مینار پاکستان واقعہ تصویر کا دوسرا رخ تحریر آرجے ساجد عثمانی @sajidusmani01

‏‎ کیا عائشہ اکرم نے مینار پاکستان واقعہ اپنے ساتھی ریمبو کے ساتھ پبلسٹی اسٹنٹ کے طور پر پلان کیا تھا؟

پولیس کی تفتیش کا ایک نیا پہلو!‏‎مینار پاکستان پر متنازعہ واقعہ جس نے پاکستان کی بدنامی اور قومی غم و غصے کو جنم دیا اور پاکستان میں جنسی تشدد اور ہراساں کرنے کے بارے میں وسیع پیمانے پر عوامی بحث چھڑ گئی۔ ‏‎ نئی تفصیلات سامنے آنے کے ساتھ ہی تفتیش نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ، ملاقات کا پروگرام متاثرہ عائشہ اکرم نے خود ٹک ٹاکرز کی اپنی ٹیم کے ساتھ ، دوسرے ٹک ٹاکرز کے ساتھ مل کر فالورز کو بڑھانے کے لیے بنایا تھا جو ٹِک ٹاک کمیونٹی میں ایک عام رواج ہے۔ اس کی ٹیم کا ایک ممبر ، جو کہ ریمبو کے نام سے جانا جاتا ہے ، مبینہ طور پر اے آر وائی نیوز چینل پر نشر ہونے والے ٹی وی شو ’’ سر عام ‘

‘ کا رکن ہے۔‏

‎گریٹر اقبال پارک میں ایک سکیورٹی گارڈ کے بیان سے یہ بات سامنے آئی کہ عائشہ اکرم اپنی ٹیم کے ساتھ آزادی کے موقع پر اپنے مداحوں سے ملنے اور ان کا استقبال کرنے آئی تھیں۔ سیکورٹی گارڈ کے مطابق جب ہجوم نے اسے ہراساں کرنا شروع کیا تو عائشہ کو موقع سے فرار ہونے کا موقع ملا ، لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے وہاں سے نہ جانے کا انتخاب کیا اور دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک وہاں رہیں۔ بعد ازاں ، انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروانے سے انکار کر دیا

۔‏

پاکستان کا مثبت پہلو دکھانے والی غیرملکی لڑکی

‎ایک اور حقیقت یہ ہے ان کا گھیراؤ کرنے والوں میں ان کی ٹیم کے مرد ممبر بھی شامل تھے ، اور ان کی ٹیم کے ممبروں میں سے ایک جو کہ ریمبو کے نام سے جانا جاتا ہے وہ عائشہ کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا ہے

‎ایک اور ویڈیو میں ، عائشہ کی اپنی ٹیم کا ممبر اسے پکڑتا اور اٹھاتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے ، یہ وہی ٹیم ممبر جو عائشہ کے ساتھ بطور محافظ اقبال پارک آئے تھے۔ عائشہ کا بیان ہے کہ ان کو اٹھایا گیا اچھالا گیا جبکہ ان کو اٹھانے والا انہی کی ٹیم کا ممبر تھا اور وہ چاہتا تو عائشہ کو ہجوم سے نکال کر لے جاسکتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اگر عائشہ کی ٹیم کا یہ ممبر ان کو بچانے کے لئے آیا تھا تو وہ پہلے کیوں نہیں آیا اور اتنی دیر تک جبکہ مجمع عائشہ کے ساتھ دست درازی کررہا تھا تو وہ کہاں تھا؟کیا ان کی ٹیم کے مرد ممبران نے مجمع کو ایک خاص حد تک جانے تک کے لئے عائشہ کو اکیلا چھوڑ دیا تھا؟‏‎اس سے قبل

، عائشہ اکرم نے اپنے ساتھی ریمبو کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیوز بنائی تھیں ، جن میں ریمبو ان کو بالکل اسی طرح اٹھائے ہوئے ہیں جیسے چودہ اگست کو اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مینار پاکستان کے اسی منظر نے بہت سے لوگوں کو یقین دلایا کہ اس ہجوم نے ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا

، لیکن ان کو بازووں میں اٹھانے والا انہی کی ٹیم کا رکن نکلا۔‏‎دریں اثنا ، عائشہ اکرم کی انسٹاگرام پوسٹس نے کبھی اس بات کا اشارہ نہیں کیا کہ وہ مینار پاکستان میں جو کچھ ہوا اس کے بعد وہ صدمے سے گزر رہی ہیں۔ وہ 15 اگست کو بالکل پرسکون اور نارمل طریقے سے کبوتر گود میں لئے منا رہی تھیں جیسے ایک دن پہلے کچھ نہیں ہوا تھا۔نہ صرف یہ بلکہ 15 اگست کو وہ انسٹاگرام پر ایک دن پہلے ان کے ساتھ زیادتی اور شدید طور پر حراساں و دست درازی کرنے والے فینز سے پیار بھرے انداز میں ناراضگی اور شکوہ کرتی بھی نظر آئیں کہ جائیے میں آپ لوگوں سے بہت ناراض ہوں۔ اس کے بعد سولہ اور سترہ اگست تک بھی عائشہ کی طرف سے کوئ بھی کسی قسم کی شکایت یا شکوہ سامنے نہیں آیا۔‏‎مینار پاکستان میں ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد

، ان کو احساس ہوا کہ اب یہ معاملہ ٹرینڈ ہو رہا ہے اور انہوں نے پولیس کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ اقرار الحسن اور یاسر شامی نے ان کا انٹرویو کیا اور اس کے بعد ان کی وڈیو وائرل ہوگئ۔‏‎ٹی وی اداکارہ صنم چوہدری نے کہا کہ جب وہ عائشہ کو گھیرے ہجوم کی ویڈیو دیکھتی ہیں تو سخت دکھی اور خوفزدہ ہو جاتی ہیں ، لیکن انہیں یہ بات بھی بڑی عجیب لگی کہ عائشہ اس واقعے کے بعد اگلے دن انتہائ پرسکون اور نارمل تھیں اور یہ بات ان کے لئے بہت حیران کن ہے۔‏‎اداکارہ متھیرا نے انسٹاگرام پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ عائشہ اکرم نے اس مواقعے کو کیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ان کے چہرے پر کوئی دکھ یا صدمہ نہیں دیکھ پائیں۔‏

‎وقار ذکا جو ایک دن پہلے تک عائشہ کے واقعے پر انتہائ دکھی تھے اور ان کی شدید ترین حمایت کررہے تھے ۔ وقار نے عائشہ کو ان کے گمشدہ موبائل اور رقم دینے کی آفر بھی کی تھی۔ آج وقار نے انٹرنیٹ پر ٹویٹ میں اپنے شک کا اظہار کیا کہ مینار پاکستان واقعہ ایک پبلسٹی اسٹنٹ تھا اور وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں گے تاکہ سچ سامنے آئے اور اسے پاکستان کے وقار کا معاملہ قرار دیا جائے۔‏‎یہ کوئ معمولی واقعہ نہیں تھا اور اس معاملے پر بین الاقوامی طور پر پاکستان کی شدید بدنامی ہوئ جسے انڈیا نے اپنے میڈیا پر خوب اچھالا تھا۔ عائشہ کے ساتھی ٹک ٹاکر ریمبو بھی اپنے وڈیو میں پاکستانی مردوں کو شدید برا بھلا کہتے اور لعنتیں دے کر انہیں بے غیرت قرار دیتے رہے۔‏‎پنجاب پولیس نے یہ معلوم کرنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے کہ آیا پولیس نے 15 پر کی جانے والی کالوں کا جواب نہیں دیا یا کوئ اور معاملہ ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف تو عائشہ نے مدد کے لئے 15 پر دو مرتبہ کال کی لیکن واقعے کے بعد وہ چپ چاپ سیدھی گھر چلی گئیں اور پولیس کو رپورٹ تک نہیں کی۔ جیسا کہ عائشہ اور ریمبو اب الزام لگا رہے ہیں کہ عائشہ کو بے لباس کیا گیا اور دست درازی کی گئ تو یہ کوئ معمولی واقعہ نہیں ہے اور عائشہ یا ریمبو کو اس کی رپورٹ کروانی چاہئے تھی۔ عائشہ کی رپورٹ پر 400 مردوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور پولیس اس مجرمانہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے سرگرم عمل ہے.

بہر حال حقیقت اور حتمی نتیجہ تو پولیس کی تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا.

ساجد عثمانی. @sajidusmani01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: