نماز قلب وروح کی آسودگی |جبلی ویوز

نماز:عقل وقلب وروح کی آسودگی

” الصلوۃ عماد الدین”

{ نماز دین کا ستون ہے۔ امام بیہقی نے اس حدیث کو شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے حضرت عمرؓ اور بعض نے حضرت ابن عمرؓ کا قول بھی کہا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: کشف الخفاء للعجلونی ۲/۳۱۔ اور احیاء علوم الدین مع تخریج العراقی۔ }

اگر تم نماز کی اہمیت اور قدروقیمت سے آگاہ ہونا چاہتے ہو اور یہ جاننا چاہتے ہوکہ اس کا حصول کتنا آسان اور اسے اپنانا کتنا کم خرچ بالا نشیں ہے اور یہ کہ جو نماز قائم نہیں کرتا ہے اور اس کا حق ادا نہیں کرتا ہے وہ سراپا حماقت ، نادان اور نقصان اٹھانے والا ہے…جی ہاں! اگر تم دو جمع دو برابر چار کی طرح پورے یقین کے ساتھ اس چیز کی جان کاری چاہتے ہو تو مندرجہ ذیل چھوٹی سی تمثیلی کہانی میں غور کرو:

ایک دفعہ ایک فرمانروا اپنے دو خدمتگاروں کو اپنے خوبصورت کھیتوں میں بھیجتا ہے اور ان دونوں کو چوبیس چوبیس سونے کے سکے دیتاہے تاکہ دونوں ان کھیتوں تک با آسانی پہنچ سکیں۔جوکہ دوماہ کی مسافت پر تھے… اور انہیں حکم دیتا ہے کہ اس رقم سے اپنے لیے ٹکٹوں کااور راستے کے اخراجات اور وہاں پہنچ کر رہائش وغیرہ کا انتظام کرلینا…یہاں سے ایک دن کی مسافت پر ایک اسٹیشن ہے وہاںسے آگے جانے کے لیے کار، جہاز ، کشتی اور ٹرین اور دیگر ہر قسم کے ذرائع آمدورفت کی سہولت میسر ہے، اور ہر چیز کا کرایہ علیحدہ علیحدہ ہے، مسافر جس پر چاہے حسبِ توفیق سفرکرسکتا ہے۔یہ تمام ہدایات لے کر خادم وہاں سے نکلے … ان میں سے ایک بڑا نیک بخت تھا، اس نے اسٹیشن تک جاتے ہوئے راستے میں کچھ رقم خرچ کرکے اس سے کچھ کاروبارکیا جس سے اسے خاطر خواہ نفع ہوا اور اس کی رقم میں ہزار گناہ اضافہ ہوگیا…

لیکن دوسرے نے اپنی سوء ِقسمت اور بیوقوفی کی وجہ سے چوبیس میں سے تئیس سکّے کھیل تماشے اور عیاشی اور جوئے میں خرچ کر دئیے ، اور اس طرح اسٹیشن تک پہنچتے پہنچتے اس کے پاس صرف ایک سکہ رہ گیا…

اس کے دوست نے اس سے کہا:

“ارے ناداں! یہ ایک سکہ جو بچ گیا ہے اسے بھی یونہی ضائع نہ کر بیٹھنابلکہ اس سے اگلے سفر کے لیے ٹکٹ خرید لو، ہمارا آقا بڑا مشفق، فیاض اور مہربان ہے ، عین ممکن ہے کہ وہ تجھ پر ترس کھا جائے اور تیری غلطی سے درگزر کر جائے اور تیرے لیے جہاز کی سواری کا انتظام بھی کردے، اور اس طرح ہم منزل مقصود پر اکٹھے ایک دن پہنچ جائیں۔اور دیکھ، اگر تونے میری بات پر کان نہ دھراتو یاد رکھ تجھے مسلسل مکمل دوماہ تک اس لق ودق صحرا میں پیدل سفر کرنا پڑے گا، اس طول طویل سفر میں کوئی تیرا رفیق ِ سفرنہ ہوگا، بھوک تیرا کباڑا کردے گی اور اجنبیت تیرا ہر طرف سے منہ چڑھائے گی۔تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر یہ احمق آدمی اب ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے، زوال پذیر خواہش کی تکمیل اور عارضی لذت اندوزی کے لیے وہ آخری سکہ بھی صرف کر ڈالے اور ٹکٹ نہ خریدے جو کہ اس کے لیے ایک خزانے کی چابی کی حیثیت رکھتی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آدمی انتہائی سوختہ بخت ، بدقسمت ، حرمان نصیب ، احمق اور واقعہ میں بیوقوف ہے؟… یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک پرلے درجے کا بلیدالذہن آدمی بھی کرسکتا ہے ۔

اے نماز سے بھاگنے والے ! اے میرے نماز سے تنگ پڑنے والے من !

اس کہانی میں مالک، حاکم یا آقا ہمارا پروردگار اور خالق ومالک عزوجل ہے۔ سفر پر نکلنے والے دو خادم جو ہیں ان میں سے ایک تو وہ ہے جو دین دار ہے، جو ذوق و شوق سے اس طرح نماز پڑھتا ہے کہ اس کا حق ادا کردیتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جو غفلت شعار اور تارکُ الصّلاۃ ہے۔ اور سونے کے جو “چوبیس “سکے ہیں۔ وہ عمر عزیز کے ہر گزرنے والے چوبیس گھنٹے ہیں۔اور وہ خصوصی باغ یا جاگیر جو ہے وہ جنت ہے، اور اسٹیشن قبر ہے۔

باقی رہا وہ لمبا سفر یاطول طویل سیروسیاحت ، تو اس سے مراد نوعِ انسانی کا وہ سفرہے جو قبر کی طرف رواں دواں ،حشر کی طرف جاری ساری اور دارالخُلود کی طرف چلا چل ہے۔ اور اس راستے کے مسافر اپنا اپنا سفر اپنے اعمال اور اپنے تقوی وپرہیزگاری کے حساب سے مختلف درجات میں طے کرتے ہیں، کچھ اہلِ تقوی ان میں سے ہزار برس کا فاصلہ بجلی کی طرح ایک دن میں طے کر لیتے ہیںاور کچھ پچاس ہزار برس کا فاصلہ خیال کی رفتار سے طے کر لیتے ہیں۔ قرآن پاک نے اس حقیقت کی طرف چند آیتوں میں اشارہ کیا ہے۔{ کتاب اسرار الصلاۃ۔}

اور ٹکٹ سے مراد اس کہانی میں نماز ہے جو کہ پانچوں نمازیں وضو سمیت زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لیتی ہیں۔

سو کس قدر خسارے میں ہے وہ آدمی جو اِس چھوٹی سی فانی دنیا کے لیے تیئس گھنٹے صرف کرتا ہے اور صرف ایک گھنٹہ اُس لمبی اور ابدی زندگی کے لیے صرف نہ کرسکے! یہ آدمی خود اپنی ذات کے لیے کتنا ظالم ہے! یہ آدمی کتنا احمق ، ناداں اور مورکھ ہے۔

اگر کوئی آدمی اپنی جائیداد کا آدھا حصہ کسی ایسی لاٹری میں لگا دے جس میں ہزاروں لوگ حصہ لے رہے ہوں اور جس میں جیتنے کا چانس صرف ایک فیصد ہے، تو یہ کام بڑا معقول اور مناسب سمجھا جائے گا۔لیکن اُس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی جائیداد کا چوبیسواں حصہ ایسی جگہ پر لگانے سے کتراتا ہے جہاں جیتنے کی سو فیصد گارنٹی ہے؟ اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی جائیداد کا چوبیسواں حصہ اس ابدی خزانے کے لیے خرچ نہیں کرتا ہے، جہاں کامیابی کا ننانوے (99) فیصد امکان ہے…! کیا یہ روش خلافِ عقل اور خلافِ حکمت شمار نہیں ہوگی؟ کیا اپنے آپ کو عقل مند کہلانے والا آدمی یہ معمولی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتا ہے؟

نمازی فی نفسہٖ عقل وقلب وروح کے لیے بیک وقت بہت بڑی راحت اور آسودگی ہے۔ مزید یہ کہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس میں جسم کے لئے کوئی مشقت پائی جاتی ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک نمازی انسان کا ہر دنیاوی جائز کام جو نیک نیتی سے ادا کیا گیا ہو اللہ کی عبادت کا درجہ پائے گا۔ اور یہ ایک ایسا نسخہ ہے جسے استعمال میں لا کر ایک نمازی آدمی اپنی عمر کا تمام سرمایہ آخرت کی طرف منتقل کر سکتا ہے اور اس طرح وہ اپنی اس فانی عمر کے ذریعے دائمی اور ابدی عمر حاصل کر سکتا ہے۔

ماخوذ: رسالہء نور
تالیف: بدیع الزماں سعید نورسی رحمۃ اللہ علیہ

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

5 1 ووٹ
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: