹیموں نے اپنے ترکش میں نئے تیر (نئے کھلاڑی) بھی سجائے مگر ملتان کے سلطانز کو شکست نہ دے پائے، صحیح معنوں میں دفاعی چیمپئن ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔! ❣️

سب سے پہلے تو لاہور کا کراؤڈ دیکھ کر افسوس ہوا کہ اس سے زیادہ مجمع تو کراچی میں لگا ہوتا تھا، ففٹی پرسنٹ کی اجازت تھی، ففٹی پرسن کی نہیں 😕 امید ہے اگلے میچز میں گراؤنڈ بھرے ہوں گے۔

چونکہ امیدوں پر “اوس” پڑنے کا ٹھیک ٹھاک امکان تھا اس لیے وکی بھائی نے حسبِ روایت حسبِ معمول ٹاس جیتا اور پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا ، ملتان نے آج پاور پلے میں اچھا آغاز کیا مگر جب ملک اور لیونگسٹن کے اوورز شروع ہوئے تو شان و رضوان دونوں ہی کچھ سست پڑ گئے، یکدم حالات بدل گئے، جذبات بدل گئے واقعات بدل گئے، بڑی ہٹس کی کوشش کرتے ہوئے رضوان باہر چل دیے مگر اس سے پہلے 34 گیندوں پر 34 رنز ہی بنا سکے جس میں دو چوکے شامل تھے۔

دوسری جانب شان ڈٹ کے کھڑا تھا، ایک اور نصف سنچری سے قومی ٹیم میں واپسی کا جشن منایا، دوسری جانب اس کو جوائن کرنے والے ٹم ڈیوڈ نے باری کو زبردست انداز میں بنانا شروع کیا، آخر میں روسو اور خوشدل نے گرتے پڑتے ٹیم کا سکور 182 پر پہنچا دیا ۔

وہاب ریاض اور سلمان ارشاد گیند بازی میں خاصے کامیاب رہے البتہ فیلڈنگ نے ایک بار پھر مایوس کیا، نجانے اس چیز پر سبھی ٹیمیں توجہ کیوں نہیں دے رہیں؟ کھیل میں بیزاریت سی محسوس ہونے لگتی ہے آسان کیچ ڈراپ ہوتا دیکھ کر ۔

بہرکیف زلمی نے باری کا آغاز کیا تو وہی گھسے پٹے مہرے اکمل اور حیدر علی نے اعتماد سے عاری انداز میں سکور کا پیچھا شروع کیا مگر عادت سے مجبور ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر چل پڑے، رضوان اور دھانی کی شدید ٹکر کے باوجود دھانی نے لیجنڈ اکمل کا عمدہ کیچ کیا، اب ایک آؤٹ ہو چکا تھا اس کے باوجود حیدر علی نے ذمہ داری قبول نہ کی اور اسی اوور میں ہی بولڈ ہو کر نہ صرف زلمی کی کشتی کو بھنور میں ڈال گئے بلکہ نیشنل ٹیم میں اپنا کم بیک بھی مشکل کر گئے۔

اب لیونگسٹن اور شعیب دی گولڈن ملک نے باری کو آگے بڑھانا شروع کیا مگر پکچر ابھی باقی تھی کہ دھانی کی گیند پر عمر گل کے بھتیجے عباس نے لیونگسٹن کا آسان سا کیچ گرا دیا، اس موقع پر دھانی کے رویے کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی، فوراً ریلیکس ہونے کا مشورہ دیا اور عباس کو کہا کول ڈاؤن کول ڈاؤن 😘 اس کے فوراً بعد اگلی گیند کو عوام کے بیچ میں پہنچا کر لیونگسٹن نے کیچ ڈراپ کرنے کا شکر منایا، دوسری جانب کریز پر کھڑے ملک جب کھیلنے آئے تو ٹم ڈیوڈ کے ہاتھوں میں گیند اچھال دی لیکن اس نے بھی کیچ پکڑنے سے انکار کیا۔

لیونگسٹن موقع کا زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکے اور آفریدی کے ہاتھوں کاٹ بی ہائنڈ ہو گئے۔

حسین طلعت کو دھانی نے آؤٹ کیا تو جشن مناتے ہوئے عمران طاہر کا ریکارڈ توڑ دیا، مجھے یقین ہے کہ ڈپریشن نا شکار بندہ اگر لاڑکانہ ایکسپریس شاہ نواز دھانی کو مسکراتے اور وکٹ کا جشن مناتے ہوئے دیکھ لے تو اس کی ڈپریشن ختم ہو جائے گی،

JUST LOVE IT

😘 بات صرف یہیں تک محدود نہیں کہ یہ بندہ دل جیتنے کا ہنر جانتا ہے، یہ بندہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا طریقہ جانتا ہے، ردرفورڈ کو پہلی ہی گیند پر باونسر مارا تو “فالو تھرو” میں بھاگتے ہوئے اس کے پاس جا کر تھپکی دی اور خیریت دریافت کی ❣️

ردر فورڈ بھی بڑی ہٹ لگانے کی کوشش میں رگڑے گئے تو ملک ٹیلر ماسٹر 44 رنز پر ہمت ہار گئے، کپتان وکی ناکام ٹھہرے تو اور بھی کوئی کھلاڑی جم کر نہ کھیل سکا اور یوں سلطانز نے یکطرفہ مقابلے کے بعد 42 رنز کی ایک اور آسان فتح کو گلے لگایا، موزاربانی نے صرف 18 رنز دے کر تین اور خوشدل نے 26 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر سب کا دل خوش کیا۔

پشاور، کراچی اور کوئٹہ کے مابین اب اس بات کا مقابلہ ہے کہ کون ٹورنامنٹ سے باہر ہو گا ۔۔۔۔!

جاتے جاتے یہ خبر بھی سنتے جائیں کہ راشد خان آخری میچز کیلیے قلندرز کو دستیاب نہیں ہوں گے، ان کی جگہ آسٹریلین نژاد فواد احمد کو سکواڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: