فخرزمان کی مزاحمت کے باوجود قلندرز کو شکست دفاعی چمپئینز فائینل میں پہنچ گئے

وسیب جس کی مٹھاس مشہور ہے، وسیب جس کی میٹھی زبان زدِ عام ہے ان کا مقابلہ تھا زندہ دلانِ لاہور سے، داتا کی نگری والوں سے اور صوبائی دارالخلافہ سے اور اگر سچ کہوں تو صرف فخر زمان سے

میچ کی طرف سے بڑھنے سے قبل ایک شعر لاہور کے شائقین کے نام، ملتان کے جوانوں کے نام اور پاکستان کے بیٹوں کے نام جنہوں نے ماحول بنایا، جنہوں نے کھلاڑیوں میں جوش بھرا، جنہوں نے دنیا کو بتلایا کہ ہم پر امن لوگ ہیں، ہم کھیل سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ۔

‏شہرِ لاہور تری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو

ٹاس جیتا لاہور نے تو پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا ، شان مسعود کریز پر آئے تو پروفیسر نے گیند تھام لی اور نتیجہ آپ جانتے ہی ہیں کہ شان پہلی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر باہر

اب عامر آئے اور شاہین کو ایک کراری کور ڈرائیو لگا کر سب کو اپنی عظمت کے گن گانے پر مجبور کر دیا، جلد ہی وہ پٹیل اور سالٹ کے گٹھ جوڑ کا شکار ہوئے تو رضوان نے محتاط انداز اپنا لیا اور باری کے اختتام تک ان پر یہ رنگ برقرار رہا، 51 گیندیں کھیل کر 53 رنز جس میں محض تین چوکے لگائے، مانا کہ پچ سلو تھی، گیند رک کر آ رہی تھی مگر رضو میاں آپ کو کوشش کرنی چاہیے تھی جیت کے پردے میں آپ کی یہ غلطی چھپنی نہیں چاہیئے، دوسری جانب مردِ آہن روسو نے تن تنہا ملتان کا سارا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھایا اور شاندار نصف سنچری سے ٹیم کا مجموعہ 163 تک لے گئے، اس باری میں اکلوتے چھکے سمیت سات چوکے بھی شامل تھے، قلندرز کی جانب سے پروفیسر نے چار اوورز میں سولہ رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

قلندرز کا آغاز اچھا تھا مگر عبداللہ شفیق آفریدی کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو اور کامران غلام رن آؤٹ ہوئے تو پروفیسر سٹمپ ہو کر قلندرز کی کشتی بیچ بھنور میں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے واپس آ گئے، اب کریز پر بروک اور فخر تھے رن ریٹ گیارہ کو چھو رہا تھا، شائقین بور ہو رہے تھے کہ فخر کو بھولا بسرا کام یاد آگیا

‏ہم قلندرز ہیں ہمیں نہ ستاؤ

کہتے ہوئے سلطان کے سب سے بہترین گیند باز عمران طاہر کو رگڑ دیا، تین بلند و بالا چھکوں سے نہ صرف قلندرز کو میچ کی ڈرائیونگ سیٹ پر لا بٹھایا بلکہ کسی بھی سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنا کر بابر سے ریکارڈ چھین لیا، فخر کیا کمال بلے باز بن کر سامنے آ رہا ہے 😘 اس سیزن کی ساتویں نصف سنچری بنا کر صرف خوشدل کا ہی نہیں سب وسیب والوں کو دل رنجیدہ کر دیا کہ چوتھا چھکا لگ چکا تھا 😘❣️

اب دھانی آئے اور ہیری بروک کو واپس جانا پڑا، اس موقعے پر دھانی کا ٹریڈ مارک جشن نہ منانا ظاہر کرتا تھا کہ گیم بڑی ہے، میچ اہم ہے اور معاملہ نازک ہے ❣️

31 پر 56 رہتے تھے کہ فخر ایمپائر کال پر ایل بی ڈبلیو ہو کر باہر، ڈیوڈ ویلی نے آؤٹ کیا تو سلطانز نے سُکھ کا سانس لیا

Fakhar Gone, Lahore Gone, it’s Simple

فخر یار

تو جو نہیں ہے، تو کچھ بھی نہیں ہے 😢

اب سالٹ اور پٹیل کریز پر تھے اور خاص طور پر آج “سالٹ” کو “نمک” حلال کرنا تھا مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا، دھانی نے وہی کام کیا جو کسی زمانے میں عمر گل کیا کرتا تھا، مڈل اوورز میں آ کر اہم وکٹیں حاصل کرنا، سالٹ کا کیچ لیا عظمت نے ۔

ویزہ اور پٹیل جو اس سے پہلے بھی لاہور کیلیے چمتکار کر چکے تھے وہ کریز پر موجود تھے، تماشائیوں میں بے چینی تھی، سنسنی تھی اور دلوں کی دھڑکن اتھل پتھل ہو رہی تھی اسی دوران ویلی نے اپنی ہی گیند پر ویزہ کا کیچ بھی چھوڑا مگر اس کا خسارہ پورا کیا دھانی نے، خطرے ناک ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پٹیل کا شاندار کیچ تھام لیا اور میچ بھی تھام لیا

‏سمت پٹیل کی عمر کے لوگ قبروں کے ڈیزائن پسند کر رہے ہوتے ہیں لاہور والوں نے اسے آل راؤنڈر رکھا ہوا ہے *** کہیں کے 😑 نہ فٹنس نہ باولنگ نہ فیلڈنگ نہ بیٹنگ 😒

شاہین آیا تو دھانی نے بولڈ کر کے اسے آفریدی کی تنقید کا بدلہ لے لیا، لالا یار اس میچ کے بعد تنقید کر لیتے نا، ہمارا کام بگاڑ دیا تو نے 💔

14 پر چالیس درکار تھا کہ حارث رؤف نے ویزے کو جوائن کیا مگر نقصان اتنا ہو چکا تھا کہ قلندرز کیلیے نا ممکن تھا اب یہ

ظابطے کی کاروائی پوری کرنے کیلیے ویزہ کو رومان رئیس نے آؤٹ کیا تو تماشائیوں نے ٹوٹے دل سے جانا شروع کر دیا،

آخری اوور میں حارث رؤف نے چھکا لگایا مگر وہ ایک چھکا کہاں تک پورا ہو سکتا تھا 💔 قلندرز 102 پر تین تھے اور ایٹ دا اینڈ 135 پر نو اور 28 رنز سے ہار چکے تھے

سلطانز نے تختِ لاہور پر چڑھ کر قلندرز کے جبڑوں سے فتح چھینی، بلاشبہ یہ زبردست کم بیک ہے، دھانی یارا ۔۔۔۔۔! کمال کی باؤلنگ اور شاندار کیچ 😘 رضوان میاں کسی سیزن میں دس میچ جیتنے والے پہلے کپتان بھی بن گئے اور سلطانز کو فائنل تک بھی لے گئے، واٹ اے چیمپئن ٹیم

قلندرز کیلیے ہارڈ لک 💔😠

چلو کوئی بات نہیں، ایک چانس اور ہے دنیا ابھی باقی ہے گیم ابھی باقی ہے، اس لیے کہ ‏قلندر سب کُچھ لٹا کر بھی افسوس نہیں کرتے ❣️ ہم ہی ان شاءاللہ فائنل میں ملتان کا مقابلہ کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: