احتساب کے عمل میں مداخلت پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ کی جانب سے سوموٹو کیس:

1- تمام بدعنوانی کے مقدمات بغیر کسی منتقلی کے آگے بڑھنے کے لیے

2- 4000 افراد جن کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے تھے ان کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔

3- مقدمات کا تمام ریکارڈ سیل کیا جائے۔

4- ایف آئی اے کے 2 افسران کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار.

کل مورخہ 18/5/22 کو چیف جسٹس آف پاکستان نے پراسیکیوشن نظام میں مبینہ مداخلت پہ سوموٹو لیا اور اس کیس کی سماعت کے لیے پانچ ممبر بنچ تشکیل دیا جا میں چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الحسن ،جسٹس منیب اختر، مظاہر علی نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں
آج کیس سماعت کے لیے مقرر تھا۔ جس میں چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دیے اور اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کے سامنے اپنا مدعا مختصر انداز میں رکھا۔
چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ ملک میں پراسیکیوشن نظام میں مداخلت کی جارہی ہے۔ بہت اہم نوعیت کے کیسز کو یا تو بند کیا جارہا ہے یا پھر ان کیسز کو دیکھنے والے تفتیشی آفیسرز اور پراسیکیوٹرز کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔
ڈی جی ایف آئی نے لاہور میں ایک اہم کیس میں پراسیکیوٹر کو ھدایت کی ہے کہ مذکورہ کیس کو مزید فالو نہ کیا جائے اس میں سٹیٹ مزید دلچسپی نہیں رکھتی۔ ڈی جی ایف آئی اے نے آخر ایسا کیوں کیا؟
نیب کے اہم کیسز میں بھی مداخلت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں پراسیکیوشن نظام کسی حد تک بہتر اور شفاف انداز چک رہا ہے مگر پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں ہے اور مداخلت ہورہی ہے۔

پنجاب کے ایک پراسیکیوٹر نے باقاعدہ طور پر کہا ہے کہ اس کو با اثر افراد نے اپروچ کیا ہے اور کیسز ختم کرنے کا کہا ہے۔ یہی مداخلت ہے۔
آفیسرز کے تبادلے کرنا متعلقہ اداروں کا کام ہے یہ انہی کا دائرہ اختیار ہے مگر تبادلہ کرنے کا کوئی نظام ہوتا ہے اس کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے اس نظام اور طریقہ کار کو فالو کرنے کے بعد ہی تبادلہ ہونا چاہیے۔ حال ہی بہت اہم کیسز میں جو تبادلے ہوۓ ہیں وہ تبادلے آخر کس کرائٹیریا کے تحت ہوۓ ہیں یہ عدالت کو بتایا جائے۔
جسٹس اعجاز الحسن نے ایک موقع پہ اٹارنی جنرل صاحب کو کہا کہ ایف آئی اے اس بات سے منکر نہیں ہے کہ اس نے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے آفیسر کو کیس ختم کرنے کی کوئی ھداہت کی ہے ڈی جی ایف آئی اے یہ مانتا ہے کہ اس نے ھدایات دی ہے کہ فلاں اہم کیس فلاں اہم شخصیت کے خلاف مزید فالو نہ کیا جائے۔ مگر ایف آئی اے نے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے( اور وہ کوئی خاص جواز نہیں ہے).
چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ عدالت پہ کافی تنقید ہورہی ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم تنقید سے ڈرنے والے اور بھاگنے والے نہیں ہیں۔ ہم قانون و آئین کی منشاء کے مطابق کام کرتے رہیں گے بھلے کوئی کچھ بھی کہے۔ تنقید ججز کی ذات پہ نہیں بلکہ فیصلوں پہ ہونی چاہیے۔ ہم کسی صورت بھی خود کو تنقید سے متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
اس کے بعد حکم لکھواتے ہوئے معزز عدالت نے کہا کہ
سیکٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اور ڈی جی نیب کو ھدایت کی جاتی ہے کہ وہ مداخلت کو روکے۔ تمام اہم نوعیت کی کیسز کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرا جائے۔ جو تفتیشی و پراسیکیوشن افسرز پچھلے چھ ہفتوں میں ان اہم کیسز کو دیکھ رہے تھے ان کی تفصیل عدالت کو فراہم کی جائے۔ جن آفیسرز کا تبادلہ ہوا ہے ان کی تفصیل بھی جمع کرائی جائے۔اس دوران کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ اور جن کا تبادلہ ہوا ہے وہ اپنا کام جاری رکھیں۔ یہ عدالت ہر صورت پاکستانی قانونی نظام کے تقدس اور تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ اور کسی کو عدالتی اور تفتیشی نظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔
آخر میں اٹارنی جنرل صاحب نے اگلی پیشی پہ کچھ دستاویزات جمع کرانے کی اجازت چاہی جس کی عدالت نے بخوشی اجازت دے دی ہے۔
آئندہ سماعت اگلے جمعے کو ہوگی۔

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: