ذرا سوچئےتحریر کائنات واجد

‏عنوان:ذرا سوچیے!

ہم جب چھوٹے تھے اسکول میں يا گھر میں جب بھی کوئی غلطی کرتے تھے تو ماں باپ ہمیشہ ہمیں مار سے یا پیار سے ہمیں بتاتے تھے کہ بیٹا غلطی تمہاری ہے تم نے غلط کیا ہے چاہے ہم غلطی پر ہو یا نہ ہولیکن پیار یا مار سے ہمیں سمجھایا جاتا تھا اور اگر تھوڑی بہت سزا کی بھی ضرورت ہوتی تو وہ بھی دی جاتی۔جس سے ہم آج کے دور میں اچھے اور برے میں تمیز کر سکتے ہے اور الحمدللہ آج اپنی غلطی ماننے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں۔
لیکن آج میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا سوچا اس کو آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کروں کیا پتہ اگے چل کے آپ کے کام آئے ۔
آج میری discipline duty تھی۔میں کوریڈور میں سے گزر رہی تھی کہ میں نے دیکھا کہ میری کوٹیچر ایک 12 سال کی ایک سٹوڈنٹ کو ڈانٹ رہی تھی کیوں کہ اس نے بغیر کسی وجہ سے اپنی ساتھ والی سٹوڈنٹ کو گال پر تھپڑ مارا۔جب اس بچی کو ڈانٹا جا رہا تھا تو اس کے پیچھے اس کی 2 دوست کھڑی ہو کر ہنس رہی تھی اور جس سٹوڈنٹ کو ڈانٹا اور سمجھایا جا رہا تھا وہ مسلسل ٹیچر کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی بجائے اس کے کہ وہ آنکھیں جھکا کر اپنی غلطی تسلیم کرے میری نظر پڑی تو میں نے اس سٹوڈنٹ کو کہا کہ تھوڑی سا لحاظ کرے کہ ٹیچر اس کو ڈانٹ رہا ہے اور اس کی دوست پیچھے کھڑی ہو کر ہنس رہی ہیں اور وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی بے باکی سے دیکھ رہی رہی ہے۔جب میں نے یہ بات کہی تو اس نے نظرے جھکا لی اور اس کی دوستوں نے بھی اپنی ہنسی روکی ۔جب میں باہر نکلی تو مجھے میری کو ٹیچر نے کہا کہ اب اس کے مگر مچھ کے آنسو نکل رہے ہیں۔ میں نے کہا یار avoid کرو۔تھوڑی دیر بعد اس کے گھر والے اس کو لینے آ گئے اس کی کزن اس کے ساتھ گھر جا رہی تھی تو گیٹ سے نکلتے ہوئے میری کو ٹیچر نے کہا کہ گھر والے اس کے رونے کی وجہ پوچھے تو بتا دینا کہ اس نے کلاس میں کیا کیا۔۔۔۔ ۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم میٹنگ میں بیٹھے تھے تو ہماری ہیڈ کی کال آئی کہ فلاں فلاں بچی کہ گھر سے کال آئی ہے اور انہوں نے مجھے بچی کی ویڈیو بنا کر سینڈ کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ ہم آپ کے انسٹیٹیوٹ کے خلاف لیگل ایکشن لے گۓ اور ہم دو ٹیچرز کو nominate کیا گیا کہ انہوں نے ہمارے بچوں پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔۔میں اور میری کو ٹیچر پریشان حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔۔۔ہماری برانچ انچارج نے ہمیں کہا کہ فوراََ ہیڈ کو کال کر کے یہ معاملہ کلیئر کرو۔۔میری کو ٹیچر نے ہیڈ سے بات کر کے ان کو ٹھنڈا کر لیا۔۔لیکن ہم دونوں پریشان کہ بچی نے گھر جا کر اتنا بڑا جھوٹ بولا اور اوپر سے اس کے parents اس کو سمجھانے کی بجائے الٹا اس کو شے دے رہے کہ بیٹا تم غلط نہیں ہو تمہاری ٹیچرز غلط ہے۔۔۔۔
آپ سب کے ساتھ یہ واقعہ شیئر اس لیے کیا کہ آج کل ماں باپ اپنی اولاد کو غلطی ماننے کی بجائے الٹا اُن کو یہ سیکھا رھے ہیں کہ تم ہی سہی ہو باقی ہر کوئی غلط ہے۔۔۔افسوس۔۔۔
پھر جب کل کو یہی بچے اپنے ماں باپ کو بھی غلط کہتے اور بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے تو ماں باپ کہتے ہے ہماری اولاد بےفیض ہے، ہماری اولاد بگڑ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا سوچیے!اگر ماں باپ اپنے بچوں کو اپنی غلطی ماننا نہیں سکھائیں گے اور ہمیشہ ان کے سامنے دوسروں کو ھی غلط ٹھہرائیں گے تو بچے کل کو پھر جب بڑے ہوں گے اور ایک ٹائم آئے گا تو اپنے ماں باپ کو بھی غلط کہیں گے ان کے ساتھ بدتمیزی کریں گے تو پھر ان کی کیا زندگی ہوگی ؟ہمیشہ گناہ ہی کریں گے۔۔گھر نہیں بسا پائینگے ۔غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط
ٹھہرائیں گے۔
آج کل کے دور میں یہ بہت ضروری ہے کہ ماں باپ اپنی بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی سب سکھائیں۔صحیح غلط میں فرق کرنا سکھائیں۔
حقوق العباد کے بارے میں آگاہی پیدا کرے اور سب سے بڑی بات غلطی ماننے کا حوصلا پیدا کریں تا کہ جب بچہ بڑا ہو تو اس کے ماں باپ کو پچھتانا نہ پڑے۔۔
اللہ ہر کسی کی اولاد کو نیک بنانے (آمین)
تحریر: کائنات واجد
‎@Kainaat__Wajid

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: