طالبان حکومت دہشتگرد یا امن کے داعی ؟؟؟!!!! تحریر بشارت حسین

طالبان حکومت دہشتگرد یا امن کے داعی
پچھلے بیس سال سے افغانستان میں جس طرح دہشتگردی کے نام پہ طالبان حکومت کے ساتھ جنگ و جدل جاری تھا آج جب دوبارہ طالبان حکومت دوبارہ قائم ہونے جا رہی ہے تو دوبارہ سے وہاں امن قائم ہو گیا جب کہ ابھی تک طالبان کمانڈر نے اپنی حکومت کا اعلان بھی نہیں کیا۔
اس بات کا کہنا یہاں غلط نہ ہو گا کہ طالبان دہشتگرد نہیں تھے اصل دہشتگرد وہ تھے جنہوں پچھلے بیس سال افغانستان کے اندر خون کی ہولی کھیلی اور افغانیوں کے خون کو پانی کی طرح بہایا۔
اب اگر کوئی یہ کہے یہ لوگ غلط تھے تو آج کیسے ٹھیک ہو گئے آج کیوں امریکہ بغیر کسی کو بتائے افغانستان سے نکل گیا؟
امریکہ کی قائم کردہ حکومت خود مستعفی کیوں ہو گئی؟
امریکہ اپنی قائم کردہ حکومت کی مدد کو کیوں نہیں پہنچا؟
اس کا مطلب یہ ہوا کہ طالبان نہ کل غلط تھے نہ آج بلکہ غلط تھے تو وہ اسلام مخالف ممالک جن کو اسلامی نظام برداشت نہ ہوا۔ جن کو یہ برداشت نہ ہوا کہ اسلام کیوں امن قائم کر رہا ہے؟ جن کو فکر تھی تو اپنے ہتھیاروں کی کہ وہ کس کو بیچیں گے؟
ان کا اصل مقصد اسلام اور اس کے ماننے والوں کو دہشتگرد ڈکلیئر کرنا تھا۔
افسوس دنیا کے امن پسند ان لوگوں پہ جن کو مسلمان تو دہشتگرد نظر آتا ہے لیکن وہ ظلم نظر نہیں آیا جو کشمیر میں ہو رہا جو فلسطین میں ہوا جو خون برما میں بہا گیا لاشیں چیلوں کو کھلائی گئیں ان میں سے کونسے ملک پہ امریکہ نے حملہ کیا؟
کن کو دہشتگرد ڈکلیئر کیا گیا؟
کیا کسی ایک ملک کو بھی دہشتگرد کہا گیا اسرائیل نے فلسطین میں ظلم کی انتہا کر دی لیکن سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کہیں کوئی اس کو دہستگرد کہے کیونکہ وہ مسلم ملک نہیں۔
کسی نے انڈیا کو کہا کہ تو کیوں کشمیری مسلمانوں پہ ظلم کر رہا ہے؟ کشمیری عوام کیلئے تو اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی موجود ہیں انکو حق خود ارادیت حاصل ہے پھر کیوں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انڈیا وہاں دہشتگردی کر رہا ہے؟
آج تک اس کو دہشتگرد کیوں نہیں کہا گیا؟
اس کا مطلب مسلمان دہشتگرد نہیں بلکہ یہ اسلامو فوبیا ہے۔
آج دنیا کی نظریں افغانستان پہ لگی ہوئی ہیں کہ کیا ہو گا؟
افغانستان کے اندر اگر طالبان اسلامی حکومت قائم کرتے ہیں تو دنیا کہتی ہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔
آخر کیوں؟
آج اگر طالبان اعلان کر دیں کہ وہ امریکہ طرز کی لبرل حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو دنیا انکی طرف دوڑے گی ڈالروں کی برسات ہو گی طالبان سب سے اچھے بن جائیں گے لیکن اسلامی نظام کسی کو برداشت نہیں۔
اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اسلام بھائی چارہ سکھاتا ہے دوسروں کے حقوق کی بات کرتا ہے اسلام غنڈہ گردی کی لگام ہے اسلام عورت کو عورت کا روپ دیتا اسلام عورت سے طوائفہ وحشیہ کا روپ چھین کر اس کو مقدس رتبوں میں جکڑتا ہے جو کہ دنیا کو قطعی پسند نہیں۔
ہم مسلمان ہیں نام کے ہی سہی لیکن اپنے نظام کو قائم کرنے کی بجائے اسلام مخالف ممالک کے کنٹرول میں ہیں آخر کیوں؟
طالبان کے نظام حکومت میں کوئی چیز نئی نہیں آج سے چودہ سو سال پہلے کا نظام حکومت ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور نظام ہے یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا طریقہ ہے یہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نظام ہے یہاں طاقت نہیں بلکہ قانون چلتا ہے۔ جہاں عورت بچے اور مظلوم کو تحفظ ملتا ہے جہاں کسی کا حق نہیں کھایا جاتا جہاں چوری زنا گینگ ریپ بچوں سے زیادتی کے کیس نہیں ہوتے جہاں انصاف کی تلاش میں لوگ خودکشیاں نہیں کرتے جہاں ہر بات کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے جہاں کوئی عدالت ایسی نہیں جس میں غریب اور امیر کو دیکھ کر فیصلے کئے جائیں۔
جہاں غریب آدمی کو قرضہ دیکر سود کی لعنت کے نیچے دبایا نہیں جاتا بلکہ ریاست ایسے لوگوں کی کفالت کرتی نظر آتی ہے۔ جہاں لوگوں کو چوروں کا ڈر نہیں ہوتا۔
جہاں دنیا کا سب سے بہترین نظام زندگی قائم ہوتا ہے۔
دنیا اپنی تنگ نظری کو ایک سائڈ پہ رکھ کر اسلامو فوبیا کا چشمہ اتار کر اس نظام کو دیکھے تو امید ہے کہ اللہ ضرور اسلام کی روشنی سے انکو منور کر دے گا۔
ساری دنیا کا امن اسلامی نظام میں ہے۔
تحریر بشارت حسین
https://twitter.com/Emerging_PAK_B?s=09

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: