آپ کا کردار تحریر حبیب الرحمان خان. @HabibAlRehmnkhn

تحریر: حبیب الرحمٰن خان
عنوان: آپ کا کردار
یہ میری زندگی کا زاتی تجربہ ہے کہ انسان اپنے کردار سے کسی پرکس طرح اخلاقی برتری حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ مقابل کسی بغض کا شکار نہ ہو
میں کافی عرصہ سعودیہ میں رہا اور مختلف کمپنیوں اور شخصیات کے ساتھ کام کیا۔
میں فرشتہ تو نہیں لیکن اپنے کردار کو داغ دار نہیں ہونے دیا۔ اپنی پوری کوشش سے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا
غلطی بھی انسان کی فطرت میں شامل ہے سو اس سے مبرّا نہیں ہوں۔لیکن بفضل تعالیٰ اگر کسی خاتون سے جسمانی ملاپ ہوا تو وہ میری بیوی ہی تھی اور الحمدللہ ثم الحمدللہ کہ نوجوانی میں رب کریم سے زنا سے بچنے کی درخواست کی اور مالک کائنات نے اپنی کمال مہربانی سے قبولیت کا شرف عطا فرمایا
اگر کبھی قدموں میں لغزش بھی ہوہی تو مالک کائنات نے سہارا دے کر بچا لیا۔
مجھے اکثر سعودی خواتین پوچھتی تھیں کہ کیا آپ حقیقتاً پاکستانی ہو۔ تو مجھے اپنا اقامہ (رہاہشی شناختی کارڈ)دکھانا پڑتا۔ مجھے کافی خواتین کی طرف سے شادی کی پیش کش بھی ہوہی لیکن بوجہ حامی نہ بھر سکا
آخری تین سال شاہی خاندان کی ایک خاتون کے ساتھ گزارے۔ یہ خاتون شاہ سلیمان کی بڑی بھابھی تھیں اور شاہ سعود مرحوم کی بیوہ تھیں۔ یہ کافی عمر رسیدہ تھیں
شاہی خاندان میں ایک قانون یا رواج ہے کہ ملازم کسی صورت شاہی خاندان کے فرد سے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ شاید اسے معیوب سمجھا جاتا ہے یا اپنی توہین سمجھیں جاتی ہے
ایک دفعہ میں اپنی مالکن اور اس کی بیٹی (اس وقت بعمر تقریباً 30 سال) کے ہمراہ جدہ گیا وہاں اس خاتون کے دو محل تھے جنھیں وہ وقتاً فوقتاً جا کر دیکھتی اور حسب ضرورت مرمت بھی کروا دیتی
جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک کمرے میں ایئر کنڈیشنڈ والی جگہ کے راستے پانی اندر گیا اور کافی وقت رکے رہنے کی وجہ سے بدبو بھی پھیل گئی اور قالین کو خراب بھی کر دیا۔
خیر مجھے قالین والے کو بلا کر نئی قالین ڈلوانے کا کہا گیا ۔ جب قالین والا آیا اور قالین ڈالنے لگا تو اس وقت اس خاتون کی بیٹی نے کمرے کا دروازہ زرا سا کھول کر دیکھنے کی کوشش کی میری نگاہ پڑی تو میں نے اسے بڑے زور سے گھورا۔
وہ لڑکی بھاگ کر ماں کے پاس جا بیٹھی
جب قالین پڑ چکی تو میں نے اندر جاکر کام مکمل ہونے کی اطلاع دی تو خاتون نے مجھے پوچھا کہ میری بیٹی کو کیا کہا ہے کہ ڈر کے مارے میرے پاس بیٹھی ہے
تو میں نے تمام واقعہ سنایا۔
تو خاتون بولیں کہ بیٹے تمھاری اسی اپناہیت کی وجہ سے میں تمھاری بد تمیزی بھی برداشت کرتی ہوں
ایسا تو اس کے سگے بھائی بھی نہ کرتے
تو میں نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا کہ کجا کہ ملازم آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا آپ میرے گھورنے کو بھی برداشت کرتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ آپ جب اپنے گھر (ماں، بہن، بیٹی) کے متعلق سوچیں تو آپ سے غلط کام ہو ہی نہیں سکتا
دعاؤں کا طالب

حبیب_خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: