ٹرانسجینڈر ایکٹ کیا ہے، آخر یہ ایکٹ متنازع کیوں ہے |جبلی ویوز

ٹرانسجینڈر ایکٹ پاکستان متنازعہ کیوں؟

معاشرے میں خواجہ سرا یا مخنث کے ساتھ رویہ انتہائی تلخ پایا جاتا ہے اس سے تو آپ سب واقف ہوں گے۔ معاشرے میں انہیں بدقسمت، اچھوت اور ناقابلِ رحم یا ناقابل قبول مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ کوئی بھی سوسائٹی، جماعت یا گھر ایسا نہیں ہوتا جہاں خواجہ سرا کو عزت بخشی جاتی ہو یا اسے آزادانہ زندگی جینے کی اجازت دی جاتی ہو۔
جس گھر میں خواجہ سرا پیدا ہو جائے اس گھر میں بھی اسکی عزت نہیں ہوتی اور نہ ہی دوسرے بچوں کی طرح اسے پیار دیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو تعلیم سے محروم، فیملی فنکشن سے محروم، اور رزق کمانے کے عزت والے سارے کاموں سے ہی دور رکھا جاتا ہے۔
یہ ساری سزا انہیں کس جرم کی پاداش میں دی جا رہی ہے کوئی بھی نہیں سوچتا۔ دراصل سوچ بھی لیں تو ان کا کیا قصور نظر آتا ہے؟ وہ تو پیدائشی طور پر ہی ایسی حالت میں پیدا ہوئے ہیں جیسے کچھ بچے پیدائشی طور پر سننے، دیکھنے یا بولنے سے محروم ہوتے ہیں۔
اب حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو انکے حقوق دلوائے تاکہ یہ لوگ بھی معاشرے میں عزت کی زندگی گزار سکیں۔ اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش میں اس وقت کی حکومت نے 2018ء میں ٹرانسجینڈر بل پاس کیا تھا جسے بعد میں ٹرانسجینڈر ایکٹ کہا جانے لگا۔ اب اس ایکٹ میں کچھ شقیں ایسی رکھی گئی ہیں جن پر جائز اعتراضات بنتے ہیں۔
جیسے کہ نام سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ ایک پوری کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہےجسےعرفِ عام میں ایل جی بی ٹی یعنی لیزبیئن،گے، بائی سیکسوئل اور ٹرانس جینڈرکہتے ہیں۔اس کمیونٹی کو خواجہ سراؤں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ 2018ءکے ایکٹ میں جنس کے تعین یا جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا ، اس میں خواجہ سرا کی قید بھی نہیں۔ یعنی کوئی بھی مرد نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس عورت کروا سکتا ہے اور کوئی بھی عورت مرد بن کر اپنا نادرا کارڈ بنوا سکتی ہے اور یہ محض خدشات نہیں بلکہ سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایک سوال کے جواب میں سینیٹ کو بتایا گیا کہ 2018ءکے بعد سے تین برسوں میں نادرا کو جنس تبدیلی کی قریباً 29ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 16530مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جب کہ 15154عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی۔ خواجہ سراؤں کی مجموعی طور پر 30درخواستیں موصول ہوئیں جن 21نے مرد کے طور پر اور 9نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ یہ ایکٹ مخصوص طبقہ کی پروٹیکشن کے بجائے ان مخصوص لوگوں کا آلہء کار بن گیا ہے جو معاشرے کی فحاشی اور بے راہ روی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
اب ظاہر سی بات ہے اس چیز کی تو کھلے عام اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ کوئی بھی مرد عورت بن کر عورتوں میں شامل ہو جائے، عورتوں کے فنکشن میں چلا جائے، خواتین کے بیت الخلاء میں پہنچ جائے اس سے معاشرے میں سدھار کے بجائے بگاڑ کا ہی خدشہ ہے۔
ایسی شقوں میں تبدیلی اور تصحیح کیلئے جماعت اسلامی کے ایک سینیٹر مشتاق احمد خان نے ترمیمی بل پیش کیا تاکہ ان تمام خدشات کو دور کر صحیح طور پر ایک ایکٹ بنایا جائے جس سے محروم لوگوں کو ان کا حق بھی حاصل ہو جائے اور ساتھ ہی کسی دوسرے کا حق بھی سلب یا خطرے میں نہ پڑے۔ مشتاق احمد صاحب نے مزید اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹرانسجینڈر کی کیٹیگری کا تعین بھی باقاعدہ مرد و خواتین کی ٹیم پر مشتمل میڈیکل بورڈ کریں کہ اس شخص کو مردوں کی شناخت دی جائے یا پھر عورتوں کی۔

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

5 1 ووٹ
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: