بندہء خدا بن یا بندہء زمانہ |جبلی ویوز

یابندۂ خُدا بن یابندۂ زمانہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحٖيمِ

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ .

ترجمه: “اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں”۔ (سورۃ النحل، الآ یۃ: ۱۲۸)

اگر تم یہ سمجھنا چاہتے ہوکہ انسان کی حقیقی اور اس کے شایانِ شان ذمہ داری— اور اگر وہ اپنی تخلیق کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلے تو اس صورت میں برآمد ہونے والا فطری نتیجہ— یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرے اور گناہوں سے کنارہ کش رہے، تودرج ذیل چھوٹی سی تمثیلی کہانی غور سے سنو:

پہلی جنگِ عظیم کے دوران کسی ملک کی فوج کے دوسپاہیوں کی آپس میں ملاقات ہوئی ، ان میں سے ایک انتہائی ذمہ دار، ڈیوٹی پر توجہ دینے والا اور اچھا تربیت یافتہ تھا، جبکہ دوسرا اپنی ڈیوٹی سے لاپرواہ، منچلا اور اناڑی تھا۔ اعلی تربیت یافتہ او رماہر سپاہی کی تمام توجہ ٹریننگ اور جہاد کے معاملات پر مرکوز تھی اور راشن اور معاش کے دیگر مسائل کی اسے کوئی فکر نہیں تھی، کیونکہ اسے اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اسے خوراک، اسلحہ، اور زندگی کے دیگر لوازمات مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، حتی کہ کسی لاچاری کی حالت میں اگر اس کے منہ میں لقمہ ڈالنا پڑے تو یہ کام بھی حکومت ہی کرے گی، اور اس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ صرف جنگی معاملات کی ٹریننگ لیتا رہے، اوربس۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ چیز بھی سمجھتا تھا کہ اس بھر پور انداز سے ڈیوٹی دینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ ڈیوٹی کے علاوہ کوئی اور کام کر ہی نہ سکتا، اس لیے اسے کبھی جنگی تیاری سے متعلق ذمہ داری بھی سونپی جاتی، جیسے کھانا پکانا اور برتن دھونا وغیرہ، اور اس دوران اگر کوئی اس سے پوچھتا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو تو کہتا : میں رضاکارانہ طور پر ملک کی خدمت کر رہا ہوں، اور یہ نہ کہتا کہ میں یہ دوڑدھوپ لوازمِ حیات مہیّا کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔

اس کے برعکس دوسرا غیر ذمہ دار اور ڈیوٹی سے غفلت برتنے والا سپاہی نہ تو ٹریننگ سے کوئی سروکار رکھتا اور نہ جنگ کے معاملات میں دلچسپی لیتا۔ وہ کہتا تھا: بھئی یہ ذمہ داری حکومت کی ہے میرا اس سے کیا واسطہ؟ اس لیے وہ ہر وقت اپنے آپ کو معیشت کے معاملات میں الجھائے رکھتا اور سامانِ خورد ونوش زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے ہانپتا
رہتا، یہاں تک کہ کبھی اپنی پلٹن کو چھوڑ کر کھانے پینے کے سامان کے لیے بازاروں میں گھومتا رہتا۔

اس کے سمجھ دار دوست نے ایک دن اس سے کہا:

میرے بھائی!تمہاری اصلی ڈیوٹی ٹریننگ اور جنگ کی تیاری ہے، او ریہ وہ ہدف ہے جسے پورا کرنے کے لیے تمہیں یہاں لایا گیا ہے، تم اپنے کھانے پینے کی فکر مت کرو او ر اس بارے میں حاكم پر بھروسہ رکھو، وہ تمہیں کبھی بھوکا نہیں رہنے دے گا؛ کیونکہ یہ اس کی ذمہ داری اور اس کی ڈیوٹی ہے۔ پھر یہ ہے کہ تم عاجز ، مفلس، نادار اور ضرورت مند ہو اس لیے اپنی معیشت کاانتظام از خود نہیں کر سکتے ہو، اور اس پر مزید یہ کہ ہم اس وقت جہاد کے لمحات میں اور جنگِ عظیم کے میدان میں ہیں، اس لیے میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ گورنمنٹ کہیں تمہیں باغی اور نافرمان قرار دے کر تمہارا کورٹ مارشل ہی نہ کردے۔

یاد رکھو کہ ہمارے سامنے دو ذمہ داریاں نمایاں ہوتی ہیں:

ان میں سے ایک ذمہ داری کا تعلق حکمران کے ساتھ ہے، اور وہ یہ ہے کہ وہ ہمارے خورد ونوش اور دیگر لوازمِ حیات کا انتظام کرے، اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ ہماری خدمت کبھی کبھی مفت بھی لے سکتا ہے۔

اور دوسری ذمہ د اری کا تعلق ہمارے ساتھ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم ٹریننگ لیں اور لڑائی کے لیے اپنے كو تیار رکھیں، اور اس ضمن میں حکمران ہمیں ضروری سازوسامان اور سہولیات بہم پہنچاتا رہے گا۔

میرے بھائی!ذرا غور کرو کہ اگر وہ بیکار باش سپاہی اپنے اس مجاہد اور تربیت یافتہ دوست کی بات پر کان نہیں دھرے گا تو کتنا نقصان اٹھائے گا؟ او رکتنی ہلاکتوں اور کتنے خطرات سے دوچار رہے گا!

اے میرے کسل منددل!

وہ میدان جو جنگ وجدل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے وہ میدانِ تلاطم خیز یہ دنیاوی زندگی ہے۔ اور وہ لشکر جو مختلف پلٹنوں میں منقسم ہے، وہ یہ انسانی نسلیں ہیں۔ وہ خاص پلٹن جس کے یہ دو سپاہی تھے، وہ موجودہ دور کا مسلم معاشرہ ہے۔ وہ دو سپاہی جو ہیں ،ان میں سے ایک تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی پہچان رکھتا ہے، ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کرتا ہے اور کبیرہ گناہوں سے کنارہ کش رہتا ہے۔ یہ وہی تقوٰی شعار مسلمان ہے جو گناہوں کے ڈر سے ہمہ وقت اپنے نفس اور شیطان کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔ اور دوسرا سپاہی وہ ہے جو فسق وفجور میں گرفتار اور سراسر نقصان سے دوچار ہے، جو غمِ روزگار میں اس حد تک ہانپ رہا ہے کہ بسا اوقات رازقِ حقیقی پر بھی زبان درازی کرنے سے نہیں چوکتا ہے۔ اور روٹی کا ایک لقمہ حاصل کرنے کے لیے اسے یہ پرواہ ہی نہیں ہوتی ہے کہ اس تگ ودو میں وہ فرائض کی پامالی، ذمہ داریوں کا استحصال اور گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اور وہ ٹریننگ اور مشقیں جو ہیں ان سے مراد عبادات ہیں اور ان میں سرفہرست نماز ہے۔

جنگ سے مراد وہ مجاہدہ، کوشش اور جنگ ہے جو انسان اپنے دل اورر وح کو ایک ساتھ ابدی ہلاکت اور واضح خسارے سے بچانے کے لیے اپنے نفس اور خواہشاتِ نفس کے ساتھ کر رہا ہے، وہ مقاومت ہے جو وہ خطاؤں سے دور رہ کر اور کمینہ اخلاقیات سے کنارہ کش ہو کر کر رہا ہے، اور اس جنگ سے مراد وہ مقابلہ ہے جو اس کے ،اور جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کے درمیان برپا ہے۔

باقی رہیں وہ دو ذمہ داریاں، تو ان میں اسے ایک تو زندگی کے اس عطیے کاخیال رکھنا ہے (جو رب كریم نے عطا كی هیں) اور دوسر ی یہ ہے کہ وہ ذات جس نے یہ زندگی عطا کی ہے او رجو اسے پروان چڑہا رہی ہے، اس کی بندگی اختیار کی جائے، اس سے مانگا جائے، اس پر توکل کیا جائے اور اس کے بارے میں اطمینان رکھا جائے۔

جی ہاں! جس نے زندگی عطا کی ہے، او راس زندگی کو اس طرح بنایا ہے کہ اس میں اس کی قدرت کی بے نیاز کاریگری کی جھلک جلوہ گر ہے، اور اسے اس نہج پر استوار کیا ہے کہ اس میں اس کی پروردگاری کی سمجھ سے بالاتر اور غیر معمولی حکمت جگمگا رہی ہے، وہی اسے منزل بمنزل رواں دواں ارتقا کی طرف لے جارہا ہے، اور وہ اکیلا ہی اس کی نگہداشت کرتا ہے اوراسے اس کا مطلوبہ رزق بہم پہنچا کر اسے دوام بخش رہا ہے۔

کیا تمہیں اس کی دلیل درکار ہے؟ !…تو سنیے:

کند ذہن مچھلیوں کو اور پھلوں میں پائے جانے والے کیڑوں جیسے کمزور ، بلید اور کم عقل جاندار وں کو بھی نہایت عمدہ اور بہترین رزق فراہم کیا جاتا ہے۔ پھر انسانوں او رحیوانوں کے بچوں جیسی کمزور، لاچار اور نازک ترین مخلوق خوبصورت، مزیدار اور پاکیزہ ترین رزق سے نوازی جاتی ہے۔اور یہ سمجھنے کے لیے کہ رزق کا وسیلہ اقتدار واختیار نہیںبلکہ عجز وافتقار ہے، یہی چیز کافی ہے کہ آپ کند ذہن مچھلیوں اور چالاک لومڑیوں کے درمیان موازنہ کریں، جانوروں کے ننھے منے کمزور بچوں اور شکاری وحشی جانوروںکا موازنہ کریں، اور وقار سے سیدھے کھڑے درختوں اور رزق کے پیچھے ہانپنے والے جانوروں کے درمیان مقابلہ کر کے دیکھیں، ان سب کی خوراک کا تقابلی جائزہ لیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ رزق طاقت کے بل بوتے پر حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ کمزوری اور عاجزی سے ملتا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی جو روزی کی فکر میں نماز چھوڑ دیتا ہے اس کی مثال اس سپاہی کی سی ہے جو اپنی ٹریننگ اور خندق کو نظر انداز کر کے بھیک مانگنے کے لیے بازاروں کی خاک چھانتا پھرتا ہے، اس کے برعکس جو نماز کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ اس رزّاقِ کریم کے باورچی خانے سے اپنے حصے کی روزی بھی ڈھونڈتا ہے تاکہ دوسروں پربوجھ بن کر نہ رہے، تو اس کا یہ کردار بہت خوبصورت ہے۔ بلکہ یہ چیز اصلی مردانگی، شہامت اور اولوالعزمی ہے۔ اور یہ چیز بھی بہترین قسم کی عبادت ہے۔

پھر یہ ہے کہ انسان کی فطرت اور اس کی روحانی صلاحیتوں سے بھی یہی رہنمائی ملتی ہے کہ اسے صرف بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے؛ کیونکہ اسے جو طاقتیں ودیعت کی گئی ہیں اور اپنی اس دنیاوی زندگی کے لیے وہ جتنے بھی کام کرتا ہے وہ سب چیزیں مل کر اسے ایک چڑیا کا مرتبہ بھی نہیں دے سکتی ہیں، چڑیا جو کہ اس زندگی کا انسان سے کئی گنا اچھے طریقے سے لطف اٹھاتی ہے۔انسان کو اس کی روحانی اور اخروی زندگی کی حیثیت سے دیکھا جائے اور اس میں ودیعت کی گئی علمی صلاحیت، اور اس کا فقروعجز اور اس کی بندگی کا پہلو دیکھا جائے تو اس پہلو سے یہ انسان سیّدالمخلوقات ہے۔

سو اے میری جان!

اگر تم اس دنیاوی زندگی کو اپنا نصب العین بنا لوگے، اور اس کے حصول کے لیے تمام صلاحیتیں صرف کردو گے تو تمہاری حیثیت ایک حقیر چڑیا سے بھی کم تر ہوگی۔ لیکن اگر تم اپنا نصب العین اخروی زندگی کو بناؤ گے اور اس دنیا کو آخرت کی کھیتی اور وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک وسیلہ سمجھو گے، اور تمام تگ ود و اسی نہج پر کرو گے…تو بہت جلد سید المخلوقات بن جاؤ گے۔ اپنے خالقِ کریم کے ہاں اُس کا معزز بندہ اور اِس دنیا میں اس کا معزز مہمان بن جاؤ گے۔ تمہارے سامنے اب دو راستے ہیں ان میں سے جس کا چاہو انتخاب کر لو:

یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی یا بندئہ خدا بن یا بندئہ زمانہ

اللہ مہربان سے یہ دعا کرتے رہا کرو کہ وہ تمہاری رہنمائی فرمائے اور تمہیں توفیق سے نوازے۔

ماخوذ: مقالات، رسالہء نور
تالیف: بدیع الزماں سعید نورسی رحمۃ اللہ علیہ

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

5 1 ووٹ
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: