پاکستان سٹیل مل کا مستقبل

‏پاکستان اسٹیل مل بارے خوشخبری…!!!

چینی کمپنی باو اسٹیل نے پاکستان اسٹیل مل لیز پر حاصل کرنے کے لیے 1.5 بلین ڈالر کی آفر دی ہے. لیز کا دورانیہ 30 سال ہوگا. پہلے سال پیداوار 1 ملین ٹن جبکہ تیسرے سال سے 3 ملین ٹن ہوگی. گھر بیٹھ کر تنخواہیں لینے والے کمپنی کے 5 ہزار ملازمین ‏بھی معاہدے میں شامل ہونگے. 51 سے 70 فیصد شئیرز چینی کمپنی اور بقیہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہونگے. مل کی کل 19 ہزار ایکڑ اراضی میں سے 1229 ایکڑ لیز ہوگی. حکومت پاکستان مارچ 2023 تک نجکاری کا عمل مکمل کریگی.

یاد رہے کہ باو اسٹیل کی ٹیم نے جون 22 میں اسٹیل ملز کا دورہ کیاتھا ‏اور اسے ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی ظاہر کی تھی. باواسٹیل چین کی دوسری بڑی جبکہ دنیا کی 5 بڑی اسٹیل مل ہے. سالانہ 180 ملین ٹن لوہا و اسٹیل بناتی ہے. آمدنی 80 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے. پاکستان کی اسٹیل و لوہے کی سالانہ کھپت 7 ملین ٹن ہے. کبھی وقت تھا کہ یہی اسٹیل مل چین کی ضرورت بھی ‏پوری کرتی تھی لیکن اب اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے سالانہ 4 ارب ڈالر کا آئرن اسٹیل چین سے درآمد کیا جارہا ہے.اپنی اسٹیل ملز کے بحال ہونے پر درآمدی لاگت بھی بچے گی اور برآمدی حجم بھی سیٹ ہوگا. پاکستان اسٹیل ملز 2015 سے بند پڑی ہے. پاکستان تحریک انصاف حکومت نے 9 ہزار ملازمین میں سے 4 ہزار کو.‏گولڈن شیک ہینڈ دیکر قومی خزانے پر بوجھ کم کیا تھا جبکہ عالمی کمپنیوں کو شئیرز فروخت کرنیکا کام شروع کیاتھا. 10 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی جن میں 2 چینی 2 روسی 2 امریکی 1 جاپانی اور برطانوی تھی.

گزشتہ حکومت روس سے گیس پائپ لائن کی تعمیر کا معاہدہ کرنا چاہتی تھی جسکی مالیت .‏3 ارب ڈالر بتائی گئی تھی. اسی تناظر میں روس اسٹیل مل بھی لینا چاہتا تھا کیونکہ یہ لگائی اسی نے تھی لیکن موجودہ حکومت نے 10 کمپنیوں میں سے 3 کو شارٹ لسٹ کیاہے جن میں باو اسٹیل بھی شامل ہے.

گزشتہ حکومت یقیناً داد کی مستحق کیونکہ انکا ایک اور اچھا اقدام تقریبا کامیاب ہونے والا ہے.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: