کیا گلگت بلتستان اب بھی ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے؟؟ تحریر محمد حارث ملک

‏عنوان::: کیا گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا اب بھی حصہ ہے؟

نام:::Muhammad Haris MalikZada

ہینڈل::‎@HarisMalikzada

کالم :

سوال: کیا گلگت بلتستان آج بھی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے؟
نہیں نہیں!موجودہ وقت 2021ء میں بات کی جائے تو گلگت بلتستان ، ریاست جموں کشمیر کا حصہ ثابت نہیں ہوتا ، لیکن گلگت بلتستان ازخود پاکستان کا حصہ ہے اور حصہ رہے گا ، انشاللہ ، ریاست جموں کشمیر میں حصہ شمار نہیں ہوتا ہے کیونکہ 1947ء تقسیمِ برصغیر پاک و ہند سے پہلے 635ریاستیں تھی جن میں ایک مکمل ریاست جموں کشمیر(بشمول بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر ، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان) بھی شامل تھی جنہوں نے 14 اگست 1947ء تک پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ جس پر بھارت نے فوجی چڑھائی سے قبضہ شروع کردیا جس پر دو گروپوں میں جنگ شروع ہوگئی، ایک گروپ میں پاکستان آرمی اور دیگر مجاہدین گروہ شامل تھے نیز اس کے برعکس دوسرے گروپ میں بھارتی و جموں کشمیر کی فوج شامل تھی ۔ جنگ میں ہار واضح نظر آنے پر بھارت اقوامِ متحدہ میں ریاست جموں کشمیر کا معاملہ لے گیا جس پر اقوامِ متحدہ نے دونوں گروپوں کے مابین جنگ بندی کروادی اور یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں آج تک زیرالتوا ہے ۔ جنگ میں گلگت بلتستان کے بہادر اور جانثار مجاہدین نے دشمن قابض بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوادیے اور بھارتی فوج کو موجودہ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر تک پیچھے دکھیل دیا۔ اس جنگ کے نتیجہ میں ریاست جموں کشمیر میں سے گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے علاقے فتح و آزاد ہوگئے ۔ لیکن گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر کا حصہ نہ ہونے کے ٹھوس ثبوت دیتا جاؤں کہ یکم نومبر 1948ء کو گلگت بلتستان کی عوام کے مطابق انہوں نے قابض بھارتی و ہری سنگھ کی فوج سے آزادی حاصل کرلی تھی اسی لیے گلگتی عوام ہر سال 1948ء سے آج تک آزادی کا دن مناتے ہیں ، لیکن اسی کے ساتھ گلگت بلتستان کی عوام پاکستان کا ساتھ بطور صوبہ شامل ہونا چاہتے تھے اور چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی عوام خود تسلیم کرتی ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان کا حصہ ہے اسی لیے گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ دیا جائے ۔
گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ نہیں قرار دینے کی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے صوبہ کا درجہ نہ دیے جانا ہے کیونکہ 1948ء میں بھارت کی ریاست جموں کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لےجانا کی وجہ سے سیکیورٹی کونسل کی قرارداد پوری 1947ء کی ریاست جموں کشمیر پر لوگو ہوتی ہے لیکن بھارت نے 05 اگست 2019ء کو قرداد کی خلاف ورزی کرکے پوری ریاست جموں کشمیر کو اپنے نقشہ میں شامل کر لیا ہے بلکہ اس کے برعکس پاکستان اس قررداد کا پاس رکھتے ہوئے خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اور گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ نہیں دے سکتا ہے کیونکہ اگر جب بھی کبھی استصوابِ رائے ہو تو سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق پوری ریاست جموں کشمیر کے نقشے کے مطابق بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر ، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہوگی ۔ لیکن گلگت بلتستان کی پوری عوام پاکستان کا ساتھ شامل ہونا چاہتی ہے اسی لیے پاکستان کو بھی گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ دے دینا چاہے ۔ اسی کے ساتھ کوئی دفعہ آزاد جموں کشمیر کی عوام بھی کہتی ہے کہ گلگت بلتستان ، جموں کشمیر کا حصہ ہے جس سے گلگتی اور کشمیری عوام میں انتشار پھیلتا ہے لیکن دراصل آزاد جموں کشمیر کی گورنمنٹ نے خود گلگت بلتستان کو انتظامی کنڑول پاکستانی وفاقی حکومت کے سپرد کردیا تھا جس سے ثابت ہے کہ گلگت بلستان ، جموں کشمیر کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اس پر سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کو لاگو ہونا نہیں چاہیے ۔
ریاست جموں کشمیر میں سے گلگت بلتستان ہو یا آزاد جموں کشمیر ہو یا بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر ہو یا بھارتی مقبوضہ لداخ سن 1948 ء ہو یا سن 2021 ء تمام کے تمام تر علاقہ پاکستان کے تھے ، پاکستان کے ہیں اور تا قیامت پاکستان کا ہی حصہ رہے گئے ۔ انشااللہ ، وہ وقت دور نہیں جب ہم بھارتی مقوضہ جموں کشمیر کی آزادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گئے اور پوری ریاست جموں کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان میں بطور دو صوبہ کے شامل ہوجائے گئے ۔ آمین۔ انشااللہء !
پاکستان زندہ باد
جموں کشمیر زندہ باد
گلگت بلتستان زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: