پاکستان میں آئل /گھی کمپنیوں کی لوٹ مار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں قیمتیں اتنی زیادہ کیوں

‏گھی /کوکنگ آئل کمپنیوں کے مزے

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گھی/کوکنگ آئل بنانیوالی کمپنیوں نے جنوری سے لیکر جون تک روٹین کے منافع کے علاوہ 300 ارب اضافی منافع کمایا ہے. رپورٹ کے مطابق خام تیل کی طرح خوردنی تیل کی قیمتیں بھی عالمی منڈی میں روزانہ کی بنیاد پر کم زیادہ ہوتی ہیں ‏گزشتہ ایک سال سے خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان ہے. پاکستان یہ تیل ملائشیا و انڈونیشیا سے درآمد کرتا ہے. گھی کمپنیاں درآمد سے ایک ماہ ایڈوانس آرڈر بک کرواتی ہیں. تیل کو پاکستان پہنچنے سے لیکر گھی تیار ہونے میں 45 دن تک لگ جاتے ہیں. اتنی دیر میں عالمی منڈی میں قیمتیں ‏بڑھ جاتی ہیں. کمپنیاں 2 ماہ پہلے کی قیمت خرید کی بجاے گھی/ آئل کی قیمت خوردنی تیل کی موجودہ قیمت کے حساب سے طے کرتی ہیں. جس سے انکو اضافی منافع حاصل ہورہا ہے. پاکستان میں خوردنی تیل کی ماہانہ کھپت 3 لاکھ ٹن ہے. کمپنیاں فی ٹن 250 ڈالر اضافی منافع کمارہی ہیں. اس پر گزشتہ حکومت نے ‏بھی کچھ نہیں کیا اور نہ ہی موجودہ حکومت کو فکر ہے. رپورٹ کے مطابق مطابق 24 جون سے اب تک خوردنی تیل کی فی ٹن قیمت 1500 ڈالر سے کم ہوکر 750 ڈالر تک آگئی ہے لیکن اسکے باوجود ملک میں گھی اور تیل کی قیمتیں کم نہیں ہوئیں.

آپکے خیال اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: