پاکستان کا وسطی ایشیا سے جڑنے کا خواب اب پورا ہوگا

ستمبر20 میں ازبکستان کے نائب وزیراعظم پاکستان آے توحکام سے کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں تجارتی سرگرمیوں کیلئےاستعمال کرنیکی بات کی. چونکہ درمیان میں افغانستان تھا اس لئےخراب سیکورٹی حالات کیوجہ سےبات کاغذوں تک محدود ‏رہی. گزشتہ برس طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کرکے امن کی باتیں کیں تو ازبکستان نے طالبان سے ٹرین سروس کی بات کی. جسے انہوں نے ویلکم کہا اور گزارش کی کہ چونکہ انکے پاس پیسوں کی کمی ہے اس لئے آپ یہ منصوبہ خود سے بنا لیں ہم وقت کے ساتھ ادائیگی کردینگے. ازبک صدر نے حالیہ دورہ ‏پاکستان میں منصوبے کا حتمی پلان پیش کیا جسکے مطابق ازبکستان کے شہر رمز سے لیکر پشاور تک ٹریک بچھایا جائے گا. کل لمبائی 722 کلومیٹر ہوگی. 27 اسٹیشن اور 149 پل بناے جائیں گے. رمز سے لیکر مزار شریف تک 149 کلومیٹر کا ٹریک پہلے سے موجود ہے اس لئے باقی ماندہ 573 کلومیٹر بنایا جائے ‏گا. 5 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ 5 سال میں مکمل ہوگا. پاکستان کا وسطی ایشیا سے جڑنے کا خواب بہت پرانا ہے اس لئے ازبک صدر کو گرین سگنل دیا اور یوں دونوں ممالک نے MoU پر سائن کردئے. دونوں ممالک 4 ماہ میں فزیبلٹی مکمل کرکے کام کا آغاز کرینگے. منصوبے کی تکمیل سے ازبکستان براستہ ‏مزار شریف اور پشاور سے کراچی کی بندرگاہ سےاپنی تجارت ممکن بناے گا. مزے کی بات یہ ہے کہ ازبکستان براستہ ٹرین تمام وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ جڑا ہوا ہے. جبکہ روس بھی ایک ٹریک سے لنک ہے. اب یہ منصوبہ حقیقت بنتا ہے تو یقیناً روس بھی گرم پانیوں تک ضرور آے گا. وزیراعظم پاکستان کے ‏حالیہ دورہ روس میں یقیناً یہ بات زیر بحث آئی ہوگی. روس کو اگر نکال بھی دیا جائے تو وسطی ایشائی ممالک کی تجارت کا مجموعی حجم 1000 ارب ڈالر سے زائد ہے. اس لئے CPEC پر 60 ارب ڈالر لگانے والا چین بھی ان ممالک کو گوادر بندرگاہ کے استعمال پر راغب کریگا. یہ تمام باتیں بحرحال تبھی ‏حقیقت بن سکتی ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے حالات سازگار رہیں. امریکہ انڈیا اور نیٹو کوشش کریں گے کہ کسی طرح ماحول کو آلودہ کیا جائے. اس لئے پاکستان کو 2 کی بجاے 4 آنکھوں سے نظر رکھنا ہوگی.

.اللہ کرے دشمن کے ارادے خاک میں ملیں اور پاکستان کا دیرینہ خواب حقیقت بنے

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: