قربانی کے احکام مسائل اور فضائل |جبلی ویوز

قربانی احکام مسائل اورفضائل

قربانی کیا ہے


دس ذی الحجہ کو سنت ابراہیمی کو زندہ کرتے ہوئے اللہ کے راہ میں جانور کو قربان کرنا قربانی ہے

قربانی کا حکم

قربانی حکم خداوندی کے مطابق واجب ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْO

پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں
مطلق صیغہ امر عربی میں وجوب کیلئے آتا ہے

لیکن قربانی کے وجوب کیلئے چند شرائط ہیں

مسلمان ہونا چنانچہ غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں

صاحب نصاب ہونا : صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی واجب نہیں بلکہ نفل ہوگی

بالغ ہونا نابالغ پر قربانی واجب نہیں اگرچہ وہ صاحب نصاب ہی کیوں نہ ہو
مقیم ہونا : مسافر پر قربانی واجب نہیں اور شرعا مسافر وہ ہوتا ہے جو اپنے شہر سے اڑتالیس میل کے مسافت پر ہو

قربانی کے فضائل


عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عید الاضحیٰ کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ زندہ ہو کر آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے خدا کے بندو دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کیا کرو

(جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ برابر ( ہر سال) قربانی کرتے تھے ۔

(جامع ترمذی)

قربانی کا نصاب


ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا اتنی مالیت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیت کا ضروریات زندگی سے زائد سامان ہو اور اس پر اتنا قرضہ نہ ہو کہ جسے ادا کرنے سے مذکورہ نصاب باقی نہ رہے۔ تو ایسے بندے پر قربانی واجب ہے

قربانی کے ایام


دس گیارہ اور بارہ ذوالحج کو قربانی کرنا درست ہے

قربانی کا جانور


قربانی کے جانور کی عمر کا تعین ضروری ہے چنانچہ بکرا یا بکری اگر ایک سال سے کم کی ہو تو قربانی جائز نہیں گائے ، بیل، بھینس کی عمر کم از کم دو سال اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال ہونا ضروری ہے بھیڑ اگر چھ ماہ کا ہو اور صحت میں ایک سالہ معلوم ہوتا ہے تو اس کی قربانی صحیح ہے
قربانی کافی ہے۔

بکرے اور دنبے کی ایک ایک قربانی ہوگی جب کہ گائے بھینس بیل اونٹ وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہوسکتے ہیں

قربانی کے جانور میں مندرجہ ذیل نقص نہ ہوں

کانا، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا، اور زیادہ کمزور چنانچہ حدیث شریف میں ہے

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِی الْأَضَاحِیِّ: الْعَوْرَاءُ بَیِّنٌ عَوَرُہَا، وَالْمَرِیضَۃُ بَیِّنٌ مَرَضُہَا، وَالْعَرْجَاءُ بَیِّنٌ ظَلْعُہَا، وَالْکَسِیرُ الَّتِی لَا تَنْقَی))

چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:

1- ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو،

2- ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو،

3- لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو

4- اور بہت زیادہ کمزور جانور جو کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو۔

(اس حدیث کے راوی عبید بن فیروز تابعی نے) کہا: مجھے ایسا جانور بھی ناپسند ہے جس کے دانت میں نقص ہو؟

تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمھیں جو چیز بُری لگے اُسے چھوڑ دو اور دوسروں پر اُسے حرام نہ کرو۔

(سنن ابی داود: 2802)

نیز سینگ کٹے جانور کی قربانی بھی صحیح نہیں جس کا آدھے سے زیادہ سینگ کٹا ہوا ہو

حدیث شریف میں ہے
رسول اللہ ﷺ نے سینگ کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

مشہور تابعی امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ایسا جانور جس کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو۔

(سنن النسائی 7/ 217، 218 ح 4382 وسندہ حسن و صححہ الترمذی: 1504)

ایک اور حدیث شریف میں ہے
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی کے جانور میں) آنکھ اور کان دیکھیں۔

(سنن النسائی 7/ 217 ح 4381 وسندہ حسن وصححہ الترمذی: 1503، وابن خزیمہ: 2914 وابن حبان، الاحسان: 5890 والحاکم 4/ 225 والذہبی)

اور اس بات پر علماء امت کا اجماع ہے کہ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

(المجموع شرح المہذب 8/ 404)

قربانی کا وقت


دس ذی الحج کو نماز عید کے ادئیگی کے بعد سے بارہ ذی الحج کی شام تک ہے اس کے بعد قربانی جائز نہیں

قربانی کا گوشت

قربانی کا گوشت تمام حصہ داروں میں برابر تقسیم ہوگا جس کے بعد بہتر یہ ہے قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ اپنے لئے ،ایک حصہ رشتہ داروں اور ایک حصہ مستحقین کیلئے

بھینس کی قربانی
بھینس کی قربانی جائز ہے چنانچہ فتاوی ہندیہ(شامی) میں ہے : واضح ہو کہ جنس واجب میں یہ ہونا چاہیے کہ قربانی کا جانور اونٹ، گائے اور غنم تین اجناس سے ہو اور ہر جنس میں اس کی نوع نر ومادہ اور خصی وفحل سب داخل ہیں، کیونکہ اسم جنس کا ان سب پر اطلاق کیا جاتا ہے اور ’’معز‘‘ (بھیڑ) نوعِ غنم ہے اور ’’جاموس‘‘ (بھینس) نوعِ بقر ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے کوئی وحشی جائز نہیں ہے۔‘‘

(فتاویٰ ہندیہ، ج:۵، ۲۹۷، طبع: رشیدیہ۔ بدائع

قربانی ترک کرنے پہ وعید

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا جو شخص گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔

(ترغیب)

قربانی کا مقصد

قربانی کا مقصد یہی ہے کہ رب کی رضا کے لیے جیئں زندگی گزاریں اپنے خالق کی خوشنودی کے لیے جہاں رہیں جس حال میں رہیں اسلام کے سچے وفادار بن کر رہیں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں گزاریں۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی طرف سے کی جانے والی قربانی قبول فرمائے آمین

رضوان احمد

Freelance journalist Twitter account https://twitter.com/real_kumrati?s=09

5 1 ووٹ
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: