بجلی بنانے کے دو ایسے طریقے بدقسمتی سے جن سے ہم ناواقف ہیں|ٹروجنرلزم جبلی ویوز

‏ہم اور ہماری نالائقی

4 ٹن کچرے سے 1 ٹن تیل یا 1.6 ٹن کوئلے جتنی حرارت حاصل ہوتی ہے. جبکہ 1 ٹن کچرے سے 2 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے. پاکستان میں سالانہ 2 کروڑ ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے. جس سے 5 ہزار میگاواٹ بجلی 12 لاکھ ٹن کھاد اور 3.5 لاکھ بڑے سلنڈروں جتنی گیس حاصل کی جا سکتی ہے. ‏دنیا میں اس وقت 20 ہزار میگاواٹ بجلی کچرے سے پیدا کی جا رہی ہے. بیشتر ممالک میں کچرا جلانے پر بھاری جرمانے کے قوانین ہیں. پاکستان میں ایسا بالکل نہیں ہے. یہاں کسی کو پتہ ہی نہیں کہ کچرا جلانے سےماحول کس قدر آلودہ ہوتا ہے. جبکہ کے الیکٹرک گزشتہ 3 سال سے ملک کا پہلا 50 میگا واٹ کا حامل ‏پلانٹ لگانے کی کوشش کررہا ہے جہاں کچرے سے بجلی پیدا کیجاے گی. کراچی میں روزانہ 1500 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس سے 200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جبکہ شہر کی 300 میگاواٹ کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے. ‏
اس کے علاوہ پاکستان میں بجلی حاصل کرنے کیلئے ایک اور طریقہ بھی انتہائی مفید ہوسکتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے

دوسرا طریقہ

زمین کی اندرونی حرارت سےحاصل ہونے والی انرجی جیو تھرمل انرجی کہلاتی ہے. اندرونی حرارت کے باعث زیر زمین گرم پانی کے چشمے بنتے ہیں. جن چشموں کا درجہ حرارت 200 ڈگری سینٹی گریڈ ہو ان سے جیو تھرمل انرجی بنائی جاسکتی ہے. زمین میں 2 سوراخ کرکے پمپ کے ذریعے ‏پانی کو ایک سوراخ میں پمپ کیا جاتا ہے. دوسرے سوراخ پر ٹربائن لگا کر بھاپ سے چلایا جاتا ہے. حاصل شدہ انرجی سے عمارات کو گرم کیا جاسکتا ہے جبکہ آبی پودوں کی کاشت اور گرین ہاوس کے لئے بھی عمل میں لایا جاتا ہے. جیوتھرمل انرجی کا استعمال 1827 جبکہ پہلی بار بجلی 1911 میں بنائی گئی ‏امریکہ 3700 میگاواٹ جیوتھرمل بجلی کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے. پن بجلی کی نسبت یہ انرجی سستی بھی ہے اور سال کے 365 میسر بھی. اس وقت دنیا بھرمیں 15 ہزار میگاواٹ جیو تھرمل بجلی جبکہ 15 کروڑ میگاواٹ حرارت پیدا کی جارہی ہے. ماہرین کے مطابق پاکستان میں جیوتھرمل انرجی کا پوٹینشئل 10 ہزار‏میگاواٹ ہے. لیکن پیداواری حجم صفر ہے. بدقسمتی یہ ہے کہ سستی ترین انرجی کے حامل اس ذریعے کی طرف نہ کسی کا دھیان ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نظر آرہا ہے.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: