سیرت فاروق اعظم و نظام حکومت |جبلی ویوز

یوم شہادت حضرت عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ !!

” امیرالمؤ منین سّیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی سیرت و نظام حکومت “

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
حضرت ابو حفص عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّیٰ بن رباح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوئی القرشی کا سلسلہ نسب کعب بن لوئی میں حضور نبی اکرم ﷺ سے ملتا ہے۔ آپ عام الفیل کے تیرہ سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بڑے ہو کر کشتی، فن سپہ گری اورخطابت میں خوب مہارت حاصل کی۔ آپ قریش کے لئے سفیر کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ عدل وانصاف اور دیانتداری کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں آپ کو قبائل عرب اپنے جھگڑوں میں ثالث تسلیم کرتے تھے۔ آپ نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور دور دراز علاقوں کے سفر کئے جس کی بدولت تجربہ اور دور بینی میں خوب اضافہ ہوا۔

قبول اسلام


نبوت کے پانچویں اور چھٹے سال مسلمانوں نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم ﷺ اور دین اسلام کی بے مثال محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن، کاروبار، خاندان اور اپنے پیاروں کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ جیسے بلد امین سے ہجرت کی تو ایک صحابیہ ام عبد اﷲ بنت ابی حشمہ رضی اﷲ عنہا کو ہجرت کرتے دیکھ کرعمر مشتعل ہوئے کہ خواتین کی ہجرت سے قریش کی شدید بدنامی ہو گی اور پیغمبر اسلامﷺ کو قتل کرنے کے لئے گھر سے نکلے کہ راستے میں ایک صحابی رسول نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہوئی اپنا مقصد ظاہر کیا تو حضرت نعیم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: پہلے گھر کی خبر لو! تمہاری بہن فاطمہ بنت خطاب اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید بھی مسلمان ہو چکے ہیں، انتہائی غصے کی حالت میں اپنی بہن کے گھر پہنچے تو گھر کے اندر حضرت خباب بن الارت رضی اﷲ عنہ، حضرت سعید اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہما کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ قرآن مجید کی آواز سن کر اور زیادہ مشتعل ہوئے، حضرت خباب اندر چھپ گئے، عمر گھر کے اندر داخل ہوتے ہی اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ کو شدید زدوکوب کرنے لگے، فاطمہ رضی اﷲ عنہااپنے شوہرکو چھوڑانے کیلئے قریب آئیں تو انہیں بھی زخمی کر دیا۔ اسی موقع پر حضرت فاطمہ نے غضب ناک ہو کر فرمایا:
’’اے عمر تیرے دین میں حق نہیں ہے اور کہا: ’’اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ‘‘ عمر نے کہا: مجھے وہ اوراق دکھاؤ جن کی تم تلاوت کر رہے تھے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: تم لوگ غسلِ جنابت نہیں کرتے اور اِن اوراق کو صرف پاک لوگ چھو سکتے ہیں۔ عمر نے طہارت حاصل کی اور ’’طٰہٰo مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی سے لے کر اِنَّنِیْٓ اَنَا اﷲُ لآ اِٰلہَ اِلَّاآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی‘‘(طٰہٰ:۱۴) تک پہنچے تو کہا کتنا حسین بلند اور میٹھا کلام ہے۔ مجھے حضرت محمد(ﷺ) کے پاس لے چلو۔
چنانچہ بارگاۂ ِ نبوت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا
حضرت عمر مراد ِ رسول ہیں کیونکہ آپکے اسلام لانے سے دو روز قبل رسول اﷲ ﷺ نے دعا کی تھی:
’’اللّٰھُمَّ اَعِزِّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ اَوْ بِعَمْرِو بْنِ ہِشَام۔‘‘
ترجمہ: ’’اے اﷲ عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابو جہل) میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو عزت وغلبہ عطا فرما۔‘‘ (جامع ترمذی باب فی مناقب ابی حفص )
آپ کے قبول اسلام پر ایک روایت کے مطابق مسلمان مردوں کی تعداد چالیس ہو گئی اور آیت نازل ہوئی:
’’یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اﷲُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘(انفال:۶۴)
ترجمہ: ’’اے نبی تمہیں ﷲ تعالیٰ کافی ہے اور جن مؤمنین نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے۔‘‘
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ’’حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے قبولِ اسلام سے مسلمان بالادست ہوگئے‘‘ (بخاری)کفار قریش نے کہا: ’’قَدِ انْتَصَفَ الْقُوْمُ‘‘ آج قوم آدھی رہ گئی ہے اور اس روز کفار قریش کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔
فاروق اور فاروق اعظم کا خطاب
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے فورا بعدبارگاۂ ِ نبوی میں عرض کی یارسول اﷲ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ تو عرض کیا حضور! ہم اپنا دین کیوں پوشیدہ رکھیں؟ چنانچہ مسلمانوں کی دو صفیں بنیں ایک کی قیادت عمِ رسول حضرت امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ نے فرمائی اور دوسری صف کی قیادت حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمائی۔ اور مسجد حرام میں داخل ہو کر اسلام کا با ٓواز بلند اظہار کیا اور اعلانیہ عبادت کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں نے مسجد حرام میں کھل کر اسلام کا اظہار کیا اور اعلانیہ عبادت کی اس موقع پر رسول اﷲ ﷺ نے آپ کو فاروق (حق وباطل میں فرق کرنے والا) کا خطاب عطا کیا اور اب دنیا بھر کے تمام مسلمان آپ کو’’فاروق اعظم‘‘کے نام سے ذکر کرتے ہیں۔
دورِ نبوی میں آپکی خدمات وفضائل
اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور اعلانیہ عبادت اور تبلیغ اسلام کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آپ نے ہجرت مدینہ کے موقع پر اعلانیہ ہجرت کی جبکہ دیگر مسلمانوں نے خفیہ ہجرت کی۔ ہجرت مدینہ کے بعد تمام غزوات میں آپ کو نبی ﷺ نے اپنے ساتھ رکھا ـ
رسول اکرم ﷺ آپ پر بے پناہ اعتماد کرتے تھے آپ کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا کو نکاح میں لے کر آپ کو اپنا سسر ہونے کا شرف بھی عطا فرمایا۔
حضرت عبد اﷲ بن حنطب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: حضرت رسول اﷲ ﷺ نے ابو بکر وعمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ’’ھَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصْرُ‘‘ ترجمہ: یہ دونوں میرے کان اور آنکھیں ہیں۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حضرت ابو بکر وعمررضی اﷲ عنہما نے جنگ بدر کے موقع پر وادی ذفران میں رسول اﷲ ﷺ کو سب سے پہلے اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی اور جنگ بدر میں ہی حضرت عمر فاروق کے غلام مہجع سب سے پہلے شہید ہوئے۔ جنگ تبوک کے موقع پر آپ نے اپنے تمام مال کے دوحصے کئے، ایک حصہ جہاد کیلئے بارگاہ نبوی میں پیش کیا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا: ’’ھَلْ لِاَحَدٍ مِنْ الْحَسَنَاتِ عَدَدَ نَجُوْمِ السَّمَاءِ‘‘ ترجمہ: کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں؟ فرمایا: ہاں عمر کی نیکیاں۔ تو میں نے عرض کی: ’’اَیْنَ حَسَنَاتُ اَبِیْ بَکْرٍ‘‘ حضرت ابو بکر کی نیکیاں کہاں ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اِنَّمَا جَمِیْعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ کَحَسَنۃٍ وَّاحِدَۃٍ مِّنْ حَسَنَاتِ اَبِیْ بَکْر‘‘ ترجمہ: بیشک عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ایک نیکی کے مثل ہیں۔


حضرت عمر کا دورِِ صدیقی میں کردار


حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ثقیفہ بنوساعدہ میں سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیعتِ امارت کی اور اس کے بعد تمام صحابہ واہل بیت نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بھی معتمد ترین ساتھی تھے اور آپ نے بے شماربار حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے مشورے منظور کئے، خصوصاً قرآن مجید رسول اﷲ ﷺ کی حیات ظاہرہ میں ایک کتاب کی شکل میں جمع نہ ہو سکا، کاغذات، کپڑوں، پاک ہڈیوں، لکڑیوں، چمڑوں وغیرہ پر لکھا ہوا تھا، جنگ یمامہ میں سینکڑوں حفاظِ قرآن شہید ہوئے تو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ہی خلیفہ رسول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پر زور دیا کہ وہ قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا اہتمام فرمائیں اس سے پہلے کہ باقی ماندہ حفاظِ قرآن جنگوں میں شہید ہو جائیں۔ ابتداء میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عذرکیا اور فرمایا میں وہ کام کیسے کروں جسے رسول اﷲﷺ نے نہیں کیا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بار بار اصرار فرماتے رہے اے خلیفہ رسول یہ کام خیر ہے اسے ضرور کیجئے بالآخر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ کی پرزور رائے کو تسلیم کیا اور کاتب وحی حضر ت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ کو قرآن مجید ایک کتاب کی صورت میں جمع کر نے کا حکم دیا اور تدوین قرآن کا تاریخی فریضہ انجام پا یا۔

خلافت فاروقی اور دورِ خلافت پرایک نظر


خلیفہ رسول بلافصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ۲۱ جمادیٰ الآخرہ ۱۳ ھ ؁کو اپنے وصال سے ایک روز قبل چند اکابر صحابہ کی مشاورت سے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ رسول ِ ثانی مقرر کیا۔ حضرت طلحہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کی سخت مزاجی کا ذکر کیا اور کہا: آپ اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے فرمایا: میں ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کروں گا: ’’اِسْتَخْلَفْتُ عَلَیْھِمْ خَیْرَ اَھْلِکَ۔‘‘ ترجمہ: میں نے لوگوں پر تیرے بندوں میں سے سب سے بہتر بندے کو خلیفہ مقرر کیا تھا چنانچہ تمام صحابہ واہل بیت اور قریب وبعید کے مسلمانوں نے آپ کی بیعت ِامارت کی اور آپ کی خلافت پر بھی خلافتِ صدیقی کی طرح صحابہ واہل بیت ِرسول کا اجماع منصوص قائم ہوا۔ یاد رہے کہ صحابہ کرام کے اجماعِ منصوص کا انکار کرنا فقہاء کے نزدیک کفر ہے۔
دانائے غیوب حضرت محمد رسول ﷺ نے اگرچہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں فریایا لیکن حضرت ابو بکر وحضرت عمر رضی اﷲ عنھما کی خلافت کے واضح اشارات ضرور دیئے۔
(1) حضرت خذیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: ’’فَاقْتَدُوْا بِالَّذِیْنَ بَعْدِی اَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ‘‘ (ترمذی ومشکوۃ) ترجمہ: تم میرے بعد ابو بکر وعمر (رضی اﷲ عنہما) کی اقتداکرنا۔
(2) حضرت ابو بکررضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ’’ایک شخص نے رسول اﷲ ﷺ سے خواب عرض کی: کہ آسمان سے ایک میزان اترا ہے آپ ﷺ اور حضر ت ابو بکررضی اﷲ عنہ کا وزن ہوا تو آپ ﷺ کا وزن زیادہ ہوا پھر حضرت ابو بکر وعمر رضی اﷲ عنہما کا وزن ہوا تو حضرت ابو بکرکا وزن زیادہ ہوا پھر حضرت عمررضی اﷲ عنہ اور حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کا وزن ہوا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا وزن زیادہ ہوا ’’فَقَالَ خِلَافَۃُ نَبَّوَۃٍ‘‘ ترجمہ: تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: اس خواب کی تعبیر، نبوت کی خلافت ہے‘‘ (ترمذی، مشکوۃ)

بے مثال دورِ فاروقی کی ایک جھلک

:
ٓٓآپ کے ساڑھے دس سالہ دورِ خلافت میں اسلامی ریاست ایران، بلوچستان، خراساں (سمرقند بخارا وغیرہ) سے طرابلس الغرب (تقرباً 22لاکھ 51ہزار 30مربع میل) تک پھیل گئی جو تاریخ انسانی میں اتنی مدت میں ریکارڈ ہے۔ جس میں دمشق، رومیوں کا وسط ایشیاء میں دارالخلافۃ حمص، فلسطین، مصر، طرابلس الغرب، اردن، ایران (جو کہ اس وقت عراق، بلوچستان، کابل، ماورائے نہر خراساں اور بے شمارعلاقوں پر مشتمل تھا) اور 1000سے زائد بلاد فتح فرمائے اور پھر زمین پر عدل وانصاف اور راستی دیانت داری کی اعلیٰ مثالیں قائم فرمائیں۔ ایک طرف مخلوقِ خد ا کے دلوں میں حق پرستی اور پاکبازی پیداہوئی تو دوسری طرف ایسا فلاحی نظام قائم کیا کہ ہر شخص کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کیں حتیٰ کہ جانوروں کے تحفظ کیلئے قوانین وضع فرمائے اور فرمایا اگر نیل کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر ذمہ دار ٹھہریگا۔

کاش کہ اسلامی ممالک کے حکمران دورِ فاروق اعظم رضی ﷲ عنہ کو پیش نظررکھ کر نظام حکومت قائم کریں تو نہ صرف اسلامی ممالک میں خوشحالی اور امن و آشتی کی فضا ء پیدا ہوجائیگی بلکہ زمانہ بھر کے غیر مسلم اسلام کے اعلیٰ اور کامل فلاحی وسعاداتِ دارین کے ضامن نظام سے متأثر ہو کر حلقہ بدوش اسلام ہونے لگیں گے۔

دورِفاروقی کا مرکزی نظام حکومت


’’وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘‘ (سورہ شوریٰ: ۳۸) کے تحت اہم امور میں مشاورت ہوتی تھی اور حتمی فیصلے امیر المؤمنین کرتے تھے۔ حضرت عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ کو جنرل سیکرٹری ومحافظ ِ بیت المال مقرر کیا اور حضرت محمد بن مسلمہ رضی ﷲ عنہ کو محتسب مقرر کیا۔ احتساب کا سخت ترین نظام تھا۔ بڑی سے بڑی شخصیت قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر احتساب سے بچ نہ سکتی تھی۔ حج کے موقع پر تمام صوبائی گورنروں کی حج میں حاضری لازم تھی۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ہر سال خود بھی حج میں شریک ہوتے۔ ہر علاقے کے لوگوں کو شکایات کا موقع دیا جاتا اور گورنروں کے خلاف فوری اقدمات ہوتے۔ جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن العاص گورنر مصر کے بارے میں ایک شخص نے شکایت کی، گورنر نے مجھے کوڑوں کی نا حق سزا دلوائی ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حج کے اجتماع میں حضرت عمر وبن العاص کو کوڑے مارنے کا حکم فرمایا جس کے بعد اس شخص نے قصاص کا حق معاف کرنے کا اعلان کیا۔

امیر المؤمنین اور تمام گورنروں کیلئے لازم تھا کہ ایک عام آدمی کی بود وباش اختیار کریں، ترکی مہنگاگھوڑا استعمال نہ کریں، باریک کپڑے نہ پہنیں، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھائیں، جائیداد میں اضافہ نہ کریں، اپنے دروازے عوام پر بند نہ کریں، دروازوں پر محافظ مقرر نہ کریں۔ امیر المؤمنین خود بیت المال سے سال میں کپڑوں کے دو جوڑے اور روزانہ ایک مزدور کا معمولی وظیفہ وصول کرتے۔ آپ کی پہنی ہوئی قمیص کے کندوں پر ہمیشہ پیوند لگے نظر آتے۔ ایک مرتبہ خطبہ جمعہ میں تاخیر کی وجہ یہ بتائی کہ کپڑوں کا ایک ہی جوڑا تھا دھو کر سوکھنے کی انتظار میں تاخیر ہو گئی ہے۔ کفایت ِشعاری کا یہ عالم تھا کہ رات کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے ناشتہ فرماتے، ایک بار عراق سے معزز مہمان آئے تو انہیں بھی رات کے بچے ہوئے ٹکڑے ناشتہ میں پیش کیے تو مہمانوں نے ایک لقمہ کھانے کے بعد کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا۔ صحابہ کرام نے نامناسب سمجھاتوحضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ سے امیر المؤمنین سے بات کرنے کے لئے کہا، حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے کہا: اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے بات کریں۔ صحابہ نے حضرت اُم المؤمنین رضی ﷲ عنہا سے بات کی تو حضرت اُم المومنین رضی ﷲ عنہ نے امیر المؤمنین سے صحابہ کی شکایت کا ذکر کیاتو امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ نے رسول ﷲ ﷺ کی سادگی وکفایت اشعاری اور فقر وفاقہ کا ذکر کیا اور زار وقطار رونے لگے اور عرض کیا: اے ام المؤمنین! رسول ﷲ ﷺ کے اسوہ پرعمل ہی بہتر ہے۔

گورنر مصر حضرت عیاض بن غنیم رضی ﷲ عنہ نے پتلا لباس پہنا تو انہیں معزول کر دیا اور کہا بکریاں لے جاؤ اور بکریاں چرایا کرو۔ فاتح ایران جلیل القدرصحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاض رضی ﷲ عنہ نے اپنے دفتر کے باہر پہرہ لگایا تو انہیں معزول کردیا۔ آپ کے سالے قدامہ نے شراب نوشی کی تو 80کوڑے حدِ شراب قائم کی۔ سپہ سالار اعظم سیف ﷲ حضرت خالد بن ولید رضی ﷲ عنہ کی شان میں کسی نے قصیدہ پڑھا تو آپ نے قصیدہ خوان کو انعام دیا تو محمد بن مسلمہ کو بھیجا اور معزولی کے احکام جاری فرمائے۔

آزادی تنقید کی عام اجازت فرمائی۔ حضرت سلمان فارسی رضی ﷲ عنہ نے دوران خطبہ سوال کیا کہ آپ نے جو چادریں تقسیم کی ہیں آپ نے ایک سے زیادہ چادر سے اپنا لباس تیار کر وایا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ میرے بیٹے عبد ﷲ بن عمر نے اپنے حصے کی چادر مجھے دے دی تھی میں نے کوئی خیانت نہیں کی۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: اگر میں ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے ہٹوں تو کیا کرو گے؟ ایک نوجوان نے تلوار سونتی اور کہا: ہم آپ کی گردن کاٹ دیں گے تو آپ رضی ﷲ عنہ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا: جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں کوئی ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے روگردانی نہیں کر سکتا۔ نیز فرمایا: ’’اَحَبُّ النَّاسِ اِلیَّ مَنْ رَفَعَ اِلیَّ عُیُوبِیْ‘‘ ترجمہ: تمام لوگوں سے مجھے سب سے پیارا وہ ہے جو میرے عیوب ونقائص میرے سامنے رکھے۔
دورِفاروقی میں بے شمار اصلاحات اور محکموں کا قیام:
آپ نے فوج، ڈاک، بیت المال، پیمائش، پولیس اور دیگر محکمے قائم کیے، منزلیں اور سرائیں قائم کرائیں۔ 4000مساجد تعمیر کروائیں جن میں سے 900جامع تھیں، سن ہجری قائم فرمایا، نمازِ تراویح با جماعت ختم قرآن کے ساتھ شروع فرمائی، مساجد روشنی کا انتظام فرمایا، شہروں میں پہرے مقرر کیے، تاجر کیلئے تعلیم لازم فرمائی، مدارس قائم فرمائے، اساتذہ کے وظائف مقرر فرمائے۔ جب مدارس کی تعلیمی رپورٹ سے پتہ چلا کہ حضرت ابوالدرداء کے مدرسہ جامع مسجد دمشق سے 10 ہزار سے زیادہ حفاظ تیار ہوئے ہیں تو بہت خوش ہوئے۔ اہل کتاب کی عورتوں سے سیاسی طور پر نکاح کرنے سے منع فرمادیا۔ مؤلفۃ القلوب کی بجائے مسلمانوں کو زکوۃ دینے کا حکم فرمایا۔ مسجد نبوی کی توسیع فرمائی اور سادگی برقرار رکھی۔ مسجد حرام کے ارد گرد پہلی بار چار دیواری قائم فرمائی۔ آپ نے یہود کو حجاز مقدس سے نکال دیا اور تمام غیر مسلموں کو گھروں اور ان کی عبادت گاہوں میں مذہبی آزادی دی لیکن پبلک مقامات پر انہیں تبلیغ کا حق نہ دیا۔ آپ نے صاحب احداث کے نام سے محکمہ پولیس بھی قائم کیا جس کی ذمہ داری عوام اور حکومتی اثاثوں کی حفاظت، امن وامان کا قیام اور تجاوزات پر کنٹرول کرنا ہوتا تھا۔ آپ نے دریائے نیل سے بحیرہ قلزم تک 69میل لمبی نہر، نہر امیر المؤمنین کے نام سے کھدوائی جس میں کشتیاں چلتی تھیں اسی طرح متعدد دیگر نہریں بھی کھدوائیں جن سے ایک نہر ’’نہر ابی موسیٰ اشعری‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔

صوبائی حکومتیں


آپ نے مکہ مکرمہ ومدینہ منور ہ، شام، جزیرہ، مصر، فلسطین، کوفہ، بصرہ، خراساں، آزربائیجان، فارس اور دیگر مقامات پر صوبائی حکومتیں قائم فرمائیں ہر شہر میں ایک قاضی، ایک معلم، ایک خازن اور ایک حاکم مقرر کرنے کی ہدایات فرمائی گورنروں سے دروازے عوام پر بند نہ کرنے اور انتہائی سادہ طرز زندگی گزارنے اورجائید اد میں اضافہ نہ کرنے کا عہد لیتے اور انتہائی سخت احتساب فرماتے۔

دورفاروقی میں فوجی نظام


فوج کا نظام اعشاری تھا ہر دس پر امیر العشر، ایک سوپر قائد اور ایک ہزار پر امیر۔ فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا بصرہ، کوفہ، اردن، طرابلس الغرب میں فوجی چھاؤنیاں قائم کیں جہاں خوراک کا سٹاک ہوتا، گھوڑے اونٹ اور اسلحہ کے ذخائر ہوتے اور گھوڑوں اور اونٹوں پر ’’جیش فی سبیل اللّٰہ‘‘ داغاجاتا۔ آپ نے مجاہدین کے وظائف مقرر فرمائے ـ
فوجی بھرتی کیلئے زیادہ تر مدینہ منورہ کو مرکز بنایا گیا اور ہر سال 30ہزار فوجی بھرتی کیے جاتے اگر دشمن کی تعداد 2لاکھ ہوتی تو چالیس ہزار مجاہدین سے زائد مقابلہ میں نہ بھیجتے۔

امیر المؤمنین خود پوری فوج کے کمانڈر انچیف تھے اور تمام بڑی جنگوں میں جنگ کا نقشہ خود بناتے اور اسکے ساتھ ہدایات بھیجتے رہتے۔ آپ نے سپر طاقت ایران سے جنگ قادسیہ کے موقع پر خود جنگ میں قیادت کا اظہار کیا لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سمیت اکابر صحابہ نے آپ کو مدینہ منورہ سے نہ جانے دیا تو آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو سپہ سالار، حضرت زبیر کو میمنہ، حضرت عبد الرحمن بن عوف کو میسرہ اور حضرت طلحہ کو مقدمۃ الجیش پر امیر مقرر کیا اور میدان ِجنگ کا نقشہ خود تیار کیا۔

آپ کی سیرت طیبہ کی ایک جھلک


مربع میل ریاست کے امیر ہونے کے باوجود آپ فقیر صفت، دلق پوش اور بیت المال سے ایک مزدور کے برابر وظیفہ لینے والے حاکم تھے۔ ایک بار قیصرِ روم کا ایلچی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اوریہ دیکھ کر کہ آپ ایک مزدور کے لباس میں مسجد میں سرہانے اینٹ رکھ کر قیلولہ فرمارہے ہیں نہ کوئی سیکورٹی ہے نہ پہرے دار، ایسا متأثر ہوا کہ واپس جا کر پھر مدینہ منورہ آیا اور اسلام قبول کر لیا۔
جب بیت المقدس فتح ہوا تو آپ بیت المقدس تشریف لے گئے قمیص پر 14 پیوند تھے خود پیدل اور خادم گھوڑے پر سوارتھا۔ صحابہ نے اچھا لباس پہننے پر اصرار کیا تو فرمایا اﷲ نے یہ عزت لباس کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے عطا فرمائی ہے۔

جنگ بدر میں اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کر کے غیرتِ اسلامی کا عظیم مظاہرہ فرمایا، جنگ بدر میں قیدیوں کے بارے میں آپ ہی نے مشورہ دیا کہ ان اعداء اسلام کو قتل کر دیا جائے اور ہر مسلمان اپنے رشتہ دار قیدی کو خود قتل کرے۔ ایک بار کسی نے ’’وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت‘‘(تکویر: ۱۰) ترجمہ: جب نامہ اعمال کے رجسٹر کھولے جائیں گے، پڑھا تو بے ہوش ہوگئے۔ ایک بار فرمایا: کاش کہ میں پیدا نہ ہوتا۔ ایک بار فرمایا: کاش کہ میں انسان کی بجائے ایک تنکا پیدا کیا جاتا۔ کسی نے تلاوت کی: ’’اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ‘‘ (طور:۷) ترجمہ: تیرے رب کا عذاب ضروروقوع پذیر ہونے والا ہے۔ یہ آیت سن کر سواری سے اترے اور کافی دیر انتہائی پریشان بیٹھے رہے۔ آپ بیوگان اور یتیموں کیلئے پانی خلافت سے پہلے اور بعد از خلافت اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھروں میں پہنچاتے۔ ایک بار حضرت عباس کے پرنالے سے ذبح شدہ مرغ کا خون بہہ رہا تھا تو اس پر نالے کو اکھاڑنے کا حکم دیا تاکہ گزرنے والوں کے کپڑے آلود نہ ہوں تو حضرت عباس رضی اﷲ نے فرمایا: یہ وہ پرنالہ ہے جسے رسول اﷲ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے نصب فرمایا تھا تو فوراً فرمایا: اے عباس! میرے کندھے پر کھڑے ہو کر یہ پر نالا اسی جگہ نصب کرو۔
شہادت اور روضہ رسول میں تدفین:
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ 26ذوالحج 23؁ ھ بروز بدھ آپ مسجد نبوی مین نماز ِ فجر کی پہلی رکعت میں قراء ت فرما رہے تھے کہ ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ لعین نے آپ کو دو دھاری خنجر سے شدید زخمی کیا۔ جس کے بعد یکم محرم الحرام کو آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا اور روضہ رسول میں رسول اﷲ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں رسول اﷲ ﷺ کے سر مبارک سے دو ہاتھ نیچے رکھ کر دفن کیے گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن!

آپ نے شدید زخمی حالت میں چھ اشخاص حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد ابی وقاص اور حضرت عبد اﷲ الرحمن بن عوف (رضی اﷲ عنہم) کے بارے میں فرمایا: اِن چھ اشخاص سے رسول اﷲ ﷺ وفات کے وقت بہت خوش تھے اور میں خلافت کا معاملہ اِن کے سپر د کرتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے کثرت رائے کی بنیاد پر حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی خلافت کا اعلان کیا۔

اپنے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے زخمی حالت میں کہا: اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس جاؤ! اب امیر المؤمنین نہ کہنا بلکہ کہنا عمر عرض کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کیساتھ تدفین کی اجازت چاہتا ہے۔ حضرت اُم المومنین نے فرمایا: یہ جگہ تو میں نے اپنے لئے سوچی تھی لیکن میں امیر المومنین حضر ت عمر رضی اﷲ عنہ کو اپنے آپ پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اﷲ عنہ واپس آئے تو فرمایا: مجھے اٹھاؤ پھر فرمایا: کیا خبر ہے: عرض کی اے امیر المومنین جو آپ پسند کرتے ہیں۔ تو آپ نے کہا: ’’اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ! مَاکَانَ شَیْءٌ اَھَمَّ مِنْ ذاَلِکَ اِلَیَّ‘‘ ترجمہ: الحمد ﷲ! کوئی شئی اس سے میرے نزدیک زیادہ اہم نہیں تھی۔ پھر فرمایا: میری شہادت کے بعد پھر اُم المؤمنین سے پوچھنا اگر اجازت دیں تو فَبِھَا وگرنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اکثر دعا کرتے تھے ’’اللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِک وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِک‘‘ (بخاری) ترجمہ: اے اﷲ مجھے اپنے راستے میں شہادت کا رزق عطا فرما اور میری موت اپنے رسولﷺ کے شہر میں فرما۔ چنانچہ اﷲ تعالی نے آپ کی دعا من وعن قبول فرمائی اور آپ کی شدید خواہش کے مطابق آپ روضہ رسول میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: