سستی گیس کی روسی آفر اور پاکستان

‏سستی روسی گیس کی آفر اور پاکستان

دی ریوٹرز کیمطابق پوٹن نے شنگھائی میں پاکستان کو گیس کی فراہمی پر رضامندی ظاہر کی ہے. اور کہا ہیکہ اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ انفراسٹرکچر بھی موجود ہے. یہ ایک شاندار آفرہے کیونکہ روس جو پورے یورپ کو گیس سپلائی کرتا ہے.

یوکرائن کے ساتھ جنگ کیوجہ سےاسکے ‏یورپ سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے ہیں اور پوٹن سپلائی بند کرنیکی دھمکی بھی دے چکےہیں. روس کومتبادل خریداروں کی تلاش ہے. ایسےمیں بھارت ،چین، افغانستان ،سری لنکا اور نیپال عالمی منڈی کی نسبت 50 سستی گیس کےمعاہدے کرنےمیں کامیاب ہوچکےہیں. پاکستان میں بھی گیس کی کھپت میں اضافہ جبکہ سپلائی ‏میں کمی ہورہی ہے.

ڈالرز کی کمی کے باعث خریداری میں بھی مسئلہ ہے. ایسے میں روس سے 50 فیصد سستی گیس کا ملنا کسی نعمت سے کم نہیں. روس سے قازقستان اور ازبکستان تک پائپ لائن پہلے سے موجود ہے. اس لئے صرف افغانستان سے بات کرکے گیس ازبکستان تک پائپ لائن اور آگے باوئزرز کے ذریعے پاکستان ‏لانا ممکن ہے. حکومت پاکستان کو اب امریکہ کے دباؤ میں آئے بغیر عوامی مفاد میں یہ آفر قبول کرنی چاہیے. کیونکہ پہلے ہی امریکی دباو کیوجہ سے ایران سے ہوا معاہدہ 2014 سے تعطل کا شکار ہے. جس پر ایران کئی بار پاسداری کی یاد دہانی کروا چکا ہے.
چین جو ہمارا سب سے قابل بھروسہ دوست ہےایران میں 330 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے. غیرملکی میڈیا نے جب سوال اٹھایا کہ پاکستان میں صرف 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری جبکہ ایران میں سینکڑوں ارب ڈالر ایسا کیوں؟ تو چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ پاکستان بہترین دوست ہے لیکن ایران میں ایک فون کال پر پالیسی تبدیل نہیں ہوتی.‏
تاپی منصوبہ جسکے تحت ترکمانستان سے گیس پائپ لائن بھارت تک جانی ہے وہ بھی امریکی خواہشات اور افغانستان کے سیکورٹی مسائل کے باعث 2017 سے تعطل کا شکار ہے.

گزشتہ حکومت نے اس سلسلے میں کچھ کوشش کی جسکے نتائج آنیکی امید ہے. گزشتہ حکومت نے آزربائیجان سے قطر کی نسبت سستی گیس کا معاہدہ ‏کرنا چاہا تو قطر نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے معاہدہ نہ ہونے دیا.
عمران خان روس کی جانب راغب ہوے تو امریکہ بہادر سخت ناراض ہوگیا اور عمران خان کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا. اب ایک بار روس کی آفر کا آنا موجودہ حکومت کے لئے کسی سخت امتحان سے کم نہیں. دعا ہے کفر کے بت اس بار ٹوٹ جائیں…..!!!

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

5 1 ووٹ
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: