واقعہ مینار پاکستان اور ایس او پیز تحریر: آرجے ساجد عثمانی

واقعہ مینار پاکستان اور اور ایس او پیز

‏‎لاہور میں ٹک ٹاکر خاتون سے متعلق واقعے پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ اس سارے واقع کی اصل وجہ وہی ہمارے مردوں کی اکثریت کا مائنڈ سیٹ ہے کہ جو عورت گھر سے باہر نکلی ہے، جو عورت بغیر پردے کے باہر نظر آتی ہے۔۔جو عورت بھی زرا سج سنور کر باہر نکلی ہے، جو بھی لڑکی پارک، ہوٹل یا پبلک پلیس میں گھوم پھر رہی ہے یا کھا پی رہی ہے تو وہ اچھی لڑکی نہیں بلکہ ایک بدکردار اور فاحشہ عورت ہے، دوسری سوچ یہ ہے کہ اللہ نے جب کہا کہ مومن عورتیں بلا وجہ گھر سے باہر نہ نکلیں، گھر میں ٹکی رہیں، اور اپنے سینوں کو چادر سے ڈھانپ رکھیں، اور اپنے حسن و جمال کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد پر ظاہر نہ ہونے دے تو پھر اس کے برخلاف چلنے والی عورتوں سے ہر طرح کی دست اندازی کی جاسکتی ہے۔
‏‎اور اس کی وجہ سے اس مائنڈ سیٹ کے پاکستانی مرد عورت پر ہر قسم کا حملہ کرنے اپنا حق سمجھتے ہیں۔
‏‎دراصل اسی مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ عورت کو اللہ نے جو حکم دیا اگر وہ اس پر عمل نہیں کررہی تو وہ جانے اور اللہ جانے۔ مردوں کو پھر بھی یہ اجازت نہیں دی کہ اللہ کے احکامات نہ ماننے والی عورت کو مال غنیمت سمجھ لو، کتے کی طرح رال ٹپکانا شروع کر دو اور کتے کی طرح اس پر حملہ کر دو۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے عورت کو تو آخرت میں جوابدہی کے لئے پیدا کیا ہے اور مرد کو بطور ایک جانور جس سے کوئ بازپرس نہ ہوگی ۔ دوسری طرف اگر ایک غیر مسلم عورت ہے تو وہ کس لئے اسلامی احکامات کی پابندی کرے گی؟
کیا مرد حضرات کو عورت کے علاوہ مردوں کو دئے گئے احکامات نظر نہیں آتے؟ پردے پردے کا بڑا شور مچاتے ہو لیکن مرد کو نظریں نیچی رکھنے کے احکامات تم کو مزاق لگتے ہیں کہ پہلی نادانستہ طور پر پڑی نظر کی معافی ہے لیکن دوسری رانستہ نظر کی پکڑ ہوگی۔ عورت اگر اللہ کے احکامات کی نافرمانی کر رہی ہے تو وہ خود اللہ کو جوابدہ ہے اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو۔ اور پھر مذہب کو بھی نکال دیجئے۔ کیا تمہارا انسانی اخلاق اور ضمیر تم کو یہ سب کرنے کی اجازت دیتا ہے یا تم جانور بن گئے ہو۔
اپنے اپنے گھروں میں لڑکیوں سے زیادہ دیکھئے کہ لڑکوں کی کیا تربیت کی جارہی ہے۔ ایک طرف ہم ٹک ٹاک پر فحاشی اور بے راہ روی کو عام کررہے ہیں دوسری طرف ہم معاشرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
آپ ٹک ٹاک ، لائکی، سنیک وڈیو، بیبولائیو، سٹریم کر، اور سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی کردار سازی کے لئے کوئ مثبت و تعمیری عمل کررہے ہیں یا لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ چٹک مٹک کر اور ذومعنی فحش جملوں سے جذبات برانگیختہ کررہے ہیں؟ اور جب آپ کے ساتھ کچھ غلط ہوجائے تو اس کا الزام معاشرے پر تھوپ دیا جاتا ہے۔ کیا معاشرہ مجھ سے اور آپ سے الگ کوئ چیز ہے؟

یہ سب کچھ اتنا گنجلک گھمبیر اور پیچیدہ ہوگیا ہے کہ سر درد کرنے لگتا ہے کہ آخر کیا کیا جائے؟

اس کا بہت سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اگر معاشرہ بیمار ہے اور فی الحال اس کا علاج نہیں ہے تو خود تو احتیاط کیجئے۔
کورونا سے بچنے کے لئے کیا ہم SOPs پر عمل نہیں کرتے؟ ہم جانتے ہیں کہ اس کا فی الحال فوری علاج نہیں تو ہم ماسک بھی لگاتے ہیں ، ھینڈ سینیٹائزر بھی استعمال کرتے ہیں، سماجی فاصلہ بھی رکھتے ہیں اور غیر ضروری طور پر باہر آنے جانے سے بھی پرھیز کرتے ہیں۔
یہ ٹک ٹاکر خاتون پاکستانی معاشرے اور مردوں سے بہت اچھی طرح واقف تھیں اور ہیں۔ تو کیا ان پر SOPs کی پابندی لاگو نہیں ہوتی تھی؟ ارے جناب ایسی بھیڑ بھاڑ اور طوفان بدتمیزی میں تو شریف مرد بھی جانے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں چہ جائیکہ ایک لڑکی ہزاروں کے مجمع میں اکیلی گھس جائے۔
باقی آپ جن مفروضوں کی بات کررہے ہیں کہ اکیلی لڑکی جس کا کوئ محرم نہ ہو جس کے پاس گاڑی نہ وہ کیا کرے؟ جناب یہ خاتون نہ تو اکیلی تھیں اور نہ بغیر گاڑی کے۔ یہ صرف اور صرف اپنے ٹک ٹاک کے چکر میں اس مجمع میں گھس گئیں۔ کیونکہ ہر ٹک ٹاکر کا صرف ایک ہی مقصد خواب اور نصب العین ہے اور وہ یہ کہ کچھ نہ کچھ ایسا بن جائے کہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھولیا جائے۔ اس کوشش میں تو یہ لوگ اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور نہ جانے کتنے کچھ نیا اور انوکھا کرنے کے چکر میں اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تو ان خاتون نے بھی کچھ ایسا ہی رسک لیا۔
آپ معاشرے کا چلن اور قانون کی کمزوری دیکھ رہے ہیں ۔ آپ نہ معاشرہ بدل سکتے ہیں اور نہ قانون سے بازپرس کرسکتے ہیں۔ صرف اپنے طور پر ہر احتیاط برت سکتے ہیں۔ کراچی میں سنیچنگ عام ہے۔ اس قدر کہ آپ اگر شہر میں دو کلومیٹر پیدل چل رہے ہیں تو 50% چانس ہے کہ اچانک پیچھے سے بائیک پر سوار بندے آئیں گے اور آپ کو گن دکھا کر آپ کا فون اور بٹوہ لے کر چلے جائیں گے۔ یہ سب کچھ اتنا زیادہ اور عام ہے کہ کراچی کے اکثر لوگ جن کے پاس اپنی کار وغیرہ نہیں ہے وہ گھر سے باہر نکلتے وقت اپنا قیمتی سمارٹ فون ساتھ رکھنے کے بجائے دو ڈھائ ہزار والا سستا موبائل اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ اگر سنیچرز کا سامنا ہوجائے تو زیادہ نقصان نہ ہو۔
اب کیا میں یہ سب جانتے بوجھتے بھی اپنا قیمتی موبائل فون اور بٹوے میں بھاری رقم رکھ کر کراچی کی سڑکوں پر واک شروع کردوں کہ یہ میرا قانونی حق ہے میں آزاد ہوں۔ قانون اور معاشرے کو تبدیل ہونا چاہئے ۔ ریاست کیا کررہی ہے؟ ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی وغیرہ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں 74 سال سے کوئ بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا۔ ملک میں انون نافذ کرنے کی ذمہ دار پولیس خود سب سے بڑی کرپٹ اور قانون شکن ہے۔ یعنی آپ فی الحال ایک لاعلاج معاشرے میں جی رہے ہیں۔
لاعلاج بیماری سے بچنے کے لئے SOPs پر عمل کرنا ہی پڑتا ہے۔
یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے تقریبا” ہر ملک میں ایسا ہوتا۔ انڈیا میں ایک تامل فلموں کی ھیروئن اسی طرح ایک مجمع میں پھنس گئ تھی۔ اس کا حشر ان ٹک ٹاکر محترمہ سے بھی زیادہ خراب ہوا تھا۔
میں آپ سے شرط لگا کر کہتا ہوں کہ ہزاروں مردوں کے مجمع میں صرف ایک جوان عورت اگر پھنس جائے تو دنیا کے اکثر ممالک میں اس کے ساتھ 90% یہی سلوک ہونے کے چانسز ہیں۔
کیا آپ سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا پر معاشرے کو گالیاں دے کر شور مچا کر اس کو سدھار لیں گے؟ کیا ہم صرف یہ ہونا چاہئے وہ ہونا چاہئے قانون کو ایسا ہونا چاہئے قانون کو ویسا ہونا چاہئے کرکے سب ٹھیک کرسکتے ہیں؟ یہاں تو معاشرے کی تعلیم و تربیت کرنے والے تعلیمی اداروں اور دینی مدارس تک میں شرمناک حرکتیں ہورہی ہیں۔ آپ لاکھ احتجاج کیجئے،
مجمع پر تو شیطان چھایا ہوا ہے اور وہ بدمست ہے مدہوش ہے۔ اس کو اپنی عاقبت کی کوئ فکر نہیں۔ لیکن آپ تو ذی ہوش ہیں۔ آپ کو تو عقل ہے۔ جانتے بوجھتے کتوں کے کمپاؤنڈ میں کون چھلانگ لگاتا ہے؟
یہاں اکثر لوگ یہ تاویل و حجت پیش کررہے ہیں کہ جی یہ تو بے پردہ تھی لباس مناسب نہیں تھا لیکن جو عبایا والی ہوتی ہیں وہ بھی محفوظ نہیں، جو کمسن بچیاں ہیں وہ بھی محفوظ نہیں گھروں میں خواتین محفوظ نہیں قبر میں مردے محفوظ نہیں حتی کہ کھوتی اور بکری تک محفوظ نہیں۔ تو میرے بھائ معاشرے کی یہ حالت دیکھتے ہوئے تو مزید احتیاط لازم بنتی ہے کہ جہاں قبر کی مردہ عورت تک محفوظ نہیں وہاں زندہ عورت کیسے کیا سوچ کر ہزاروں کے مجمع میں داخل ہوسکتی ہے؟ ایسے معاشرے میں تو بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانا چاہئے۔ آپ تھرما میٹر کا درجہ حرارت کا خطرے کے نشان سے اوپر پارہ چڑھا دیکھ رہے ہیں تو کیا اس کے باوجود خود باہر نکل کر 55 ڈگری سینٹی گریڈ کا تجربہ کرنا چاہیں گے! کیا پانی کی گہرائ کے خطرے سے اوپر نشان دیکھنے کے باوجود آپ خود اس پانی میں اتر کر گہرائ چیک کرنا چاہیں گے؟
کتنا ہی چیخ لیجئے کتنا ہی چلا لیجئے کتنا ہی احتجاج کرلیجئے کتنی ہی لعنت ملامت کرلیجئے۔ معاشرہ تو نہیں سدھر رہا، بیماری دن بدن بڑھتی جارہی ہے نہ ہی علاج کا پتہ چل پارہا ہے تو پھر واحد حل SOPs پر عمل کرنا ہی رہ جاتا ہے۔
ساجد عثمانی

@sajidusmanismani01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: