بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے بالآخر لاہور قلندرز چمپئن بن ہی گئی

‏تختِ لاہور ہمیشہ سے ملتان کا استحصال کرتا آیا ہے اور یہی کچھ آج بھی ہوا۔ 😁روح میں مستی بھر دیتا ہےعشق قلندر کر دیتا ہےبڑے میچ کا آغاز ہوا تو ٹاس جیتا شاہین نے اور بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا مگر فخر، عبداللہ اور کامران جب پویلین لوٹے تو سکور بورڈ پر محض 25 کا ہندسہ لاہور ہی نہیں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کا منہ چڑا رہا تھا، مگر یہ پروفیسر کا دن تھا، یہ تجربے کو بروئے کار لانے کا دن تھا، ‏جب بھی آپ بڑے اسٹیج کی بات کرتے ہیں تو آپ تجربے کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور محمد حفیظ نے فائنل میں اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔

اپنے کیرئیر کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے اپنے ناقدین کو اس لمحے بہترین دستک سے جواب دیا جب ان پر تنقید ہوتی ہے!👏شاندار بلے بازی سے قلندرز کیلیے میدان سیٹ کیا اور پھر رخصت ہوئے تو ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزہ نے فنش کرنے کی ٹھان لی۔ یہ ڈیوڈ ویزے کا جہان ہے اور ہم اس کے عہد میں جی رہے ہیں، مت پوچھیے کہ قلندرز نے کیسی کیسی دھمال ڈالی، رئیس کی دھلائی اور ویلی کی پٹائی، دھانی کا سافٹ وئیر اپڈیٹ ہو یا عمران طاہر کے ساتھ شغلسب کچھ ہی شاندار تھا، آصف آفریدی کا شاندار سپیل جس نے قلندرز کے ٹاپ آرڈر کو اڑا کر رکھ دیا تھا، مگر ویزے کے چھکوں نے اسے دھندلا دیا 😘 میرے خیال میں ڈیوڈ ویزہ کیلیے پی ایس ایل انتظامیہ کو الگ سے کوئی کیٹیگری متعارف کروا کے دینی چاہیے، یہ بندہ پلاٹینم سے بھی الگ درجے کا ہے، 8 گیندوں پر 3 چھکوں اور ایک چوکے سمیت 28 رنز اور ہیری بروک نے 41 رنز بنا کر قلندرز کو ایک ڈیسنٹ ٹوٹل تک پہنچایا ۔

آخری پانچ اوورز میں 77 رنز جوڑ کر قلندرز نے تماشائیوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا ۔سلطانز 181 کا پیچھا کرنے اترے تو شاہین شاہ پہلے ہی اوور میں ذیشان نے مسعود کا کیچ چھوڑ کر سب کی گالیوں کا رخ اپنی جانب کر لیا، حارث آئے تو شان کو چانس انہوں نے بھی دیا اور پھر رضوان نے شاہین کے اوور میں ہاتھ کھولے مگر ساتھ ہی قلندرز کو ہوش آیا، رضوان بولڈ ہوئے تو شان دو مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے فخر کی شاندار تھرو پر رن آؤٹ تو پروفیسر نے عامر کو آؤٹ کر کے اپنی عظمت کا اعلان کروا دیا، سلطان صرف دس رنز کے سفر میں تین بہترین کھلاڑی گنوا چکے تھے، شاندار نصف سنچری کے بعد دو وکٹیں لینے والے پروفیسر ایک واضح فرق سے سلطانز کے درمیان حائل تھے، ‏اب میچ مکمل طور پر متوازن تھا، ملتان بالکل اسی پوزیشن پر تھا جہاں اس مرحلے پر لاہور تھا۔ لیکن سوال یہ بنتا تھا کہ ملتان کے لیے کون ویزہ اور بروک بن کر ٹرافی تک سلطان کو لے کر جائے گا؟لیکن زمان کے پہلے اوور میں پھر سے کلیاں روشن ہوئیں اور وسیب والوں کے چہرے بُجھ گئے، آصف آفریدی کو زمان نے بولد کر دیا تھا 😘 قلندرز جھوم رہے تھے، قلندرز نے سٹینڈز سر کر اٹھا لیے تھے اور جیت کی طرف بلکہ ٹرافی ہی طرف ان کا مارچ جاری تھا ۔

روسو اور ڈیوڈ میدان میں تھے اور یہی سلطانز کی آخری امید بھی، ‏ملتان کی اننگز کے 10 اوورز مکمل ہو چکے تھے مگر گھبراہٹ ہونے لگی تھی سلطانز کو کیوں کہ اسکور صرف 58 رنز، وہ بھی 4 وکٹوں پر، ملتان گوروں کے رحم وکرم پر تھا مگر نہیں، گوروں نے آج اہلیانِ وسیب کے ساتھ وہی کیا جو نیٹو نے یوکرائن کے ساتھ کیا، رئیلی روسو نے زمان کی گیند کو ہوائی راستے سے باؤنڈری میں بھیجنا چاہا مگر عبداللہ نے شاندار طریقے سے صرف اسے ہی نہیں بلکہ میچ کو بھی اُچک لیا، سلطانز کی آدھی ٹیم بس 63 پر واپس پدھار چکی تھی، اب ٹم ڈیوڈ اور خوشدل شاہ موجود تھےاک نعرہ لگانے کو دل کر رہا تھاکہمُک گیا تیرا شو ملتاناب کی بار لاہور سلطانشاہین کی کپتانی کی داد نہ دینا ظلم ہو گا، پیشن، جوش، جذبہ، حوصلہ اور ولولہ 😘 سب عوامل نے مل کر سات سال کا انتظار ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، لاہور جیت کی طرف بڑھ رہا تھا، بلکہ شاید ‏پی ایس ایل ٹرافی ملتان سے نکل کر عبدالحکیم انٹر چینج کراس کر کے ایم تھری پر لاہور کی طرف رواں دواں ہو چکی تھی 😍سلطانز جو سٹریٹجک ٹائم کے بعد ہمیشہ سے بدل جاتے ہیں وہ آج بھی اپنی روایت برقرار رکھے ہوئے تھے، جب شاہ جی نے ویزے کو ٹارگٹ کیا اور ایک اوور میں 16 رنز بٹور لیے، آخری پانچ اوورز میں 82 رنز درکار تھے، زندہ دلانِ لاہور کا جشن شروع ہو چکا تھا، مگر ‏ملتان کے سلطان سب کچھ داو پر لگا کر کم بیک کی بھرپور کوشش میں تھے ریممبر دی نیم شاہین شاہ آفریدی دوسرے اوور کی پہلی ہی گیند پر ٹم کو چلتا کیا، میدان میں ہر طرف نظر آنے والے فخر نے شاندار جمپ لگا کر عمدہ کیچ اور سلطانز کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی گئی تھی، مگر شاہین رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، 144 کلومیٹر کی رفتار سے آنے والا یارکر ڈیوڈ ویلی کی بیلز کو اڑا کر سب قلندرز کے چہرے روشن کر دیتا ہے، بوم بوم آفریدی کا داماد اپنے سسر کے ٹریڈ مارک انداز میں جشن منا رہا تھا اور میدان میں ہر سو باجے بج رہے تھے، سیٹیاں بج رہی تھیں، تالیاں بج رہیں تھیں فتح کا سٹیج سج چکا تھا، اس دوران حارث نے خوشدل کی آف سٹمپ اکھاڑ کر سب لاہوریوں کا دل خوش کر دیا ۔قلندرزنے42رنزسے میچ اور ٹرافی جیت لی تھی، سات سال کا انتظار ختم ہو چکا تھا، بھنگڑے اور لڈیاں ڈالی جا رہی تھیں ‏کرکٹ کی جیتپاکستان کی جیتہماری جیتاے میرے اللہ پاکستان میں یہ رونقیں ہمیشہ شاد و آباد رکھنا۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: