تحریک عدم اعتماد کیا ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے|جبلی ویوز

‏‎#ٹروبلاگ
تحریک عدم اعتماد کیا ہے اور اسکا طریقہ کار کیاہے؟

اپوزیشن یا صدر جب سمجھیں کہ لیڈر آف دی ہاوس غیر موثر ہوگئے ہیں یا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہےہیں تو وہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کو منصب سے ہٹانے کا قانونی طریقہ کار اپناتے ہیں۔ صدر حکمنامہ جاری کرتا ہے ‏کہ وزیراعظم دوبارہ منتخب ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے جبکہ اپوزیشن باقاعدہ اجلاس کی درخواست کرتی ہے جہاں تمام اراکین اوپن ووٹنگ سے اعتماد یا عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی درخواست پر 68 اراکین کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔ ووٹنگ میں342 کے ایوان ‏میں حق میں ووٹ اگر 172 سے کم ہوں تو وزیراعظم اپنی کابینہ سمیت برطرف ہوجاتا ہے۔

اگر اسمبلی کا سیشن نہ ہورہا ہو تو اسپیکر درخواست موصول ہونے کے 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کا پابند ہوتا ہے۔ جسکے بعد 3 سے7 دن کے اندر اعتماد کے ووٹ کا سیشن منعقد کروانا ضروری ہے۔ چونکہ موجودہ ‏اپوزیشن تحریک عدم اعتماد جمع کروا چکی ہے اس لئے اسپیکر 22 مارچ تک اجلاس بلانے کا پابند ہے جبکہ عدم اعتماد کا سیشن 30 مارچ سے پہلے ہونا ضروری ہے۔

اب تک پاکستان میں کوئی بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرسکا لیکن دلچسپ بات یہ کہ کسی بھی وزیراعظم کو عدم اعتماد کے ذریعے ‏نہیں ہٹایا جاسکا۔ 1989 میں پہلی مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گی جس میں بی بی شہید سرخرو ہوئیں۔ دوسری تحریک عدم اعتماد 2006 میں وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف لائی گئی جو اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔

اگر وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام ‏ہوجائے تو اسی سیشن کے دوران نیا قائد ایوان منتخب کرنا ضروری ہے۔اگر اسمبلی ایسا کرنے میں ناکام رہے تو صدر مملکت کواسمبلیاں تحلیل کرکے نئے الیکشن کرانے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

اس وقت قومی اسمبلی کی 342 سیٹوں کی پوزیشن کچھ یوں ہے۔
‏حکومتی اتحاد176
پاکستان تحریک انصاف 155
ایم کیو ایم7
پی ایم ایل کیو5
بلوچستان عوامی پارٹی5
جی ڈی ائے3
عوامی مسلم لیگ1
جمہوری وطن پارٹی 1 جبکہ 2 آزاد امیدوار بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں۔

مشترکہ اپوزیشن162
ن لیگ84
پی پی56
ایم ایم ائے15
بی این پی مینگل4
اے این پی1
آزاد2 حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے نمبر ز پورئے ہونیکے دعویدار ہیں۔ 32 نیوز چینلز پر بیٹھے ان گنت صحافی عوام کو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہوشربا انکشافات کے دعوے کرکے متوجہ کرنیکی سرکس لگائے بیٹھے ہیں۔

کون جیتے گا اور ہار ہوگی کس کا مقدر آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔۔۔؟

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: