پاکستان میں چائے کی کاشت

‏مانسہرہ پاکستانی چاے کا مرکز بن سکتا ہے.

1980 سے مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں نیشنل ٹی ریسرچ سینٹر قائم ہے. جہاں چاے کی متعدد اقسام پر تحقیق کی جا چکی ہے. جو پاکستان میں پیدا ہوسکتی ہیں. صوبے کے مختلف مقامات کا مجموعی طور پر 1 لاکھ 70 ہزار ایکڑ رقبہ چاے کے باغات کے لئے موزوں قرار دیا جاچکا جس میں ضلع مانسہرہ مرکزی حیثیت کا حامل ہے. لیکن ہماری نااہلی کی حد دیکھئے کہ 42 سال سے قائم ادارے کی ریسرچ پر عمل صفر بٹا صفر ہے. اس پر ظلم کی انتہا یہ ہے دنیا بھر میں چاے درآمد کرنے والے ممالک میں پاکستان پہلے نمبر ہے. جہاں ہر پیدا ہونے والا بچہ 2 لاکھ 70 ہزار ‏کا مقروض ہوجاتا ہو وہاں سال 2021-22 میں 84 ارب روپے چاے کی درآمد پر لگے. جو نہ صرف گزشتہ سال کی نسبت 12 ارب زیادہ ہیں بلکہ عالمی فہرست میں سرفہرست ہیں. شنکیاری میں 50 ایکڑ رقبے پر چاے کا باغ بھی موجود ہے جہاں سے سالانہ 14 ٹن پیداوار حاصل ہورہی ہے. جسے سبز چاے کے طور پر نہ صرف ‏مقامی سطح پر استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ برآمد بھی کیا جاتا ہے. کتنی وفاقی و صوبائی حکومتیں گزشتہ 4 دہائیوں میں آئیں اور چلی گئیں لیکن اسطرف کسی نے توجہ نہیں دی. عام کسان اسطرف اس لئے نہیں آتا کیونکہ چاے کا پودا 4 سے 5 سال میں پیداوار دینے کے قابل ہوتا ہے. جسکی وجہ سے کسان اتنا ‏خرچہ برداشت نہیں کرپاتا. حکومتی سرپرستی یا ٹیکس چھوٹ دے دی جاے تو پہلے 4 سال پودے کی پرورش ہے جبکہ 100 سے 125 سال تک پھل ملتے رہناہے. جبکہ اس سے ملک میں جنگلات کی کمی کو بھی قدرے کم کیاجاسکتاہے. کرونا سے پہلے چینی ماہرین بھی بتاچکے کہ پاکستانی مٹی چاے کے باغات کے لئے بہترین ہے. ‏اگر ہم 84 ارب کی چاے کے ساتھ دودھ اور چینی کا خرچ بھی شامل کریں تو بات کھربوں میں جاتی ہے. 50 ایکڑ کی پیداوار 14 ٹن ہے تو 1 لاکھ 70 ہزار ایکڑ کی پیداوار کا حساب آپ خود لگاسکتے ہیں. فوری توجہ سے اگلے چند سال میں چاے کا امپورٹ بل منہ کے بل گرسکتا ہے ‏حیرت ہے تحریک انصاف کی 10 سال سے قائم صوبائی حکومت بھی سوئی ہوئی ہے.

ٹرو جرنلزم دعاگو ہے کہ کوئی مسیحا اسطرف توجہ دیگا کیونکہ اندھیرہ کبھی مستقل نہیں رہتا……

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: