صدارتی ریفرنس برائے فلور کراسنگ پر آجکی عدالتی سماعت کے اہم ریمارکس

چیف جسٹس
دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔
جتنا مرضی غصہ ہو پارٹی کے ساتھ کھڑئے رہنا چاہئے۔مغرب میں لوگ پارٹی میں رہ کر ہی غصے کا اظہار کرتے ہیں۔
کیا قانون میں گنجائش ہے کہ رکن ‏پارلیمنٹ کے ووٹ کو تسلیم نہ کیا جائے؟
رکن پارلیمنٹ کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ آئین میں کوئی گنجائش نہیں کہ کسی رکن کے ووٹ کو نہ تسلیم کیا جائے۔ سوال ایک ہی ہے کہ اگر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے کی نااہلی ہے تو اسکی مدت کتنی ہونی چاہیے؟
کسی ممبر کے ڈالے گئے ووٹ کو شمار ‏نہ کرنا توہین ہے۔
آرٹیکل 63 میں نااہلی کا مکمل طریقہ کار موجود ہے۔
عدالت آرٹیکل 63 کو آرٹیکل 55 کی نظر سے بھی دیکھے گی جو کہتا ہے کہ پارلیمنٹ میں فیصلے اکثریت راے سے ہونگے۔ ‏جسٹس اعجاز الااحسن
آرٹیکل 62 اور 63 الگ الگ نہیں بلکہ اکٹھا پڑھا جانا چاہیے۔ دونوں کا تسلسل ہے۔ کیونکہ ایک اہلیت اور دوسرا نااہلیت کے بارئے میں وضاحت کرتا ہے۔
رکن کا چار موقعوں پر ووٹ دیتے ہوئے پارٹی ڈسپلن کی پابندی کرنا لازمی ہے۔ اسی لئے 63 اے لایا گیا۔
پارٹی ٹکٹ لیتے وقت ‏امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کب مخالفت میں ووٹ نہیں دئے سکتے۔
تمام حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں اس لئےکیا دوسری کشتی میں سوار ہوکر پہلی کشتی کو ڈبویا جاسکتا ہے؟ ‏جسٹس جمال خان مندوخیل
ووٹ کا حق اراکین پارلیمنٹ کو ہے نہ کہ پارٹی اراکین کو
کیا آرٹیکل 63 کے استعمال سے پارٹی ہیڈ کو بادشاہ سلامت بنانا مقصود ہے۔؟
کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار کیا جاسکتا ہے؟ اٹھارویں ترمیم میں نہ شمار کرنے کا کہیں ذکر نہیں ‏جسٹس منیب اختر
سیاسی پارٹیاں ادارے ہیں۔ اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے سے ادارئے کمزور ہوتے ہیں۔
پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہوجاتی ہے۔
چھلانگیں لگتی رہتی ہیں معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی۔
سب نے اپنی اپنی مرضی کرنا شروع کردی تو سیاسی جماعتیں ادارہ ‏نہیں ہجوم بن جائیں گی۔ جبکہ انفرادی شخصیت کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔
آئین میں پارٹی سربراہ کو نہیں بلکہ پارلیمانی پارٹی کو فیصلوں کا اختیار ہے۔ اسی لئے 63 اے پارٹی سے انحراف روکنے کے لئے لایا گیا۔
ایک تشریخ تو یہ ہے کہ انحراف کرنیوالے کا ووٹ شمار نہ ہو۔‏جسٹس مظہر عالم
کسی کو ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
آرٹیکل 63 فور نااہلی ہی واضح کرتا ہے۔

آجکی سماعت سے واضح ہوا ہے کہ ووٹ شمار ہوگا لیکن اسپیکر منحرٖف اراکین کا کیس الیکشن کمیشن کو بھیجے گا جو پھر سپریم کورٹ سے رجوع کریگا۔

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: