ایسے میں حسین لگتی ہوں ویسے حیاء مجھ پہ جچتا ہے

‏اس طرح میں حسین لگتی ہوں
ویسے مجھ پر حیا ہی جچتی ہے

تحریر عبدالمتین

   رائے دینا ہر انسان کا حق ہے اس سے بعض کو اختلاف بھی ہو سکتا اور بعض کو اتفاق بھی 

جس طرح مرد اور عورت معاشرے کے جزو لازم اور ایک دوسرے کےلیے لازم و ملزوم ہیں، اسی طرح کسی قوم کی ترقی کا انحصار عورت کی تعلیم پر ہے کیونکہ ایک مرد کی تعلیم صرف اسے فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم کئی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ ہر انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے وہ بنیادی علوم سیکھنا شروع کرتا ہے۔ یہاں پر سوچنے کی بات ہے کہ علم سے عاری ماں، علم کی شمع کیسے روشن کر سکتی ہے جبکہ وہ خود اندھیرے میں ہے؟ لہٰذا ایک تعلیم یافتہ ماں ہی اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرسکتی ہے؛ اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔
تعلیم دینی ہوں مدرسے میں ہوں مگر
اعلیٰ تعلیم نہ دِلا سکے تو بے شک ادنیٰ تعلیم دلائے کیونکہ اس سے ہماری عورتیں ہسپتالوں میں زلیل ہونے سے بچ جاتی کسی کے سامنے اپنی تکلیف اپنی بیماری اپنا مسلہ خود بیان کر سکے ہمارے دیہات آج بھی جہالت کی اس دلدل میں دھنسی ہوئی ہے ہم آج بھی انسان اور انسانیت سے بہت دور ہیں ہمیں قومی دہارے میں شامل کرنے کیلئے مختلف ادوار میں ہمارے موسمی پرندوں یعنی سیاستدانوں نے بڑی بڑی دعوے کئے مگر وہ وعدیں وفا نہ ہوسکے اور ہم آج بھی پھتروں کی دور میں زندگی گزار رہیں ہیں

وہ قوم کسی شان کی حقدار نہیں
جس قوم کی عورت ابھی بیدار نہیں
‎@princeMateenk
https://t.co/fWptgaGqsA‎

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: