جنت اور دوزخ کی حقیقت تحریر افتخار حسین

جنت اور دوزخ کی حقیقت

تحریر: افتخار حسین

‎@I_H_101

اکثر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ “خدا کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا” اور خدا کو خالق کائنات مانتے ہوئے ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ جو کچھ اس دنیا میں ہو چکا، ہو رہا ہے یا آگے ہوگا سب اس کی مرضی اور منشا کے طابع ہے۔ اب ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اسی استدلال کو سامنے رکھتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے کہ جب اس کائنات میں سب کچھ اس کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے تو یہ سزا اور جزا کی منطق یعنی جنت اور دوزخ کا تصور سمجھ سے بالا تر ہے۔

آئیےاس نقطے کو خالصتا” عقلی زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدا نے جب انسان کو بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کو اپنا خلیفہ کہہ کر اسکے کردار اور حیثیت کو بھی واضع کر دیا۔ خلیفہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی جانشین یا نمائندہ کے ہیں۔ قران پاک سے انسان کے خدا کا جانشین ہونے کا حوالہ کچھ یوں ہے

” وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الأَرْضِ خَلِیفَةً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیهَا مَن یُفْسِدُ فِیهَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُون۔﴿سورہ بقرہ ۳۰﴾ اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب تمہارے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں تو ملائکہ نے کہا کہ تو اس کو زمین میں جانشین بنائے گا کہ جو اس میں فساد بر پا کر ے گا اور خون بہائے گا اور ہم تو تیرے تسبیح گذار اور تیری حمد کرنے والے ہیں ،خدا نے کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔”

خلیفہ یعنی جانشین کی حثیت، اختیار اور کردار کو اگر ہم مادی دنیا کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو بڑی حد تک بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔

خلیفہ یعنی جانشین جسکی نمائندگی کرتا ہے تو وہ بڑی حد تک اسکے اختیارات استعمال کرنے کی اتھارٹی رکھتا ہے جس نے اسے اپنا نمائندہ بنایا ہوتا ہے۔ انفرادی معاملات ہوں یا حکومتوں کے حکومتوں سے معاملات، نمائندگی کرنے والے کو چند بنیادی گائیڈنس کے ساتھ پورا اختیار ہوتا ہے کہ جو اسکو بہتر لگے موقع کی مناسبت سے فیصلے کرے۔ نمائندوں کے اچھے اور برے کردار کے مظاہر ہمیں ملکوں اور قوموں کے باہمی تنازعات اور معاملات میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ ایک طرف اگر ان کے اچھے فیصلوں کی تعریف اور انعامات ان کا حق مانا جاتا ہے تو دوسری طرف برے اور نقصان دہ فیصلے پکڑ کا باعث بھی  بنتے ہیں۔اب یہ بات تو طے ہوگئ کہ انسان جب بحثیت خدا کا خلیفہ یعنی جانشیں اپنے دینی اور دنیاوی معاملات میں فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے تو سزا اور جزا کا بھی مستحق ٹھہرتا ہے۔ سزا پانے والوں کیلئے دوزخ اور جزا کے حقدار جنت کے مکیں ہونگے۔ لیکن خدا کے تقویض کردہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان دو جگہوں کا انتخاب انسان خود ہی کرے گا۔ انسان کا صاحب اختیار ہونا ہی جنت اور دوزخ کے وجود کا بیِّن ثبوت ہے۔

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: