امام اور مقتدی تحریر: حبیب الرحمان خان

امام اور مقتدی‎#

حبیب_خان

امامت کے لیے آغاز اسلام میں ہی کچھ اصول مرتب کر لیے گۓنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر بہت بعد تک یہ اصول قاہم رہا کہ خلیفہ وقت منبر رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بیٹھ کر خطبہ دیا کرتا ہر ایک انتہائی احترام سے بات کو سمجھتا پھر پاک وہند میں مبلغین تشریف لائے اور دین حق کا پرچار شروع کیا۔ چونکہ ہندو مذہب میں زات و قوم کی اونچ نیچے عام تھی۔ کسی کو انتہائی اعلیٰ مقام حاصل تھا تو کسی کو کم زات (نیچ) سمجھا جاتا تھایہاں پر جب اسلام نے قدم رکھا تو ہندو معاشرے میں بطور خاص جنھیں گھٹیا زات کہا جاتا تھا اسلام کو خاص پذیرائی حاصل ہوہیپھر عروج و زوال کی لڑاہی میں برطانیہ نے ہند پر قبضہ کر لیا اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف تدابیر کیں ۔ جن میں سے اہم ترین تدبیر یہ تھی کہ مسلمانوں میں سے ایسے افراد کو مقامی کمیونٹی کی مدد سےامام بنایا جاۓ جنھیں مقامی سطح پر اہمیت حاصل نہ تھی۔سو اس طرح امام کی توقیر کی بجاۓ تحقیر ہونے لگی مقتدی من مانی کرنے لگے اور امام بھی مقتدی کا محتاج ہو کر انھیں کی مرضی کے دینی مساہل پیش کرنے لگےعام آدمی دین سے دور ہونے لگاعلماء حق نے عوام کگاطرف سے تحقیر ہونے پر دین کی ترویج میں دلچسپی چھوڑ دی۔کچھ چیدہ علماء نے اپنی کوشش جاری رکھی جو کہ ناکافی تھیاس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی نے بھی جھوٹ فراڈ یا دیگر گناہوں کو زندگی کا حصہ بنا لیاخواتین جنھیں دین حق میں خاص اہمیت حاصل تھی غیر مسلم کا طریقہ اپنانے لگیںآج ہم صرف علماء کو مورود الزام ٹھہراتے ہیںلیکن ماضی میں غیر مسلم کی سازشوں اور اپنے کردار کو بھول جاتے ہیں

سوچیے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: