تعلیمی انقلاب تحریر عالم زیب

تعلیمی انقلاب ۔
تحریر عالم زیب ۔
خون دل دے کے نکھاریں گئے رخ برگ گلاب ۔
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ۔
آج کے بچے قوم کا مستقبل ، آج کے بچے قوم کا عروج و اقبال آج کے بچے قوم کی قسمت کے ستارے ، آج کے بچے چمنستان زندگی کے مہکتے پھول ، چہکتے بلبل ، اور کھیلتے نونہال ہے ۔جن کے ساتھ ہمارے امنگیں، آرزوئیں اور قسمتیں وابسطہ ہیں ۔ ہمارے پاس کچھ ہیں تو یہی بچے ہیں ۔ بچے پر سب سے پہلا حق والدین کی ہوتی ہے پہلا دن سے ہی وہ علم کے پھول و عرفان چننا شروع کر دیتا ہیں لہذا پہلے دن سے ہی نگرانی کرنا پڑتا ہے تاکہ غلط روی کے کانٹوں سے اپنا دل و دماغ کو زخمی کر نہ بیٹھے ۔ اسکی تربیت کے لئے گھر کے ماحول کو پہاڑی چشموں کی طرح صاف و شفاف بنانا چاہے تاکہ یہ نواورداقلیم اس کا برعکس اپنے اندر جذب کرتا چلا جائیں۔
اس کے بعد سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری استاد محترم کا ہوتا ہے کیونکہ استاد ہی بچے کا روحانی باپ ہوتا ہے وہ بچے کو اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ علم کے روشنی سے مالا مال کر دیتا ہے کیونکہ علم ایک پائیدار دولت ہے جسکو کبھی زوال نہیں ، ہر کمال کو زوال ہے ،
ہر آباد کے لئے برباد ہونا لازمی ہے ، ہر بہار کے بعد خزاں ہے ، ہر دن کے بعد رات ہے ، ہر نور کے بعد تاریکی ہے ۔ غرض عالم مشاہدات میں ایسی کوئی چیز بھی ڈھونڈنے سے نہ ملے گی جو گھٹی بڑھتی نہ ہو لکین علم ایک وہ دولت ہے جیسے ہمیشہ بڑھنے ہی سے کام ہے جتنا خرچ کرو گئے اتنا ہی بڑھتی جائی گی، ایسے چور کا ڈر نہیں، چوکیدار کی ضرورت نہیں، یہ دولت ہر وقت محفوظ ہے اور ہمیشہ محفوظ رہیگی ۔
لب آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت و خدایا میری ۔
میرے اور میرے رقیب مفتی محمود الحسن ، اور محمد ہارون صاحب نے ایک عزم و جذبہ لیکر ایک چیلنجز کے طور پر گورنمینٹ مڈل سکول دارگاہ ہربن کوہستان کو قبول کیا اور عہد کر دیا کہ اسی سکول کو صوبے کے بہترین و اعلی سکولز میں صفت میں لاکر کھڑے کر دیں دیں گئے زندگی کے اس مشکل ترین لمحات و گھٹن سے گزرنے کے باوجود بھی ہمارا سفر ، عزم کم نہ ہوا اور دن دگنی رات چوگنی محنت کر کے آج الحمداللہ ان کو اس مقام تک پہنچا دیا کیونکہ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کے ساتھ ساتھ ہم نے اس باغ کو اپنے لہو کے ساتھ سینچنے کا عزم کر رکھا ہے ۔

زندگی تلخ ہے ، مگر پھر بھی
ہم نے جاری رکھا، سفر پھر بھی
مشکلیں تو زمانے بھر کی ہیں
زندگی سے نہیں مفر پھر بھی
انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں یہی قوم کے مستقبل، اور روشنی کے کرنوں و خوشبو سے پورا کوہستان چمک جائیں گا۔

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: