غیرت مند نسلیں تحریر صابر حسین چانڈیو. @sabirHussain43

معتصم! تم کہاں ہو ؟

غیرت مند نسلیں:

بےبس اور مظلوم عورت کی چیخیں جتنی تیز ہوتیں، سنگ دل رومی (آج کا یورپ اس زمانے میں روم کہلاتا تھا) کے قہقہے اتنے ہی بلند ہوتے جاتے تھے، اس نے ایک زور کا تھپڑ عورت کہ منہ پر جڑ دیا، عزت دار خاتون سے یہ ذلت برداشت نہ ہوئی تو وہ بےاختیار پکار اٹھی:
اے معتصم! تم کہاں ہو؟ اے ہمارے حکمران! ہماری مدد کون کرے گا؟
مرد اس کی بات سن کر اور بھی گلا پھاڑ کر ہنسا، بیوقوف عورت کو دیکھو! بھلا اس کی خاطر خلیفہ وقت مدد کو آئے گا؟ مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمانوں میں ایک جسم ہونے کا احساس باقی تھا، یہ ممکن نہ تھا کسی ایک کو مشکل، آفت یا دشمن نے گھیر رکھا ہو اور دوسرا اپنے روز مرہ کے معمول کی زندگی میں بدستور مصروف رہے، اسے اپنے بھائی کی مشکل دور ہونے تک چین نہ آتا تھا
بغداد کی مسندِ خلافت پر معتصم باللہ موجود تھا اور یہ مظلوم عورت اس سے سینکڑوں میل دور رومیوں کے علاقے میں واقع “عموریہ” نامی قلعہ میں قید تھی، معتصم باللہ اپنے آباء و اجداد جیسا کوئی بہت ہی صاحب جلال اور باکمال حکمران نہ تھا، مگر اس کی رگوں میں غیرت مند خون دوڑ رہا تھا اور اس زمانے کے عام حکمران بھی غیرت و حمیت میں اپنی مثال آپ ہوا کرتے تھے، اسے کسی طرح خبر ہوگئی کہ اس مظلوم عورت نے اس کی غیرت کو جھنجھوڑنے والی صدا لگائی ہے، اس پر دن کا سکون اور رات کا آرام حرام ہوگیا، اس نے خبر لانے والے سے یہ نہ پوچھا کہ اس قلعہ میں کتنی فوج ہے؟ اس کا سوال یہ تھا کہ مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ یہ قلعہ ہے کہاں؟ اس کے بعد اس نے صبح شام جنگی تیاریاں شروع کردیں اور آندھی طوفان کی طرح وہاں پہنچ کر اس قلعے محاصرہ کرلیا مسلمانوں کی فوج کا غیظ و غضب اتنا شدید اور ان کے حملے اتنے زور دار تھے کہ قلعے کی بنیادیں ہل کررہ گئیں دشمن کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا اور جب وہ سنگ دل شخص جو قیدی عورت پر ظلم ڈھاتا تھا ،گرفتار کرکے معتصم باللہ کے سامنے لایا گیا تو اسے علم ہوا کہ یہ واقعی غیرت مند ہے جو اپنے ایک فرد کے بدلے کے لیے بھی اس طرح بےچین ہوتا ہے جیسے انسان اپنی چھنگلی کی تکلیف پر بےتاب ہو اٹھتا ہے
زیادہ دور کی بات نہیں:
مسلمانوں کی یہ قابلِ فخر عادت آج کل غیر مسلموں نے اپنا لی ہے، دنیا میں کہیں کسی ایک بھی امریکی کو کچھ ہو جائے تو وہائٹ ہاؤس، پینٹاگون سے سر جوڑ کر بیٹھ جاتا ہے، اس وقت تک اپنا سب کچھ امریکی شہریوں کیلئے جھونک دیتا ہے، جب تک ان کو تحفظ کی چھاؤں میسر نہیں آ جاتی ہے، اس کے برعکس مسلمان ایک دوسرے پر ٹوٹنے والے مصائب کے پہاڑوں کی گڑگڑاہٹ بھی معمول کے واقعے کی طرح سنتے ہیں اور پھر اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں
کوئی زیادہ دور کی بات نہیں ہے، کچھ عرصہ قبل بھی یہ عالم تھا کے اگر کسی مسلمان ملک پر حملہ ہوتا تو عالم اسلام میں دکھ اور فکر کی لہر دوڑ جاتی تھی، خوشی کی تقریبات مو قوف کردی جاتیں اور مصیبت زدہ مسلمانوں کے لیے حسب توفیق امداد اور تعاون کی ممکنہ صورتوں پر غور اور عمل کیا جاتا، مگر جب سے مغربی میڈیا نے غیر مسلم ثقافت کا زہر مسلمانوں کے دل و دماغ میں انڈیل کر انہیں نفس پرستی کا عادی، عیش و عشرت کا دلدادہ اور بھوک وجنس کا غلام بنا دیا ہے، اس کے بعد ان کی بلا سے کہیں کچھ بھی ہوتا ر ہے، یہ دنیا پرستی کی دھن میں غرق رہتے ہیں
فلسطین کی بیٹیوں نے جب دیکھا کہ کوئی حجاج یا معتصم نہیں رہا جو ان کو اپنے جگر گوشوں کی پکار کی طرح سنے اور جب انہوں نے محسوس کیا کہ آج کے جدید تعلیم یافتہ حکمران ان کی دلدوز صداؤں پر اتنی توجہ بھی نہ دیں گے جتنی وہ صبح صبح اپنےچہرے کی کھدائی لپائی اور اپنے لباس کے کلف اور کریز پر دیتے ہیں تو انہونے ان سنگ دل روشن خیالوں کو پکارنے کے بجائے خود میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا
تادم تحریر فلسطین کی تین تعلیم یافتہ اور اونچے خاندانوں کی بچیاں اپنے جسم سے بم باندھ کر دشمن کے لیے قہر بن کر نازل ہو چکی ہیں اور انہوں نے اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں اور خون کی پھوٹتی چھینٹوں کے ذریعے امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے کہ شاید ان معصوم بچیوں کی قربانی دیکھ کر کوئی مسلم نوجوان دنیا کے جھمیلوں سے پیچھا چھڑا کر خود کو مظلوم مسلمانوں کے لیے وقف کر دے، شاید کسی کے دل میں غیرت کی کوئی چنگاری شعلہ پکڑ لے:

صابر حسین چانڈیو

@SabirHussain43

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: