زیتون پاکستان کا مستقبل| ٹرو جنرلزم جبلی ویوز

‏زیتون پاکستان کا مستقبل

گزشتہ 10 برس میں پاکستان بھر میں 30 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کے 45 لاکھ پودے لگائے جاچکے ہیں. گزشتہ برس پہلی فصل بھی حاصل ہوئی ہے. 1500 ٹن زیتون کا تیل جبکہ 860 ٹن پھل ملا ہے. 2021 میں کچھ حصہ ایکسپورٹ بھی کیا گیاہے. زیتون کے پودے 3 سے 4 سال میں فصل دینا ‏شروع کرتے ہیں اور 1 ہزار سال تک یہ سلسلہ جاری رہتاہے. امید کیجارہی ہے کہ 2024 سے تمام پودوں کی فصل آجانے سے پاکستان دنیا بھر میں زیتون کی پیداوار کا ایک بڑا ملک بن جائےگا. اٹلی اور اسپین جیسے ٹاپ ممالک کا مقابلہ کریگا. اسی تناظر میں پاکستان کو ورلڈ اولیو کونسل کا رکن بنایا ‏جاچکا ہے. اس وقت خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر سالانہ لاگت آتی ہے جس میں 2024 کے بعد نہ صرف نمایاں کمی آئے گی بلکہ ایکسپورٹ سے زرمبادلہ بھی خاطر خواہ حاصل ہوگا. اٹلی پاکستان ایگریکلچر کونسل کے ساتھ ملکر 32 کروڑ کی لاگت سے اولیو ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے جارہاہے ‏جسکی مدد سے پودوں کی تعداد 1 کروڑ تک لیجائی جاے گی. جبکہ قدرتی طور پر موجود 10 کروڑ جنگلی زیتون کے درختوں کی قلمکاری بھی کی جائے گی. اٹلی ہی وہ ملک ہے جس نے پاکستان میں سب سے پہلے 1986 میں زیتون کے درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا تھا لیکن 2012 تک اس پر خاطر خواہ کام نہ ہوسکا. شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب 2014 میں پوٹھوہار میں اولیو ویلی قائم کی جس کے ذریعے 20 لاکھ پودے مہیا کرنیکا منصوبہ شروع کیاگیا. تحریک انصاف کی حکومت نے اس میگا منصوبے کو مزید دوام بخشا اور دسمبر 2021 تک لگاےگئے پودوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ گئی. چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر ‏میں بھی پودے لگائے گئے. اٹلی سے تکنیکی معاونت حاصل کی گئی. مختلف شہروں میں مراکز قائم کیے گئے. ورلڈ اولیو کونسل کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا جنہوں نے پاکستان کو زیتون کا مستقبل قرار دیتے ہوئے رکن منتخب کرلیا. پہلی فصل کی لیبارٹری سے پتہ چلا کہ پیداوار سے تیل حاصل ہونیکا تناسب ‏21 فیصد ہے. جبکہ دنیا کی سب سے بہترین فصل جو اسپین کی ہے کا تناسب 17 فیصد ہے. ٹرو جرنلزم دعاگو ہے کہ زیتون واقعی پاکستان میں خوشحالی لانے کی وجہ بن جاے کیونکہ یہ ایک متبرک پھل ہے جسکے بے شمار فوائد ہیں.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: