چینیوٹ ڈیم مسیحا کا منتظر

‏پنجاب کا سب بڑا ڈیم مسیحا کا منتظر
1959 میں برطانوی انجنئیر نے چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ دریائے چناب کی وجہ سے آنیوالے سیلاب کو روکا جاسکے لیکن کسی نے اس طرف توجہ نہ دی۔ 2009 میں واپڈا کو ہوش آیا۔ اور منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 24 ارب روپے لگایا لیکن پنجاب ‏حکومت نے اس طرف توجہ دینے کی بجائے 29 ارب روپے کی میٹرو بس اور 250 ارب کی اورنج لائن بنادی جس سے ہرسال خزانے پر 5 ارب کا بوجھ پڑتا ہے۔ جبکہ قرض کی مد میں اگلے 20 سال تک 25 ارب روپے کی قسط الگ ادا کرنی ہے۔ 2013 میں جھنگ و چنیوٹ میں سیلاب آیا جو 600 سے زائد دیہات بہا کر لے گیا ‏اگر چنیوٹ ڈیم بنا ہوتا تو اس قدر تباہی کبھی نہ ہوتی۔ واپڈا نے اس ڈیم کی فزیبیلٹی 2019 میں مکمل کی اور بتایا کہ لاگت کا تخمینہ بڑھکر 60 ارب ہوگیا ہے۔ 80 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ 13 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا۔ 4 سال میں ڈیم مکمل ہوگا۔ سالانہ 10 ارب آمدنی ہوگی۔ ‏یعنی 6 سال میں اپنی لاگت پوری کرلےگا۔ واپڈا ورلڈ بینک سے بات چیت میں مصروف عمل رہا تاکہ فنڈز کی دستیابی ممکن بنائی جاسکے۔ لیکن چونکہ بھاشا ڈیم کےلئے بھی بینک تعاون کررہا ہے اس لئے معاملہ کھٹائی کا شکار رہا۔

ٹرو جرنلزم دعا گو ہے کہ پنجاب کا یہ سب سے بڑا ڈٰیم جلد از جلد بن جائے۔

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: