مسنگ پرسنز: تحریر محمد حارث ملک @HarisMalikzada

‏”مسنگ پرسنز ” ایک انگریزی کےدو الفاظ کا مجموعہ ہےجن کا اردو میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ، اس میں “مسنگ “کا مطلب ہے غائب ہونا یا گم ہونا اور” پرسن ” کا مطلب کو ئی انسان ، جس کا مجمجوعی مطلب بنا کہ کوئی گمشدہ یا غائب ہوئے انسان۔ اسی اصطلاح میں بات کی جائے تو “مسنگ ” کا استعمال جب کوئی انسان گم ہوجائے یا اغواء کر لیا جائے تو اشتہارات پر ڈھونڈنے کے لیے لکھا جاتاہے۔لیکن جب ہم “مسنگ پرسنز” کا جملہ سنیں یا ذکر کریں، پاکستان میں تو یقیناَ آپ کے ذہن میں ریاستی اداروں کے خلاف ایک جھوٹا پرپیگنڈا اور ملک بد نامی منصوبہ ہی آئے گا، کیونکہ یہ ایک اندرونی و بیرونی ملک مخالف طاقتوں کا پاکستان کی بدنامی کے لیے پوائنٹ سکورنگ منصوبہ ہے۔ دراصل اس کے پیچھے چھپی حقیقت کو تفصیلی ریسرچ کے بعد آپ کے سامنے رکھنا چاہتاہوں کہ حقیقتاَ مسنگ پرسنز پروپگنڈہ ہے کیا، اس کے پیچھے کون کون شامل ہے اور پروپگنڈہ کیوں کیا جاتا ہے۔ یہ جعلی مسنگ پرسنز پاکستان کی مختلف اقوام(قوم پرست شدت پسند) سے تعلق رکھتے ہیں جن کو دو حصوں میں تقسیم کریں گئے۔ 1۔ بلوچ، پشتون، سندھی اقوام گروپ 2۔ شیعہ کمیونٹی گروپ1)۔1991ء کی سویت یونین کی جنگ کے اختتام کے بعد افغانستان پر افغان طالبان کے مکمل کنڑول کے بعدتحریکِ طالبان پاکستان نے پاکستان پربھی افغانستان طرز پر اسلامی حکومت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ، عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے شروع کردیے اور ساتھ ہی افغانستان میں افغان طالبان اور افغان فوج کے درمیان خانہ جنگی چل رہی تھی اسی تناظر میں9/11 حملے کے بعد 2001ء امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا جوکہ افغان طالبان کو کمزور کرنے کے لیے تھا، نیز تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں کی وجہ سے امریکہ کے پریشر میں پاکستان کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گودنا پڑا۔ یک دم حملوں کی وجہ سے افغان طالبان وتحریکِ طالبان پاکستان مختلف ڈھڑوں میں تقسیم ہوگئے جو پہلے سے زیادہ پاکستان کےسخت خلاف ہوکر پاکستان میں جگہ جگہ خودکش و دہشت گرد دھماکے شروع کردیے جس کے سبب پاکستان کو 70 ہزار شہادتوں و کھربوں ڈالرز کا نقصان کا سامناکرنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کاساتھ دینے کی وجہ مجاہدین کے مختلف دھڑوں کی طرف سے حملوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کو کئی آپریشنز لانج کرنے پڑے، جن میں سے آکثر ناکام بھی ہوئے۔ بڑھتے حملوں کے سبب 2014 میں آرمی سکول میں حملے کی وجہ سے پاکستان کو پھر سے بڑا آپریشن ضربِ عضب شروع کیا جس نے دہشتگردی کی کافی کمر توڑی ، نیز مختلف دہشتگردوں دھڑے کمزور ہوکر مختلف علاقوں میں پھیل گئے جن میں اکثر افغانستان میں پناہ لےلی۔دہشتگردی کاذکر کریں اور وہاں بھارت کا نام نہ لیا جائے یہ تو بھارت کے ساتھ ناانصافی ہوگئی، کشمیر میں فریڈم فائٹرز سے ذلت انگیز مار کھانے کی وجہ سے اس کا الزام پاکستان پر ڈالتا رہا ہے ،جس کا بدلہ لینے کےلیے بھارت نے دہشتگردی کا سہارا لیا اور دہشتگردوں کے تمام بکھرے دھڑوں کو پاکستان کے مخالف ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے لیے ان دھڑوں کو بہتریں ٹریننگ ، اسلحہ دینے اور طاقتور کرنے کےلیے ان پر سرمایہ کاری کرکےاکھٹا کرنا شروع کردیے ۔ ان دھڑوں میں موجودہ دور میں TTP, BLA, BLF, BRP, BRF, PTM وغیرہ نام شامل ہیں، پاکستان سمیت سے ان تمام دہشتگروں کو افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ مل کت ٹریننگز کیمپس میں اکھٹا کیااور ان کو ٹریننگ دے کر پاکستان میں دہشتگردی کےلیے براستہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بھیجتا رہاہے، جس میں بھارت کی معاونت RAW, PTM, NDS کرتے رہیں۔ دہشتگردوں کے ان دھڑوں میں بلوچ، پشتون، سندھی قوم پرست کے شدت پسند شامل تھے جو 2001تا 2016 تک پاک آرمی آپریشنز میں اپنے اپنے علاقوں میں چھپہ گئے تھے ان تمام نے ٹریننگ مقصد کے لیے کافی عرصے تک افغانستان میں ٹریننگ کرتے رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی و واپسی نہ ہونے کی وجہ نے پاکستان کے اداروں پر زبردستی غائب کرنے کے الزامات لگا کرمسنگ پرسنز کے نام سے احتجاج شروع کردیے ، اس معاملے کو پاکستان مخالف انسانی حقوق کے علمبردار نے علمی سطح پر ISI کو بدنام کرنے کے لیے ایک جھوٹے پروپگنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں ، لیکن درحقیقت یہ مسنگ پرسنز کو آگے تین حصوں میں تقسیم کیا گیاہے:اول: اکثریت شدت پسندوں کی ،اس وقت پاکستان ، افغان طالبان کو نقصان پہنچانے لیے بھارتی کیمس میں ٹرینڈ ہورہی ہے ، جن کی موجودگی کا علم ان کے لواحقین کو بھی نہیں ہے، اور وہ سمجھے رہے ہیں کہ وہ ISI کے پاس ہیں۔دوم: وہ دہشتگرد جو پاک آرمی کے آپریشنز میں جہنم واصل ہوچکے ہیں، جن کی ہلاکت کا ان کو لواحقین کو نہیں ہے ، اور وہ بھی سمجھے رہے ہیں کہ وہ ISI کے پاس ہیں۔سوم: تھوڑی تعداد میں نہ ہونے کے برابر شدت پسند جو ریاستی اداروں اور ملکی املاک و عوام الناس پر خودکش حملوں میں ملوث ہونے پر ثبوت کی بنیاد پر تحقیق کے لیے ISI کے پاس موجود ہیں، جن کو عدالتوں میں تحقیق کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔اسی زمرے عالمی پریشر کے لیے ریاست مخالف طاقتیں ان کے لواحقین کو غلط معلومات دے کر گمراہ کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج کروا کر فائدہ اٹھارہے ہیں، لیکن ان لواحقین کو پتہ بھی نہیں ہے کہ ان کی شدت پسند اس وقت کہاں ہے۔دراصل وہ تو افغانستان میں غلط ہاتھوں میں ریاست پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث ہیں۔2)۔ شیعہ گروپ ، قوم پرست گروپ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کے شدت پسند جن کو اہلِ بیت کے نام پر جہاد کےلیے اکسا ہ کر بطور ایران و عراق کےمزارات پر زائرین کے بھیس میں RAW اور ایرانی اینٹیلیجنس کے ساتھ مل کر بلوچستان کے راستے عراق، شام ، فلسطین میں لڑنے کے لیے حزب للہ، کاتعیب حزب اللہ، جماعت الاحرار، القاعدہ وغیرہ کو پہنچائے گئے ہیں، جو امریکہ و اسرائیل و کویتی جنگوں میں مارے جاچکے وغیرہ ، جن کے لواحقین شیعہ مسنگ پرسنز کے نام سے احتجاج کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پاک آرمی کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ اس کٹھ جوڑ میں ایران بھی افغانستان کے ساتھ شامل ہے ، جو بھارت کو بلوچستان میں آنے جانے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے، جس کی مثال کلبھوشن یادیو ہےوغیرہ جاسوس جو ابھی بلوچستان میں بیٹھے سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی و ٹرینگ کرتے ہیں، جو ایران کی مدد سے ہی بلوچستان میں آتارہا ہے، اسی کے ساتھ بھارت ، ایران کو پاکستان کے شیعہ کمیونٹی کے شدت پسندوں کو حزب للہ و آیت خیمنیٰ کو فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام تر حقائق ہیں جو کیا پتہ پوشیدہ ہو لیکن یہی حقیقت ہےجوکہ میری پاکستان کے Current Affairs پر ریسرچ کا سب سے زیادہ غورو فکر کیے جانے والے معاملات میں سے ہے، لیکن میرے نزدیک یہ مسنگ پرسنز ایک فلمی / ڈرامائی سکریپٹ کے علاوہ پاکستان کےقانون نافذ کرنے والےادارے خاص کر پاک آرمی / ISI کی عالمی سطح پر بدنامی کے لیے ایک ناکام منصوبہ ہے، لیکن RAW/NDS آج تک پاکستان کا کچھ بگاڑ نہیں سکےہیں۔ اسی تناظر میں آگر آپ ان زندہ جعلی مسنگ پرسنز کو باریاب کروانے چاہتے ہیں جو افغانستان میں بھارتی دہشتگرد ٹریننگ کیمپس میں موجود ہیں، تو افغانستان کی موجودہ صورت حال کے مطابق اگلے 6 ماہ میں پورےا فغانستان پر افغان طالبان کے کنڑول کے بعد ان کیمپس کی صفائی کی صورت میں افغان طالبان خود ان جعلی مسنگ پرسنز کو زندہ سلامت رہاکریں، جس سے ان تمام انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تماچہ لگ جائے گا،تو یہ دوبارہ مسنگ پرسنز کا نام تک نہیں لیں گئے، حتیٰ کہ پھر یہ خود مسنگ ہوجائے گئے، لیکن اس کے لیے اپ کو انتظارکرناپڑےگا۔ ایک پاکستانی و مسلمان ہونے ناطے اللہ پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردوں اور غداروں سے پاک کردے اور پاکستان کو خوب تر قیاں و عروج عطاء فرمائیں ، اور دنیا میں ہماری پاک فورسز و ISI کا نام بلند رہے ، آمین!پنچاب زندہ باد ، سندھ زندہ باد ، خیبرپختونخواہ زندہ باد ، بلوچستان زندہ باد ، جموں کشمیر زندہ باد ، لداخ زندہ باد ، گلگت بلتستان زندہ باد اسلام زندہ باد – پاکستان زندہ باد پاک آرمی ،نیوی، فضائیہ زندہ باد آئی آیس آئی زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: