روسی صدر کی امریکہ پر گولہ باری | جبلی ویوز

ایک قطبی عالمی نظام کا دور ختم ہو چکا ہے ہلانکہ کچھ ممالک یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، صدر روس ولادی میر پوتین نے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد بین الاقوامی معاشی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

ان کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ دنیا میں صرف ایک طاقتور ملک ہونا چاہئے اور تمام بین الاقوامی قواعد کا مقصد اسی کے مفادات کو یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ ایسے اصولوں پر مبنی دنیا میں استحکام ناممکن ہے، پوتین نے کہا۔

پوتین نے زور دے کر کہا کہ موجودہ عالمی خوراکی بحران مغربی ممالک کی غلط معاشی پالیسی اور ان کی طرف سے روس پر لگائی گئي پابندوں کا نتیجہ ہے۔ روس خوراک کی عالمی منڈی میں استحکام پیدا کرنے کی خاطر اناج کی برآمد بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ روس یوکرینی بندرگاہوں سے اناج لے جائے جانے کی کوششوں کو روکنے کا منصوبہ نہیں رکھتا لیکن شروع میں یوکرین کو ان بارودی سرنگوں کو دور کرنا ہے جو اس سے اس خظے میں نصب کر دئے۔

صدر روس کا خیال ہے کہ اس وقت نیا عالمی نظام وجود میں آ رہا ہے اور یہ عمل ضرور مشکل ثابت ہوگا اور روس ایک طاقتور اور خودمختار ملک کے طور پر اس نئے دور میں داخل ہو جائے گا- اگرچہ مغربی ممالک روس کو الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں، پھر بھی ماسکو ان تمام ملکوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا جو روس کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں، پوتین نے کہا۔ ان کے مطابق ایسے ملکوں کی تعداد کم نہیں۔

یوکرین میں روس کی خصوصی فوجی آپریشن کی بات کرتے ہوئے پوتین نے نشاندہی کی کہ یہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے روس کے حق پر منبی ہے۔ “موجودہ حالات میں جب روس کو بہت زیادہ خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے، ہم یہ آپریشن شروع کرنے پر مجبور تھے۔ اور اب مغربی ممالک اس سے فاعدہ اٹھاتے ہوئے دعوہ کر رہے ہیں کہ روس کی سرگرمیاں تمام عالمی مسائل کی وجہ ہیں۔

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: