نیا افغانستان قسط اول تحریر محمد داؤد

نیا_افغانستان:-

قسط_1

سٹوڈنٹس آرہے ہیں، ان کے آنے سے نئی حکومت بنے گی، نیا نظام بنے گا اور نیا افغانستان بنے گا۔
یہ نیا پن کیا ہوگا؟ نیا افغانستان کیسا ہوگا؟ اتنا تو سبھی جانتے ہیں کہ سٹوڈنٹس کا نظامِ حکومت اسلامی امارت ہوگی۔ اسلامی قوانین نافذ ہوں گے۔ لیکن اس بار کے سٹوڈنٹس اور 2001 سے پہلے کی سٹوڈنٹس حکومت میں کیا فرق ہوگا؟ خاص کر ہمارے

لیے ان کے رویوں میں کیا فرق ہوگا؟
ان سارے سوالوں کا جواب امید ہے کہ آپ کمنٹ میں اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق دے کر علم میں اضافہ فرمائیں گے۔ لیکن مستقبل کے افغانستان پر تبصرے سے پہلے پاکستان کی افغانستان بارے سابقہ پالیسیوں پر اظہار خیال کروں تاکہ مستقبل کی تصویر واضح ہوجائے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے آج تک جو بھی پالیسی بنائی گئی وہ بہترین خارجہ پالیسیوں میں سے ہے۔۔۔۔۔
انگریزوں کی برصغیر آمد کے موقعے پر برطانوی افواج نے افغانوں سے شکست کھائی تھی۔ پسپائی کے بعد دوبارہ تازہ دم ہوکر افغانستان پر حملہ کیا تو افغانوں نے ایک معاہدے کے تحت جنگ سے گریز کیا۔ اس معاہدے کے تحت ایک بڑا علاقہ انگریز کو دیا گیا اور باقی ماندہ افغانستان پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق جو علاقہ انگریز کو دیا گیا تھا وہ تھا ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا۔ اس وقت اس کا نام افغانیہ رکھا گیا۔ ڈیورنڈ لائن کے ذریعے آزاد افغانستان اور برطانیہ کے زیر تسلط برصغیر میں حد بندی کی گئی۔
تحریک پاکستان کے دوران اقبال کی دور بیں نگاہ نے دیکھ لیا تھا کہ مستقبل میں نومولود اسلامی ریاست کے لیے ڈیورنڈ لائن کا معاملہ لے کر افغانستان سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس آنے والے خطرے کے حل کے لیے علامہ اقبال نے 1938 میں افغانستان کا دورہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کا آخری بیرونی دورہ تھا۔
انہوں نے افغانستان کے حکمرانوں اور با اثر سیاسی افراد سے ملاقاتیں کیں اور یہ یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ برصغیر میں ایک اسلامی ملک بن رہا ہے، اس کے لیے آپ کی طرف سے کوئی مسلہ نہیں ہونا چاہیے۔ افغانوں نے معلوم نہیں اقبال رحمۃ اللہ کو کتنا مطمئن کیا ہوگا لیکن قصہ مختصر 1947

میں پاکستان بن گیا۔۔۔۔۔۔۔ جاری

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: