قلندرز نے کر دکھایا ناقابل شکست ملتان کو پہلی شکست

حق قلندر
سچ قلندر

جو کوئی نہیں کر سکتا وہی تو قلندر کرتے ہیں 😘

‏اپنے ہوم گراونڈ پہ پی ایس ایل کی ناقابل شکست ٹیم کے سارے کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے لاہوریوں کو تحفہ دیا ہے قلندر بوائز نے۔

ہوم گراؤنڈ پر پہنچ کر نہ صرف وردی بدلی بلکہ جو کام کسی سے نہ ہو سکا وہ قلندرز نے کر دکھایا، سلطانز کے ٹرافی کی جانب بڑھتے قدم رک گئے، فتح کے مارچ کو بریک لگ گئی اور ٹرافی پر پہرہ ختم ہو گیا ۔

اس تاریخی اور زبردست کامیابی کا آغاز ہوا جب زندہ دلان لاہور کے جمِ غفیر کے سامنے رضوان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی دعوت دی قلندرز کو تو عبداللہ شفیق کے جلد آؤٹ ہونے کے باوجود فخر نے کوئی پریشر نہ لیا، شاندار فارم کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے ایک شاندار سی نصف سنچری سکور کی، پروفیسر نے بھی سست آغاز کو بڑے سکور میں بدلنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی رہے، کامران غلام کی تکنیک بھی اچھی ہو گی، ٹائمنگ بھی ہو گی، فُٹ ورک بھی عمدہ ہو گا مگر اپنا رنگ جما نہ سکے ابھی تک، نہ ہی اپنے کردار اور ٹیلنٹ سے انصاف کر سکے، ان پر کوچز کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ٹوئنٹی کے مزاج کے مطابق بلے بازی کر سکیں۔ فِل سالٹ نے بھی فخر سے بلے بازی کی اور مختصر سی اچھی باری کھیل کر سکور کو 182 تک لے گئے ۔

اب قلندرز نے گیند تھامی تو اس ٹورنامنٹ کے دو اب تک کے بہترین بلے باز سامنا کر رہے تھے اس ٹورنامنٹ کے سب سے بہترین باؤلنگ اٹیک کا اور پھر گیند باز ہی جیتے، شان کو جلد ہی واپس لوٹنا پڑا کہ عبداللہ نے ہوا میں جست لگاتے ہوئے شاندار کیچ کر کے نہ صرف وکٹ لی بلکہ قلندرز کا حوصلہ بھی جوان کر دیا، رضوان کل کی طرح آف کلر لگے، سنگلز ڈبلز بھی ان کیلیے مشکل لگ رہے تھے مگر وہ چیمپئن بلے باز ہے واپسی کرے گا اور جلد ہی کرے گا، سکور بھلے بنے نہ بنے ایک ہی دل بار بار جیت رہا ہے، شاہین نے جب تھرو مارنی چاہی تو بازو کھول کر گلے لگانے لگا اشارہ کیا اور شاہین سمیت سبھی مسکرانے لگے، دنیا خوبصورت لگنے لگی، پاکستان کرکٹ کے دو شہزادے ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہوئے کپتانی کر رہے تھے مگر مسکرا رہے تھے
‏لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نا ہو ❤️
😘 دیٹس بیوٹی آف پی ایس ایل

سکور پچاس کو کراس کرتا ہے تو راشد خان گھومتی گیندوں سے پریشان کرنے آ جاتا ہے اور پھر چشمِ فلک نے یہ نظارہ دیکھا، رضوان نے بلند و بالا شاٹ کھیلنے کی سعی ء ناکام کی اور بیلز روشن ہو گئیں، ان کی روشنی میں قلندرز کے چہرے بھی جگمگا اٹھے، روسو آئے تو راشد نے اسے پہلی ہی گیند پر باہر کو بھیج دیا اور دوسری مسلسل وکٹ لے کر میچ کی ڈرائیونگ سیٹ پر قلندرز کو لا بٹھایا، دنیا کا نمبر ون گیند باز واقعی ہر طرح کی کنڈیشن میں گیند بازی کرنا جانتا ہے 😘

ڈوبتی کشتی دیکھ کر صہیب کی ہمت بھی جواب دے گئی اور ان کا سلسلہ ء ناکامی مزید دراز ہو گیا۔

پچ پر آ کر “خطرے ناک” ہو جانے والے ٹم ڈیوڈ اور انور علی کو فخر نے زمان کی مدد سے قابو کیا اور یوں ملتان کی شکست سب کو نظر آنے لگی، اسی دوران زمان خان اور سالٹ نے ایک ایک کیچ بھی چھوڑا مگر جیت کے پردے میں یقیناً یہ چھپ جائے گا، آج انہوں نے ثابت کروا دیا کہ

Catches Won The Matches

کا فارمولا آج کم از کم ہمارے لیے کام نہیں کر رہا۔

سلطانز کے دل خوش کرنے واسطے خوشدل نے 22 رنز ضرور بنائے مگر یہ انتہائی ناکافی تھے، اب پچ پر عمران طاہر آئے جن سے توقع کی جا رہی تھی کہ لیجنڈ لیگ کے ایک میچ میں اگر وہ 18 گیندوں پر پچاس بنا سکتے ہیں تو یہاں بھی بازی پلٹی جا سکتی ہے، مگر اس چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کیا کہ باؤلنگ اٹیک 150 کی رفتار سے گیندیں کر رہا تھا، گولی کی رفتار والا شاہین ہو کہ راکٹ پھینکنے والا حارث، زمان کی سپیڈ کے تو کیا ہی کہنے ۔ 😘

شاہین نے اپنے کوٹے کے آخری اوور میں موزاربانی کی وکٹیں اکھاڑیں تو سلطانز کی شکست پر مہر لگا کر تصدیق کا ٹھپہ لگایا ہیری بروکس نے، جس نے شاندار کیچ تھام کر ملتان کی باری خاتمہ کیا اور یوں ہم نے میچ جیت لیا ❣️

‏ملتان سلطان کو فائنل میچز سے قبل دھچکا لگنا ضروری تھا تا کہ اپنی غلطیوں پر نظرثانی کریں، تاہم لاہور قلندر کے ہاتھوں شکست ہوئی یہ بھی اچھا ہو گیا، کیونکہ دلی خواہش ہے اس بار انہیں دو ٹیموں کا فائنل ہو اور رزلٹ بھی یہی رہے۔ 😃

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: