دعاء اور قبولیت تحریر: حبیب الرحمان خان


کہتے ہیں کہ دعا عبادت کا نچوڑ ہے

اور دعا رد نہیں ہوتی۔

لیکن یہ کسی کے مانگنے اور دینے والے کے درمیان معاملہ ہے

ڈاکٹر احمد  ریاض (سعودیہ) میں کام کرتے ہیں

وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے طاہف سے کافی آگے جانا پڑ گیا

جانے کی وجہ میرے لیے ایک اعزازی تقریب تھی

میں ریاض سے جہاز پر بیٹھ گیا لیکن طاہف پہنچتے ہی جہاز خراب ہو گیا۔ صورت حال کافی پریشان کن ہو گئی

جب جہاز کے ٹھیک ہونے کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ دس بارہ گھنٹے لگ جاہیں گے

میں نے اہیرپورٹ سے کراۓ پر ایک گاڑی لی اور چل پڑا ۔

تقریباً چار گھنٹے کی مسافت کے بعد موسم اچانک شدید خراب ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے قریبی قصبے میں پناہ لی۔ ایک گھر کے قریب گاڑی روکی اور دروازہ کھٹکایا۔ ایک معمر خاتون دروازے پر آہیں۔ تو میں نے بتایا کہ مسافر ہوں۔ انھوں نے مجھے اندر بلا لیا مجھے کھانا وغیرہ دیا۔ ان کا رویہ تو بہت اچھا تھا لیکن کچھ پریشان دکھائی دے رہی تھیں۔

میرے پوچھنے پر بتایا کہ ان کا بیٹا ہڈیوں کی بیماری میں مبتلا ہے مقامی ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ ریاض میں ڈاکٹر احمد کے پاس لے جاؤ۔مالی حالات اجازت نہیں دیتے رب سے دعاگو رہتی ہوں۔

مجھے یقین ہے کہ رب تعالیٰ ضرور کوہی سبب فرماہیں گے۔

ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر رونے لگ گیا۔ اور سوچا کہ جہاز کا خراب ہونا پھر موسم کا خراب ہونا اور اسی گھر کے سامنے رکنا۔ یقیناً میرے رب مجھے کان سے پکڑ کر ادھر لاۓ ہیں۔

سو ڈاکٹر احمد نے خاتون کا اپنے بارے میں بتایا تو خاتون فوراً سجدے میں چلی گئیں۔

المختصر ڈاکٹر صاحب نے اس بچے کا علاج کیا اور رب نے اسے تندرستی عطا فرمائی۔

کبھی دوا سے زیادہ دعا خیر کا وسیلہ بنتی ہے

‎#حبیب_خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: