آج اور ہم: تحریر شہاب ثاقب

ہم اور آج۔۔
زندگی میں گزرے ہوئے شب و روز روزِ روشن کی طرح عیاں اپنے بہترین نقوش کی ترجمانی سنہرے وقت سے گزرگانی عجیب کیفیت اور عجیب طبیعت کے مالک کی گردان۔وقت لفظ مشکل اور بغیر محتاج چلنے میں خود کفیل ایک خواب کی شکل میں خوابوں اور یادوں میں محفوظ مکمل نہیں لیکن بُھولا نہیں۔ایک دن بلکہ ہر دن مختلف اوقات اور مختلف کیفیات پر چلتے ہوئے رواں دواں سمندر کے شفاف پانی کی مانند ہر چیز اپنے ساتھ بہانے کے قابل۔انسان اپنی دُھن میں مگن زندگی کی رعنائیوں میں مگن ہر آج نہ ہم تبدیل اور نہ ہی وقت تبدیل ہم کا اختتام آج کا نیا جنم۔
دو روشن ستارے دن اور رات میں چمکنے والے لوگوں کو اپنی روشنی سے منّور کرنے والے انسانوں کو اپنی جانب کھینچنے والے اچانک ان کا ٹوٹ جانا بکھر جانا۔عجیب اتفاق ہم اور ان کی نسلیں ان روشن ستاروں کی کہانیوں کو اپنی کتاب میں پہلا صفحہ دینے والے خود آخری صفحہ کے آخری سطر کے محتاج۔درمیانِ شب انسانوں کی بستی سے الگ تھلگ بوڑھا جوان صبح شام کا مہمان روشن ستاروں کا اکیلا اختتام۔بوڑھے انسان طاقتور نوجوان کمزور بچے اور تمام انسان مخصوص وقت اور تمام وقتِ زندگی میں کتابوں میں پڑھی ہوئ کہانیوں کی باعث صرف الفاظ کے روشن ہونے کا انتظار۔
ہم انسان اور آج وقت، انسان تبدیل اور آج کا ہر روز نیا جنم ماضی کی دھندلکیوں اپنے پُرکھوں اپنے آباو اجداد کا آج اور ہمارا آج وقت کی تیز رفتار ہم آج کل ماضی اور شاید کتابوں میں پڑے ہوئے سنہرے الفاظ۔سنہرے الفاظ ایک شاندار اور یادگار ماضی ذہن نشین ایک لفظ اور دوات کے چند قطروں کے محتاج ۔پڑھنے والا سالوں بعد ہم آج بھی زندہ خوش قسمتی ہم اور آج دونوں زندہ۔سالوں بعد کتاب تبدیل ہم تبدیل آج تبدیل ہم بغیر محتاج مستقبل امید اور اچھا اختتام۔
ہمارا نیا جنم نئ کتاب میں نیا نام نیا کام یہ کارنامہ ہم کو سمجھنے والے بخوبی سرانجام۔پھر ایک لمبے عرصے کے لئے شدید اور بہترین الفاظ میں دُہرائے جانیوالے ہم سنہری الفاظ ۔الفاظ میں دوست غائب اہل و عیال غائب اساتذہ غائب ذمین غائب وقت غائب ہم سے آگے نسل غائب ہم اور ہمارا دور بھی غائب۔آج زندہ الفاظ بھی زندہ خون زندہ نسل زندہ شعور زندہ کتاب زندہ تو ہم زندہ۔ہم اور اُس کے دور کے درخت زندہ سمندر زندہ دریا زندہ ہم اور اس کے دور کی متعدد اشیاء زندہ۔ یادیں ختم مسکراہٹیں ختم۔
الفاظ کو روشن کرنے والے ستاروں کا اختتام انسانی بستی سے الگ تھلگ بوڑھا جوان کا اختتام دوات اور اُس کے سنہری دور کا اختتام۔کتاب بوجھ کتاب میں پڑے سنہری الفاظ بوجھ وقت اور کتاب کا تعلق بوجھ وقت مختصر خیالات مختصر مقاصد مختصر یادیں مسکراہٹیں مختصر دوست مختصر کیونکہ انسان مختصر۔نسل تبدیل نظم و نسق تبدیل پرانا دور تبدیل زمین تبدیل اہل و عیال خوش وقت خوش اور انسان بھی خوش۔
آج تبدیل کتاب تبدیل اور سنہرے اوراق میں لکھے گئے سنہرے الفاظ میں پڑے ہم لوگ بھی تبدیل۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: